1

پاکستان کے ” گونتانامو بے” کی تلخ حقیقتیں ..!!

q2

ابھی تو دل اس قیامت پر ہی نوحہ کناں تھا جو کوئٹہ میں آٹھ سو سے ایک ہزار کلو بارود کے دھماکہ کے نتیجے میں برپا ہوئی اورکتنی ہی انسانی جانیں لمحوں لقمہ اجل بن گئیں اور  اسی آگ نے پورے کراچی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا دو دن ہوچکے تھے اپنے ہی ملک اپنے ہی شہر میں محسور بےبسی کی تصویر بنے صرف خبریں سنتے رہے کہ اب فلاں جگہ آگ لگادی گئی اب تک اتنے لوگوں کو مارا جا چکا ہے کسی چینل پر فریاد کرتی سسکتی ہوئی وہ معصوم بچی جو پوچھ رہی تھی کہ ہمیں کیوں مار رہے ہیں ؟؟ مجھے لگا جیسے اس رب کا دربار لگا ہوا ہے اور حساب کتاب کا دفتر کھلا ہے اور زندہ گاڑی ہو ئی بچی سے پوچھا جا رہا ہے وہ کس جرم میں ماری گئی ۔۔۔۔ ؟ 

یقننا یہ بھی اک دن ہونا ہے اور یہی وہ دن ہوگا جب کوئی جابر اور ظالم نہیں بچ سکے گا آج سب کے قرض چکا دیے جائیں گے ۔۔۔۔

میری طرح نجانے کتنے ہی لوگوں کو اس بچی کے آنسووں سے پوچھے گئے سوالوں نے سونے نہیں دیا ہوگا مگر ان سوالوں کے جواب کہاں سے لائیں ؟؟

میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں؟
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں  دستانے

ابھی تو  میں خود کو اسی دکھ اور سوچ سے نکال نہیں پارہی تھی کہ یہ کیا تھا جو میری آنکھوں نے دیکھا اور پڑھا ۔

یہ ایک آب بیتی تھی کوئٹہ ڈگری کالج کے سابق طالبِ علم انتیس سالہ نصراللہ بنگلزئی اور اسکے گم شدہ چچا علی اصغر بنگلزئی کی جو نصراللہ بنگلز ئی کی اپنی زبانی ہے “

اس کہانی نے اس ملک کے ٹھیکیداروں کے اصلی چہروں کو سرعام بے نقاب کردیا ۔

جوں جوں میں ظلم و بے حسی کی اس داستاں کو پڑھتی جارہی تھی میری حالت غیر ہوتی جارہی تھی میری کیفیت ایسی تھی کہ گویا جیسے میرے جسم میں جاں نہ رہی ہو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اس داستان میں بیان کیا گیا درد میری روح تک کو زخمی کر گیا کئی بار میری انکھوں سے بہتے ہوئے آنسووں نے مجھے آگے پڑھنے سے روک دیا اوراحتجاجا میری راہ میں حائل ہوگئے تھے ہر لفظ دھندلا رہا تھا بڑی مشکل سے میں یہ پوری داستاں پڑھ سکی خود سے ایک جنگ کر کے ۔۔۔ صرف اس لیے کہ مجھے بھی اس کا قرض ا تارنا تھا اپنے قلم کے ذریعے ۔

یہ مراد کرناز کی وہ داستاں نہیں جو انہوں نے گوانتانامو بے میں ظلم و ستم کے 5 سال گزارنے کے بعد لکھی تھی نہ ہی یہ معظم بیگ کی درد بھری روداد ہے یہ 40 سالہ افغان باشندے عبدالرحیم کی آب بیتی بھی نہیں ہے جس نے گوانتا نامو بے میں اذیّت ناک 3 سال گزارے جی ہاں یہ قیدی نمبر چھ سو پچاس کی چیخوں سے گونجتی وہ اذیت ناک کتاب بھی نہیں جسے لکھنے والوں نے آنسووں سے لکھا تو پڑھنے والوں نے سسکیوں سے پڑھا نہ یہ ہی کسی ایسے قیدی کی کہانی تھِی جو غیروں کے ہاتھوںظلم کا نشان بنا ہو { اگرچہ ان سب کے پیچھے بھی انہیں اپنوں کی بڑی مہربانیاں شامل ہیں }

جی ہا ں اگر سن سکتے ہیں تو سنیے یہ آپ کے اور میرے محب وطن سالاروں اور محافظوں کے اپنے بنائے ہوئے گوانتاناموبے کی دردناک کہانی ہے جو خود کو اس زمین کا خدا سمجھتے ہی نہیں بلکہ فرعون کی طرح دوسروں کو بھی یہ باور کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ بس جو ہم ہیں وہ کوئی اور نہیں اور یہ کہ ہمارا ایک عام سا افسر بھی اس ملک خداد کے اعلیٰ ترین رتبے پر پر فائز ہے کہ جسے کوئی پوچھ گچھ نہیں کرسکتا وہ اس ملک کے سیاہ سفید کا مالک وہ جب چاہے جس کے گھر کا چاہے چراغ گل کردے اسکے کارڈ پر لکھے تین ایلفابیٹ اس کو اسکے ہر عمل کی کھلی چھوٹ دیتے ہیں ۔

آج” لاپتہ افراد ” کی اصطلاح سے کون ہے جو واقف نہیں ہوگا ۔۔؟ یہ تو اس بدنصیب ملک کی مشہور ترین اصطلاحات میں سے ایک ہے ۔۔۔ آہ ۔۔۔۔ کس قدر کرب پنہاں ہے ان دو لفظوں میں اس کرب کی شدت اگر محسوس کرنا چاہیں تو جائیں کسی روز عافیہ صدیقی کی ماں سے ملیں جو اپنی بیٹی پر دس برس سے ڈھائے جانے والےمظالم کی داستان سن سن کر ایک زندہ لاش نظر آتی ہے ،

عافیہ کے معصوم بچوں سے ملیں جن سے انکی ماں کی شفیق آغوش چھین لی گئی یا پھر آمنہ مسعود جنجوعہ سے ملیں جن کے زندگی کے ساتھی کو لاپتہ کیے بھی اب تو ایک عشرے سے ذیادہ ہو چلا {اور ابھی کچھ دن پہلے یہ خبر بہت ساری خبروں میں دب گئی کہ ڈاکٹر مسعود جنجوعہ کی بوڑھی ماں برسوں سے بیٹے کی راہ تکتے تکے آخر کار رب کے پاس اپنا مقدمہ درج کروانے چلی گئیں مجھے یقین ہے یہ مقدمہ ضرور درج ہوا ہوگا کیوں کہ میرا وہ مہربان رب کسی کے ساتھ بے انصافی نہیں کرتا } آمنہ مسعود شاید اپنے گھر پر نہ سہی مگر وہ آپکو کسی جگہ کیمپ میں {سینکڑوں لاپتہ افراد کے لواحقین کے ہمرا ہ اپنے پیاروں کا قصور تلاش کرتے ہوئے } مل سکتی ہیں کہ اب ان کی زندگی کا مقصد ہی یہی بن گیا ہے ۔

اور اگر ان دو لفظوں کی اذیت سہنے والوں کو دیکھنا چاہتے ہیں تو جائیں روہیفہ بی بی کی قبر پر جا کر ان کی موت کا سبب پوچھیں  جو ان کی اذیت کو سہہ نہ سکی اور اپنی زندگی کی بازی اس وقت ہار گئی جب ان کے تین بیٹوں عبدالصبور، عبدالماجد اور عبدالباسط میں سے ایک کو مار دیا گیا اور دو کی حالت زار ماں سے دیکھی نہ گئی اور وہ ان الفاظ کے ساتھ اپنے رب کی عدالت میں پیش ہونے چلی گئی کہ ” یہ سب جھوٹ ہے، اللہ کے آگے یہ بھی قسم کھائیں، قیامت والے دن ان کو چھوڑوں گی نہیں، پیروں پیغمروں پر بھی ایسی ہی گذری جیسے ہم پر گذرتی ہے، اللہ ان کو تباہ کرے گا۔میرا بیٹا صبور شہید ہوگیا ، باسط اور ماجد بہت بیمار ہیں‘ گزشتہ سال ستمبر میں اپنے بیٹوں سے حراست کے دوران ملاقات کو یاد کرتے ہویے بی بی نے کہا ’دو کی حالت خراب تھی اور ایک بالکل ٹھیک تھا اور اسی کو انھوں نے شہیدکردیا۔”

یہ بدنصیب ماں کے تینوں بیٹے ان گیارہ افراد میں شامل تھے جن کو اس ملک کے محافظوں نے بغیر کسی ثبوت کے ایک عرصہ دراز تک ذیر حراست رکھا اور جب سپریم کورٹ کے حکم پر رہا کرنا پڑا تو انہیں مئی دو ہزار دس کو راولپنڈی میں واقع اڈیالہ جیل کے باہر ہی سے سادہ کپٹروں میں ملبوس لوگ اٹھا کر لے گیے تھے” کون نہیں جانتا کہ یہ سادہ کپڑوں ملبوس فرشتے کون ہوتے ہیں ۔۔۔۔ ان گیا رہ میں سے چار افراد زیر حراست ہی اپنی جان کھو بیٹھے اور مجھے یہ بھی بتانے کی ضرورت نہیں کہ زیر حراست مرنے والے کیسے مرا کرتے ہیں ۔۔

اور اگر ہمت ہے تو پڑھیں نصراللہ بنگلزئی کی اپنے لاپتہ چچا کی تلاش میں غیروں کے نہیں بلکہ اپنوں کے ہاتھوں اٹھائے گئے ان دکھوں کی درد ناک داستاں جس میں ہر ایک سطر اپنا نوحہ خود سناتی ہوئی نظر آتی ہے ۔۔۔ یہ ایک نصراللہ نہیں یہاں پورے ملک کے کونے کونے میں آپ کو سینکڑوں ایسے نام ملیں گے جن کی دردناک داستانیں پڑھ کر آپ کی راتیں بستر پر کروٹیں بدلتے گزر جائیں گی اور جن کے دکھ آپ کے تکیوں کو بھگو دیں گے جب کارواں اپنے ہی پاسبانوں کے ہاتھوں لٹنے لگیں تو زبانیں نہیں آنکھیں اور دلوں سے نکلی ہوئی آہیں دہائی دیتی ہیں جو رب کے دربار میں کبھِی رائیگاں نہیں جاتیں ۔

آشنا ہاتھ ہی اکثر میری جانب لپکے

میرے سینے میں صدا اپنا ہی خنجر اترا

جب محافظ لٹیرے بن جائیں اور جو جتنا بڑا لٹیرا اور غدار وطن ہو وہ اتنا ہی آقا کا منظور نذر کہلائے گا اور وفاداریاں نبھائے گا اس کے اوپر جانے گے اتنے ہی امکانات بڑھ جائیں گے جس کا منہ بولتا ثبو ت آج ہمارے ایک اہم ادراے کے سربراہ خود ہیں کون نہیں جانتا کہ مشرف کے بھیانک دور میں جب مسلمان ہونا جرم ٹھرا تھا جب ” لاپتہ افراد “ کی ایک نئی اصطلا ح کانوں میں پڑی تھی جب ایک جانب خود اپنے ہی افراد کو چند ڈالرز کے عوض بیچا جا رہا تھا تو دوسری جانب ڈرون حملوں کی اجازت دے بستیوں کی بستیاں اجاڑ دینے کا پرمٹ دے دیا گیا تھا اور آقا کی خوشنودگی میں کیا کچھ نہ قیامت ڈھائی گئی جس کی دردناک یادیں آج بھی کسی ناسور کی طرح دکھتی ہیں جامعہ حفصہ کی معصوم بچیوں کو کئی دن بھوکا پیاسا رکھنے کے بعد ایسے کیمیکل کے ذریعے ان کا نام و نشان مٹا دیا گیا تھا جس کو خظرناک اور بدترین دشمن پر بھی استعمال کرتے ہوئے سو سو بار سوچا جائے ۔

اس وقت مشرف کے تمام کارناموں میں دائیں بازو کا کردار ادا کرنے والے اور آئی ایس آئی کے چیف یہی موصوف تھے { اور جن کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا کہ ان موصوف نے وہاں سے اپنے سفر کا آغاز کیا ہےجہاں مشرف کے بھی پر جلتے تھے } جن کے ہاتھوں پر عافیہ صدیقی اور ڈاکٹر مسعود سمیت سینکڑوں بے گناہوں کا لہو ہے اور وہ دن دور نہیں جب ان بے قصور لوگوں کا یہ لہو روہیفہ بی بی کے آہیں ، عافیہ کی دلخراش چیخیں ، جامعہ حفصہ کی بچیوں کے جلے ہوئے اعضاء اور علی اصغر کے زخم نصراللہ کے دکھ انکے گلوں کا طوق بنے گے اور ان سب خداوں کو میرا رب عبرت کا نشان بنائے گا کہ اس کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں وہ ظالم کی رسی دراز تو کرتا ہے مگر یہ رسی کھینچنے پر آتا ہے تو اک لمحہ نہیں لگاتا اور ہر دور کے فرعونوں اور نمرودوں کا انجام رہتی دینا تک کے لیے ایک عبرت بنا دیتا ہے چاہے وہ صدام حسین کی شکل میں ہو یا قذافی کی صورت میں جو اپنے اسی آقا کے بہت وفادار سمجھے جاتے تھے جنہوں نے ایسے ہی خود کو زمیں کا خدا سمجھ لیا تھا مگر دنیا نے ان کا بھیا نک اور ذلت آمیز انجام دیکھا اور انکی آماجگاہیں خود ان کے لیے اک عبرت کدہ بن گئیں ۔ مجھے لگا یہاں بھی بس اب وہی سب ہونے کو ہے کہ اگر دوسروں کے انجام دیکھ کر بھی کوئی عبرت نہ حاصل کرےتو پھر انتظار کیجیے رب کے اس فیصلے کا جو آیا ہی چاہتا ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

6 تبصرے “پاکستان کے ” گونتانامو بے” کی تلخ حقیقتیں ..!!

  1. Missing Persons ka Issue Drones ya kisi dhamakay sa marnay walon sa zada important ha 911 k baad ki dunya ma yeh istalah ejaad hui ha aor jin logoon ki khatir yeh ejaad hua un societies in cheezoom ka tassawur bhi nahi kea jasakata
    buhat acha article buhat important issue pa.JazakALLAH Khair

  2. افسوس کچھ لوگ ایسی تلخ حقیقتوں کو بھلا کر آج بھی اس غدار اسلام و غدار وطن کو سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں شائد وہ ان خاموش آہوں اور سسکیوں کو محسوس نہیں کرتے ، آپ نے یہ احساس دلانے کی کوشش کی ہے اللہ آپ کی مدد کرے اور بہترین جزا دے اور اس قوم کو حالات کو بروقت سمجھنے کی توفیق دے

  3. السلام علیکم ، یہ تحریر پڑھ کے ، یا واقعات کے تسلسل سے ایک فلم کی مانند آنکھوں کے آگے آتے اندھیروں نے اتنا پریشان کر دیا . کہ لگتا ہے کہ میں بھی ”اس پاکستان ” کا ذمہ دار ہوں . کسی نہ کسی طرح میں خود کو مظلوموں کی ان چیخوں کا کارن سمجھتا ہوں .

    ” میں ” ایک پاکستانی ہوں . جب تک اس ملک کی تقدیر سے کھیلنے والوں کا ہاتھ نہیں روکوں گا ، میں ہر ظلم میں شریک رہوں گا .

  4. اگر ان کے انجام دیکھ کر بھی کوئی عبرت نہ حاصل کرےتو پھر انتظار کیجیے رب کے اس فیصلے کا جو آیا ہی چاہتا ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  5. بہت خوب۔ہماری قومی عادت ہے کہ اہم نقصان کو آنکھیں بند کرکے بھول جاتے ہیں،حالانکہ اس جیسے واقعات بھولنے کے نہیں بلکہ خون کے آنسو بہانے کیلئے ہوتے ہیں۔

    وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
    کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا۔

    اسی سلسلے کی ایک چھوٹی سی کاؤش بندہ ذیل کو دو کالموں میں کرچکا ہے۔

    http://darveshkhurasani.wordpress.com/2013/01/18/pak-ki-napaki/

    http://darveshkhurasani.wordpress.com/2013/01/26/pilot-answer/

اپنا تبصرہ بھیجیں