1

پھر ایک حادثہ ہوا پھر ایک کارواں لٹا

چار جولائی کا سورج  جہاں اسلام کے سپاہیوں کے لیے ایک دردناک دن لے کر ابھرا تھا  وہیں آج   کتنے ہی چہرے دنیا کے سامنے برہنہ ہوئے تھے ان چہروں پر چڑھے نقاب آج نکلنے والے سورج نےنوچ  ڈالے تھے اور آج وہ  اپنی اصلیتوں کے ساتھ عریاں نظر آ رہے تھے کون کتنا اسلام کے ساتھ مخلص ہے سب  کھل کرسامنے نکل آیا وہ جو  مصلحتوں کے شکنجے میں جکڑے ہوئے تھے آج انہیں آزادی مل گئی تھی ۔

لگتا تھا رب نے آج چھانٹی کرنی تھی منافقین اسلام اور مجاہدین اسلام کو اب بلکل الگ الگ کرنا مقصود ہے اسی لیے آج اسلام پر لگائی گئی اس نقب میں ہر ایک نے اپنا حصہ خوب ڈالا تھا کہیں اگر دل دکھی اور غمگین تھے اور ایک طرف اگر صف ماتم بچھی ہوئی تھی تو کہیں اپنی وفادریاں ثابت کرنے کی دوڑ میں ہر ایک دوسرے سے آگے جانے کی فکر  میں کہیں کوئی اس بغاوت کو جائز قرار دینے کے لیے فتوے دیتا ہوا نظر آرہا تھا تو کہیں تہنیتوں بھرے مبارکباد کے پیغامات دیئے اور وصول کیے جارہے تھے اور کہیں باغی فوج کے اس شب خون کو ایک انقلاب بنا کر  نشر کیا جاریا تھا جشن منانے کی خبریں دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی دشمن ملک میں کافروں کی حکومت گرادی گئی ہے کہ مسلم میڈیا اغیار کے میڈیا سے زیادہ چاک چوبند دکھائی دے رہا تھا اور  شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہونے کا ثبوت  اس تندہی سے دے رہا تھا کہ چار دن سے صدر مرسی کے حق میں ہونے والے لاکھوں کے مجمع کو ان کے خلاف  بنا کر دکھاتا رہا  غرض غیروں کی بات تو چھوڑیں ہمارے اپنوں میں بھی کوئی نہیں تھا جو اس شب خون کی مذمت کرتا  اور اسی دکھ نے اس سانحہ کی تکلیف کو کئی گناہ بڑھا دیا  سمجھ نہیں آرہی کہ غیروں کی ضرب پر آنسو بہائیں یا اپنوں کے لگائے گئےوار سےلگے زخموں کو سہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

ابھی ایک سال پہلے یہی دن تھے کہ جب مجاہدین اسلام کی ایک جہد مسلسل کے بعد ایک  بڑی فتح  کا جشن منایا جارہا تھا  اور لگا تھا تاریک بادل اب چھٹنے کو ہیں سحر اب آنے کو ہےعرب بہار کی پھیلتی وہ خوشبو جس نے پوری فضا کو  معطر کیا ہوا تھا اور جسے ہر ایک نے اپنی سانسوں میں محسوس کیا اور یہ آس لگا لی تھی کہ بس اب غم کے کچھ ہی دن باقی ہیں اب ہر سو یہ بہار پھیلے گی ۔

ابھی تو تاریک رات کاٹی تھی
ابھی تو سحر جاگی تھی
ابھی تو اجالوں نے روشن کیا ایک جہاں تھا
یہ پھر سے تاریکیاں کیوں لوٹ آئیں ؟؟

مگر کیسے اس عرب بہار کو مسلم امہ کا مقدر بننے دیا جاتا کہ یہاں تو دشمن قوتیں روز اول ہی سے اپنی چالیں چل ہی رہیں تھیں اور اس اسلامی حکومت کو ناکام کرنے اور اسکا تختہ الٹنے کی تیاری تو اسی دن سے شروع کردی گئیں تھیں جب الاخوان کے نامزد صدر خیراۃالشاطر کے کاغذات نامزدگی واپس کر دیے گیے اور پھر ان کی امیدوں پر پانی پھیر کرصدر محمد مرسی مصری تاریخ کے پہلے منتخب جمہوری صدر ہو ہی گئےتب بھی  حسنی مبارک کی باقیات اور ان کے عالمی سرپرستوں نے انہیں ایک روز بھی سکھ کا سانس نہیں لینے دیا ۔ اور بالآخر طاغوتی قوتوں نے اپنا کام کر دکھایا تھا  اور مصر ایک بار پھر انہیں فرعونیوں کے شکنجے میں نظر آرہا تھا  جن کی فرعونیت آج بھی اسی عروج پر تھی اور وہ  نشے میں دھت تحریر اسکوائر پر عورتوں کی عزتوں پر ہاتھ ڈالتے تو کہیں معصوم اور بے گناہ لوگوں کو بے دردی سے چھریوں چاقوں اور ڈنڈوں سے تششد کا نشانہ بنانتے اور انسانوں سے بھری عمارتوں کو  آگ لگاتے اپنی سفاکی کا ثبوت دے رہے تھے اور مصری فوج اور عالمی طاقتوں کی  پوری حمایت  انہیں حاصل  تھی ۔

یہ کیسی منافقت ہے ، شام میں مسلمان اسد کے خلاف دو سال سے احتجاج کر رہے ہیں  اور ایک ایک دن میں ہزاروں مسلمانوں کو گاجر مولی طرح کاٹا جا رہا ہے برما میں مسلمان بدھوں کے ہاتھوں زندہ جلائے جارہے ہیں لہو میں نہایا ہوا غزہ  اور سسکتے معصوم بچوں کو  تو عالمی طاقتیں انصاف مہیا نہیں کر سکیں نہ ہی  نام نہاد انسانی حقوق کی علم بردار تنظیموں کو یہ سب ظلم نظر آتا ہے

خون مسلم کے بہنے پر کیوں مچتا کہرام نہیں ؟؟؟

لیکن ایک مسلمان  اور اسلام  پسند صدر کے خلاف صرف چار دن کے احتجاج پر عالمی طاقتوں کو مصر کی معصوم عوام پر کیسے رحم آگیا ۔۔ جن پر مرسی حکومت کی طرف سے کوئی ظلم کے پہاڑ نہیں توڑے گئے ؟

سوچنے کی بات یہ کہ مصر جو ایک لمبے عرصے سے حسنی مبارک کے عذاب کو سہہ رہے تھے  اس ایک سال میں ان پر ایسی کیا قیامت ٹوٹ پڑی تھی کہ یہ سڑکوں پر نکل آئے اور یوں فوج نے ایک جمہوری حکومت کے خلاف  بغاوت کردی تو اس کا جواب بہت سیدھا ساہے کہ  محمد مرسی لاکھ  جمہوری صدر سہی مگر ان کا ایک اسلام پسند جماعت سے ہونا ہی سب سے بڑا جرم ہے اور اس کے علاوہ بھی  مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے جرائم کی ایک لمبی لسٹ ہے  جس کے سبب نام نہاد روشن خیال اور لبرر قوتوں نے انکا تختہ الٹ دیا جن میں کچھ  یہ تھے ۔

اسرائیل کواس کی حیثیت یاد دلادی گئی تھی اور یہ باور کروادیا  تھا  کہ فلسطین کے مظلوم مسلمانوں پر ظلم بند کرو ورنہ دوسری صورت میں اسرائیل پر حملہ بھی کیا جاسکتا ہے  اور آزاد فلسطین کی حمایت کا اعلان کیا تها

شراب اور ڈانس کلبوں کی پر پابندی لگائی تهی
کرپٹ فوجی جرنیلوں کا احتساب کرکے اربوں ڈالر قومی خزانے میں واپس جمع کئے تهے
مغربی ممالک کو مسلمان ممالک پر حملے کی صورت میں جنگ کی دهمکی دی تهی
اللہ تعالی کے احکامات اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں کو قانون بنایا تها
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کی گئی گستاخی پر سخت موقف اپنایا تها

اور اقوام متحدہ میں تقریر کرکے امت مسلہ  کی نمائندگی کرتے ہوئے  پوری دنیا ہر یہ واضع کر دیا تھا کہ جس نے ہمارے محبوب نبی ﷺ  کی عزت کی ہم اسکی عزت کریں گے  اور یہ سب جرائم اسلام دشمن قوتوں کے لیے تو ناقابل معافی ہیں ہی  مگر ساتھ ہی نا نہاد اسلامی حکومتوں کے سربراہوں کے لیے قابل قبول نہیں تھے اس لیے کہ یہ سب اقدامات انکی اپنی حکومتوں کے لیے ایک بڑا خطرہ تھے

اس ساری صورتحال نے یہ بات واضع کردی ہیکہ انقلاب  دنیا میں جمہوریت کے راستے نہیں آئے گا  اب جہوریت سے لوگوں کا اعتماد اٹھ چکا ہے اور یہ بات عیاں ہو گئی کہ جمہوریت ہو یا آمریت صرف اسی صورت قابل قبول ہے جب کہ اسے آقاوں کا آشیردباد حاصل ہو  ورنہ دوسری صورت میں  فوجی بغاوت کے ذریعے شب خون مارنا بھی جمہوریت سے ذیادہ مقدس بنا دیا جاےگا

اب  مصر میں  میدان رابعہ العدویہ کی طرف صحافیوں کا داخلہ بند کرکے صدر مرسی کے حامیوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کردیا گیا ہے اور صدر مرسی کے حق میں مظاہرہ کرنے والوں پر فوج کی جانب سے گولیاں اور لاٹھیاں برسائی جا رہی ہیں اور یہ وہی فوجی ہیں جو ایک منتخب صدر کے خلاف مظاہروں پر نہ صرف خاموش تھے بلکہ اس کے خلاف بغاوت کے مرتکب ہوئے۔

مرسی کی تربیت بھی  اسی “اخوان المسلمین ” کی کی ہوئی ہے جو نام ہے ایک جہد مسلسل کا  ۔۔۔۔۔۔ تاریغ گواہ ہیکہ اخوان  نے  کس طرح صبر و حوصلے سے کڑی سے کڑی آزمایشوں سے گزرے  یہ آدھی صدی مصر کی تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا آج پھر اخوان پر طلم ستم کا بازار گرم ہے آج پھر تاریخ خود کو دہرارہی ہے

آگ ہے ،اولاد ابراہیم ہے ، نمرود ہے

کیا کسی کو پھر کسی کا امتحان مطلوب ہے

مولا مشکل اور مصیبت کی اس گھڑی  اخوانیوں پر رحم  فرمایئے اور ان کی مدد فرمایئے مولا گواہ رہیے گا ہمارے دل اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ دکھی ہیں ہم بے شک دور سہی مگر ہم ان پر ہونے والے ایک ایک ظلم کو ہمیشہ اپنے دلوں پر محسوس کیا ہے ہم نے ان کی کامیابی کے لیے دعائیں کیں مولا ہماری دعاوں کو قبول کیجیے مزید کسی آزماٗیش میں نہ ڈالیےگا  امت مسلمہ کی مدد کیجیے  دشمن کی چالیں ان ہی پر الٹ دیجیے ۔ یقینا آپ بہترین چال چلنے والے ہیں ۔

آمین یا ربی

میرے حضور دیکھیے پھر آ گیا مقام غم
بسایۂ صلیب پھر بھرے ہیں ہم نے جام غم
کنارے نیل چھا گئی پھر ایک بار شام غم
میرے حضور دیکھیے

پھر ایک حادثہ ہوا پھر ایک کارواں لٹا
خود اس کے پاسبان تھے جو جن کے درمیان لٹا
بدست دشمناں نہیں بدست دوستاں لٹا
میرے حضور دیکھیے

پھر ایک بار کوئے یار میتوں سے پٹ گئی
جنوں کی کھیتیاں پکی سروں کی فصل کٹ گئی
حضور کی سپاہ کی کور سب الٹ گئی
میرے حضور دیکھیے

ہر اک صدی کے دشت میں ہمیشہ کارواں لٹا
ہمارے اپنے راہزن ہمارے اپنے رہنما
ہمارے پیارے بھیڑیے ہمارا پیارا اژدہا
میرے حضور دیکھیے

ہر ایک دورِ وقت کا خود اپنا اک یزید ہے
ہر ایک دور کا حسین بے گناہ شہید ہے
جدھر جدھر گرا ہے خوں یہی رہ امید ہے
میرے حضور دیکھیے

صلیبِ جبر گڑ گئی وہ چوبدار آ گئے
صداقتِ حُسیں تیرے وہ جاں نثار آ گئے
بہت سے لا الہ خواں کنارے دار آ گئے
میرے حضور دیکھیے

فراعنہ کی سر زمیں ہمیشہ خوں بجام ہے
ہمیشہ خوں بجام ہے وہ پھر بھی تشنہ کام ہے
یہ اک جہانِ بے سکوں جسے سکوں حرام ہے
میرے حضور دیکھیے

یہ انقلاب دیو ہے لہو کی بھینٹ مانگتا
یہ خود ہی مدعی بھی ہے یہ خود ہی صاحب قضا
یہ قافلے کا راہزن یہ قافلے کا رہنما
میرے حضور دیکھیے

کئی صدی کے دشت میں ہمیشہ کارواں لٹا
کئی صدی کے دشت میں یہ راستی کا کارواں
ادب کا فن کا علم کا یہ زندگی کا کارواں
رہِ خودی کے راہرو رہِ نبی کا کارواں
میرے حضور دیکھیے

ابھی تو ایسے کارواں کئی ہزار آئیں گے
اٹھیں گے چار سمت سے وہ بار بار آئیں گے
وہ بن کے ابرِ خوں فشاں بریگزار آئیں گے
میرے حضور دیکھیے

بچو بچو کہ یک بیک دمِ حساب آئے گا
جو راج ظلم کیش ہے وہ راج ڈول جائے گا
گرے کا تاج فرق سے یہ تخت ڈگمگائے گا
میرے حضور دیکھیے

پھر ایک حادثہ ہوا پھر ایک کارواں لٹا
خود اس کے پاسبان تھے وہ جن کے درمیاں لٹا
بدست دشمناں نہیں بدست دوستاں لٹا
پھر ایک کارواں لٹا پھر ایک کارواں لٹا
میرے حضور دیکھیے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں