شہر تو میرا لہو لہو ہے !

abas

اتوار کی چھٹی کی وجہ سے گھر میں خاص پکوان کی تیاری جاری تھی ، نماز مغرب ہوئی اور ایک زوردار دھما کے نے پل میں سارا منظر ہی بدل دیا ۔

روتے سسکتے لوگ ، کھنڈر ہوئے مکان اور دم توڑتے انسان ……..

کئی گھنٹوں تک جلنے والے فلیٹوں سے چیخ و پکار کی آوازیں آتی رہیں اور پھر وہاں زندگی نے دم توڑ دیا ،  کچھ کی خوش قسمتی سے جان تو بچ گئی مگر آشیانہ نہ بچ سکا ، ساری زندگی کی کمائی ، ایک ایک پیسہ جوڑ کر اکھٹا کر کے بنایا جانے والا آشیانہ یوں پل میں بکھر گیا انسانی اعضا بکھر گئے اور اسی وقت اقتدار اعلی منگنی کی تقریب کے مزے لوٹنے میں مصروف رہے۔۔۔۔۔

میری تین ساتھی اقرا سٹی اور رابعہ پیٹل میں ہی رہائش پذیر ہیں ، جس طرح ان کے گھروں کے شیشے ٹوٹے ، گھر والے لمحوں میں اپنی زندگی کی بازی ہار بیٹھے ہائے وہ کرب کس طرح بیان کروں، جو ماؤں نے اپنے جگر گوشوں کی لاشوں کو ڈھونڈنے میں اٹھایا ، جو ایک باپ نے اپنی بیٹی کی کٹی ہوئی گردن کو اس کے جسم کے بغیر دیکھ کے سہا ، وہ کرب جس نے ایک شخص کو ناصرف گھر سے محروم کر کے اسے تشویشناک حالت میں ہسپتال پہنچایا بلکہ اس سے اس کی بیوی اور نو ماہ کے بچے سے بھی محروم کر دیا.

پہلے نشانہ مساجد اور بازار بنے آج یہ عالم ہے کے گھروں پہ حملہ ، گوشت والا ، سبزی والا کوئی بھی تو محفوظ نہ رہا . نہ تجربہ کار لڑکوں نے اپنی مدد آپ کے تحت لاشوں کے ٹکرے کس حال میں جمع کئے ، کسی ماں نے اپنے ڈرائنگ روم میں بیٹھے میچ دیکھتے بیٹے کی خون سے لت پت لاش کو اپنی گود میں بھرتے ہوۓ اٹھایا وو دکھ میرا قلم بیان کرنے سے قاصر ہے .

ستم ظریفی تو یہ کے اقرا سٹی اور رابعہ پیٹل کی طرف ڈھائی گھنٹے تک کسی نے رخ نہ کیا ، اقتدار اعلی کی ہمدردی ٹی وی پہ چلنے والی ہیڈ لائنز تک ہی محدود رہی ، کوئی پرسان حال نہیں. کون یتیم ہوا ؟ کس نے بیوگی کا دکھ سہا کس ؟ اس دکھ تو بھلا یہ کیا جانیں ؟

بالائے ستم یہ کہ وہ لوگ جو بری طرح زخمی ہوئے ان کے گھروں کو اس حال میں بھی لوٹنے والوں نے نہ چھوڑا ان کے گھروں سے لوگ زیورات ، نقدی ، قیمی سامان لے اڑے ،ہم ہی راہزن بن گئے .

افسوس صد افسوس یہ ظلم کا کونسا مقام ہے ؟؟

جب قصاب بکریوں کو ذبح کرنے کے لئے لے جاتا ہے تو باقی بکریاں شکر ادا کرتی ہیں لیکن بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منا پاتی ہے .

. شاید آج یہی حال ہمارا بھی ہے اگر آج یہ تباہی عبّاس ٹاؤن میں ہوئی ہے تو کل کسی بھی علاقے میں ہو سکتی ہے . وہ لوگ جو ان کاروائیوں میں مصروف ہیں انکا کوئی مذھب نہیں . کچھ لوگ اب بھی اس کو شیعہ سنی فساد کا نام دے رہے ہیں ، لیکن یہاں تو سب ہی کے گھر لٹے سب ہی شہید ہوئے. تمام سیاسی جماعتیں اس وقت بھی اپنا ہی جھنڈا لہرانے میں مصرورف ہیں. میرا دل چاہتا ہے ان شرم سے بالاتر حکمرانوں کا گریبان پکڑ کے پوچھوں کے یہ کراچی پاکستان کی شہ رگ ہے ، پاکستان کا دل ہے .اگر کراچی برباد ہوتا ہے تو پاکستان کا دل بند ہوتا ہے ور اگر کسی کا دل بند ہو جائے تو زندگی بھی ختم ہو جاتی ہے. آخر انہیں کیوں سمجھ نہیں آتا کے وہ پاکستاں کو برباد کر رہے ہیں .

آخر وہ کونسی مخلوق ہے جو سینکڑوں کلوگرام بارودی مواد لے کر شہر میں داخل ہو جاتی ہے اور کسی کو نظر ہی نہیں آتی روزانہ کسی ماں کا لال جان کی بازی ہار بیٹھتا ہے اور پھر اس پہ وفاقی وزیر داخلہ کے بیانات ایک پھلجھڑی کا کام ہی انجام دیتے ہیں. وزیر داخلہ کو چاہئے کہ وہ وزیر اطلات کا عہدہ سنبھال لیں ، جب وہ اپنے فرائض پورے کر ہی نہیں سکتے. ان کو یہ بات سمجھ کیوں نہیں آتی کہ غیر مستحکم پاکستان عالمی قوتوں کے لئے کتنا موزوں ہے. اگر کراچی لہو لہو ہے تو پورا ملک اس سے متاثر ہے.

قرآن کریم کی سورہ الانعام کی آیات ٦٥ میں الله نے فرمایا

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعاً وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ انظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُون

“کہہ دو کہ وہ (اس پر بھی) قدرت رکھتا ہے کہ تم پر اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے یا تمہیں فرقہ فرقہ کردے اور ایک کو دوسرے (سے لڑا کر آپس) کی لڑائی کا مزہ چکھادے۔ دیکھو ہم اپنی آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھیں”.

روزانہ کی ٹارگٹ کلنگ ، بم بلاسٹ ،

الله تو بار بار راہ ہدایت دکھاتا ہے قرآن میں ، بار بار اپنے عذاب سے با خبر کرتا ہے لیکن ہم سمجھنے سے ہی قاصر ہیں ، اب بھی وقت ہے کے ہم سنبھل جائیں  ، ورنہ شاید ہمارا نام بھی نہ ہوگا داستانوں میں . ہمیں اس وقت اجتمائی توبہ اور صفوں میں اتحاد کی ضرورت ہے . پورا کراچی سوگ میں ڈوبا ہوا ہے اور بار بار ایک ہی سوال میرے ذہن میں آتا ہے

اجڑے رستے ، عجیب منظر ، ویران گلیاں، بازار بند ہیں ۔۔۔

کہاں کی خوشیاں ، کہاں کی محفل ، شہر تو میرا لہو لہو ہے ۔۔۔

وہ روتی ما ئیں ، بیہوش بہنیں ، لپٹ کے لاشوں سے کہ رہی ہیں ۔۔۔

اے پیارے بیٹے ، گیا تھا گھر سے ، سفید کرتا تھا سرخ کیوں ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟

الہٰی اس چمن کو اس پت جھڑ کے غم سے نجات دے .

ہم تھک چکے ہیں روزانہ لاشیں اٹھاتے رحم فرما اے الله رحم . { آمین}

دعاؤں کی طلبگار زوجہ غضنفر فرہاج

1 تبصرہ
  1. 6 March, 2013
    زوجہ غضنفر فرہاج

    Jazakillah for sharing it here behna ,. My words cannot explain their pain just a little try . ,

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *