لبرل فاشسٹوں کا المیہ – تضادات

“برما پر احتجاج کرتے ہو، اپنے ملک میں ہونے والے ظلم پر نہیں” ، ” دوسروں کو چھوڑو ، اپنے گھر کی فکر کرو” ، ” یہ امت مسلمہ کس چڑیا کا نام ہے”۔ یہ یا ان سے ملتے جلتے جملے آپ نے کئی دفعہ ٹی وی ٹاک شوز میں سنے ہوں گے اور ایسے خیالات اخبارات میں پڑھنے اور گاہے مختلف مجالس میں سننے کا موقع ملا ہوگا۔ بالعموم یہ نصیحتیں اس طبقے کی طرف سے سننے کو ملتی ہیں جو خود کو لبرل کہلواتا اور اسی میں فخر محسوس کرتا ہے۔ سوشل میڈیا نے ایک کمال یہ بھی کیا ہے کہ اب خیالات ڈرائنگ رومز تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس کے ذریعے سامنے آتے رہتے ہیں اور لبرل کہلوانے کی دوڑ میں آگے نظر آنے کے شوق میں ظاہر و باطن سب آشکار ہو جاتا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے میں کئی ملکوں میں انقلاب آئے ہیں اور اس پر لبرلز کے ردعمل نے ظاہر کیا ہے کہ وہ فکری طور پر اسلامسٹوں سے زیادہ آپس میں جڑے ہوئے ہیں، ان کا آپس میں رابطہ نہ بھی ہو تو اسلام اور اسلام پسندوں سے نفرت ان میں قدر مشترک کا کام دیتی ہے۔ کہیں پر اسلامسٹ آگے آتے ہیں تو ان کے چہرے مرجھا جاتے ہیں اور چہروں پر ویرانی جھلکنے لگتی ہے اور کہیں اسلامسٹ پیچھے کی طرف جائیں، ان کے خلاف احتجاج ہو تو ان کی باچھیں کھل جاتی ہیں، خوشی سے پھولے سماتے نہیں ہیں اور ان کے بس میں نہیں ہوتا کہ اڑ کر جائیں اور اسلامسٹوں کے خلاف دو تین نعرے ہی لگا آئیں۔ دونوں صورتوں میں “یہ اپنے گھر کی فکر کرو” کے درس کو بھول جاتے ہیں۔
مصر اور تیونس اور دیگر ممالک میں انقلاب آیا اور ایک طویل عرصے کے بعد آمریتوں سے نجات ملی اور جمہوریت کی طرف قدم بڑھا تو شخصی آزادیوں اور اکثریتی رائے کا احترام اور جمہوری نظام کے پرچارکوں کی حالت دیدنی تھی جیسے پھول بن کھلے مرجھا گیا ہو، جیسے امیدوں کا نخلستان اجڑ گیا ہو، جیسے وصل کی رات محبوب دم توڑ گیا ہو۔ پھر یہ ہوا کہ وہ جو اسلام پسندوں کو یاد دلا رہے تھے کہ اپنے گھر کی فکر کرو، اسلامسٹوں کی کامیابی پر زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے، وہ خود مصر اور تیونس میں جمہوری تبدیلی کے خلاف تبصروں میں آگے تھے اور دنیا کو یہ بتانے میں پیش پیش کہ اسلامسٹ آگئے تو قیامت آ جائےگی۔
مصر میں اخوان نے ایک سال سے کم عرصے مسلسل تین دفعہ [قومی انتخاب، صدارتی انتخاب اور آئینی ریفرنڈم] لبرلز اور سیکولر عناصر کو شکست سے دوچار کیا لیکن جمہوریت کا راگ الاپنے والوں نے اس کو تسلیم نہیں کیا اور اب تک نہیں کر رہے بلکہ فوج کو دعوت دے رہے ہیں کہ وہ آ کر اقتدار سنبھال لے۔ پاکستان میں جو لوگ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں بالخصوص ٹوئٹر تو وہ جانتے ہیں کہ لبرلز کی ٹائم لائن اس سے بھری ہوتی ہے، احتجاج پر تبصرے بھی اور مرسی اب گیا کہ تب گیا کی خواہش کا اظہار بھی۔ یہی وجہ ہے کہ اردگان یا مرسی کے حق میں لاکھوں کا مظاہرہ ہو تو وہ ہیڈلائنز تو کیا نیوز میں بھی جگہ نہیں پاتا لیکن ترکی میں چند سو بھی نکل آئیں تو پاکستان سمیت عالمی میڈیا کی ہیڈلائنز میں جگہ ملتی ہے۔
بنگلہ دیش اس تضاد اور دوغلے پن کی ایک اور مثال ہے۔ جب حسینہ واجد نے بھارتی سرپرستی میں جھوٹے مقدموں کے ذریعے جماعت اسلامی کی قیادت کو موت کے گھاٹ اتارنے کی سازش کی اور پھر جماعت کے خلاف شاہ باغ تحریک شروع کروائی گئی تو پاکستان میں لبرل فاشسٹوں کی خوشی دیدنی تھی بلکہ کچھ نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ “جناح کا اصل پاکستان تو بنگلہ دیش ہے” ۔ حسینہ واجد نے نہ صرف عدالتوں کے ذریعے جماعت اسلامی کو انتقام کا نشانہ بنایا بلکہ پر امن مظاہرین کا قتل عام کیا، یہاں تک کہ ایک مظاہرے میں دو ہزار سے زائد افراد قتل کر دیے گئے لیکن پاکستانی میڈیا اور لبرلز کی صفوں میں اس کے خلاف نہیں بلکہ حسینہ اقدامات کی تائید میں تبصرے سننے کو ملے اور انسانی حقوق کا راگ الاپنے والے اس پر نہ صرف خاموش بلکہ اس کو بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ کہہ کر آگے بڑھنے کی دعوت دیتے رہے۔ لیکن جیسے ہی ترکی اور مصر میں مظاہرے شروع ہوئے تو لبرلز کی ٹائم لائنز اور تبصرے دیکھنے سے تعلق رکھتے تھے۔ کہیں پولیس کا استعمال ہوا تو وہ جو قتل عام پر خاموش اور اسے اندرونی معاملہ بتاتے تھے، انھیں اسلامسٹ دنیا کی بدترین مخلوق نظر آنے لگے اور تبصرہ یہ کہ یہ ہیں اسلامسٹ جو لوگوں کو احتجاج کا جمہوری حق نہیں دیتے، یہ تو ہوتے ہی آمرانہ مزاج کے ہیں اور چیزوں کو زبردستی مسلط کرتے ہیں۔ اگرچہ مصر میں حکومتی طاقت کا استعمال نہیں ہوا، الٹا اخوان کے کارکن شہید اور دفاتر جلائے جا رہے ہیں۔ خود بنگلہ دیش میں سینکڑوں احتجاج کرنے والے شہید کر دیے گئے تو کوئی نہ بولا مگر جب ایک گستاخ رسول بلاگر کو کسی نے قتل کر دیا تو ہر طرف شور مچ گیا۔ اسی بنگلہ دیش میں اسلامسٹوں نے دو ملین کا جلوس نکالا لیکن کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہونے دی گئی، پھر گزشتہ دنوں عوامی لیگ چار بڑے شہروں میں بلدیاتی الیکشن ہار گئی لیکن ہرطرف خاموشی ہے۔ کوئی خبر کوئی تبصرہ سننے کو نہیں ملا۔
ترکی ایک اور مثال ہے جہاں سیکولر پارٹیاں ہر محاذ پر اردگان کے ہاتھوں مسلسل شکست سے دوچار ہوتی رہی ہیں لیکن اس کو تسلیم نہیں کر پا رہیں۔ گیزی پارک کے مسئلے پر احتجاج ہوا تو نہ صرف پاکستانی بلکہ عالمی میڈیا میں اسے شہہ سرخیوں میں جگہ ملی، ٹوئٹر پر موجود پاکستانی لبرلز کی ٹائم لائن بھی احتجاج کے حوالے سے آگاہی دیتی رہی اور تاثر یہ دیا گیا کہ عرب انقلاب کی طرح ترکی میں بھی انقلابی تحریک شروع ہو چکی ، اردگان کا تختہ بس الٹا چاہتا ہے لیکن حسرت ان غنچوں پر جو بن کھلے مرجھا گئے۔ اردگان تو اپنی جگہ موجود ہیں اور مظاہرین تتر بتر لیکن یہاں بھی تضاد سامنے آیا کہ چند سو مظاہرین کے مقابلے میں جب اردگان نے انقرہ اور استنبول میں لاکھوں کی ریلیاں نکالیں تو وہ خبر بھی نہ بن سکیں بلکہ احتجاج کے ضمن میں ایک خبر کے طور پر ہی جگہ پا سکی۔
جمہوری اصول یہ ہے کہ جو برسراقتدار آتا ہے وہ اپنی مرضی کی پالیسیاں بناتا ہے اور اسی کے مطابق ملک چلاتا ہے لیکن اسلامسٹ اگر برسراقتدار آ جائیں تو لبرلز اس اصول کو بھول جاتے ہیں اور انھیں اس کے پیچھے “خفیہ ایجنڈا” نظر آنے لگتا ہے۔ مسلم سرزمین پر قبضہ ہو، مسلمانوں کا قتل عام ہو تو گردان کرتے ہیں کہ اپنے گھر کی فکر کرو لیکن لبرلز کو کانٹا چبھے تو ان کے جسم میں درد کی ٹیسیں ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں۔ جنرل ضیا انھیں آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک تمام خرابیوں کی جڑ نظر آتا ہے لیکن مشرف کے ہم جولی بننے، ڈانس کی محفل سجانے اور اس کے لیے “میراثی” بننے میں انھیں ذرہ برابر عار محسوس نہیں ہوتی اور اب اس کو بچانے کے لیے طرح طرح کی تاویلیں پیش کر رہے ہیں۔ یہ اور ان جیسے کئی گہرے تضادات ہیں، لبرلز جن کا شکار نظر آتے ہیں۔ اور اس پر خیال نما مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ ان کو سر آنکھوں پر بٹھایا جائے اور “انسانیت و انسانی حقوق” کے لیے خدمات کا اعتراف کیا جائے۔ یہ دوغلا پن ہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ مسلم معاشروں میں انھیں کہیں بھی رسوخ حاصل نہیں ہو سکا۔ وہ ہمیشہ سازشوں، آمریتوں اور استعماری قوتوں کی سرپرستی کی تلاش میں رہتے ہیں۔ مصر میں حالات جو بھی کروٹ اختیار کریں۔ مستقبل اسلامی تحریک کا ہی ہے۔ تاریخ کو ریورس گئیر پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ اگر صدر مرسی مستعفی ہوجائیں، انتخابات ہوں اور اخوان ہار بھی جائے تو بھی اگلی دفعہ وہ دوبارہ آ جائیں گے۔ یہ اکیسویں صدی ہے، دنیا اب بدل رہی ہے، جبر کا شکنجہ ٹوٹ رہا ہے اور اسلامی تحریکیں عوامی تائید کے ساتھ آگے آ رہی ہیں۔ اکیسویں صدی اسلام کی ہے، اسلام پسندوں کی ہے۔ ان شاء اللہ

1 تبصرہ
  1. 6 July, 2013
    raheelairrum

    اچھا کالم ہے مستقبل انشاللہ اسلام کا ہی ہے بس الله کو دیکھنا ہے اپنے دعوے ایمان میں کون کھرا اور کون سچا انکی یہی دورنگی ہے جو سمجھ سے بالا تر ہے .

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *