1

کسی غمگسار کی محنتوں کا

محمد

کسی غمگسار کی محنتوں کا یہ خوب میں نے صلہ دیا

کہ جو میرے غم میں گھلا کیا اسے میں نے دل سے بھلا دیا

جو جمال روئے حیات تھا، جو دلیل راہ نجات تھا

اسی راہبر کے نقوش پا کو مسافروں نے مٹا دیا

میں تیرے مزار کی جالیوں ہی کی مدحتوں میں مگن رہا

تیرے دشمنوں نے تیرے چمن میں خزاں کا جال بچھا دیا

تیرے حسن خلق کی اک رمق میری زندگی میں نہ مل سکی

میں اسی میں خوش ہوں کہ شہر کے دروبام کو تو سجا دیا

تیرے ثور و بدر کے باب کے میں ورق الٹ کے گزر گیا

مجھے صرف تیری حکایتوں کی روایتوں نے مزا دیا

میرے تیرا شکریہ کروں کس زباں سے بھلا ادا ؟

میری زندگی کی اندھیری شب میں چراغ فکر جلا دیا

کبھی اے عنایت کم نظر! تیرے دل میں یہ بھی کسک ہوئی

جو تبسم رخ زیست تھا اسے تیرے غم نے رلا دیا ۔۔۔۔!!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں