2

وقت بہت کم ہے

یہ کیا ہوا ؟ یہ تو رحمتوں کا مہینہ تھا نجات کا عشرہ تھا اس مہینے اور اس عشرے میں تو اس رب ذوالجلال  کی رحمت جوش میں آجایا کرتی ہے ، اس کی نوازشیں عروج پر ہوا کرتی ہیں ،اس ماہ مبارک میں تو  وہ رب تو  ثوابوں کی لوٹ سیل لگا دیا کرتا ہے ، ہر ایک کے لیے عام معافی کا اعلان کر دیا جاتا ہے  مگر آج اس رحمتوں برکتوں کے مہینے اور نجات کے اس عشرے ، لیلۃ القدر کی ان با برکت راتوں میں  میں وہ غضب ناک کیوں ہو رہا  تھا ایسی کیا خطا سرزد ہوئی تھی ہم سے کہ ہم بابرکت مہینے میں بھی اس کے غضب کی لپیٹ میں آگئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

یہ سب وہ سوالات تھے جو حالیہ بارشوں اور سیلابی ریلے کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کو دیکھ کر جا بجا  ذہن میں اٹھ رہے تھے۔۔۔۔

تباہی بھی ایسی کہ جس نے صرف کچے مکانوں میں رہنے والوں کو ہی نہیں بلکہ پکی اینٹوں کے بنے بنگلوں کے مکینوں تک کو ہلا ڈالا تھا اور ایسی جگہ سے یہ سیلابی ریلا آیا جہاں سے گمان تک نہ تھا اور  کراچی کے نواحی علاقوں سےآنے والے اس  سیلابی ریلے نے شہر میں تباہی مچا دی، گڈاپ میں کیسر بند ٹوٹنے سے سعدی ٹاؤن اور امروہہ سوسائٹی کے علاقے ڈوب گئے۔

شہر قائد میں رہنے والے کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا کہ سیلاب انکے دروازوں پر بھی دستک دے سکتا ہے۔ نہ شہر کے قریب دریا نہ ڈیم پھر پانی کیسے آیا۔ کراچی نواحی علاقے گڈاپ اور کاٹھور میں موجود پہاڑوں پر طوفانی بارش ہوئی بارش کے پانی نے سیلابی ریلے کی شکل اختیار کر لی اور کیسر بند کو توڑتا ہوا مختلف دیہات میں گھس گیا۔ ریلے نے بابو پاتانی، علی محمد گبول گوٹھ، کیسر سیہانی اور فقیر محمد گوٹھ میں تباہی مچائی اور لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ گڈاپ کے مختلف دیہاتوں سے ہوتا یہ ریلا سپر ہائی وے پہنچا اور وہاں بھی تباہی مچا دی۔ متعدد کنٹینرز سیلابی پانی میں بہہ گئے۔ سیلابی پانی سپر ہائی وے سے ہوتا سعدی ٹاؤن میں داخل ہو گیا۔ سیلابی ریلہ سعدی ٹاؤن سے امروہہ سوسائٹی میں جاگھسا اور گھروں کو ڈبوتا ہوا گلستان جوہر صفورا چورنگی کی جانب بڑھا۔ لوگوں کی حیرانی اور پریشانی میں اضافہ کرتا ہوا یہ پانی داخل ہوا بھٹائی آباد میں اور اسکے بعد ایئرہورٹ رن وے تک جا پہنچا۔ ائیرپورٹ نالے سے سیلابی ریلے کا رخ شاہراہ فیصل اور شاہ فیصل ندی کی جانب ہوگیا۔ کاٹھور سے چلنے والا سیلابی ریلا جس نے کئی جانوں کو نگل لیا تھا اور اب بھی گھروں میں کئی کئی فٹ پانی کے باعث لوگ محفوط مقامات پر منتقل ہوگئے تھے ۔

رات کو اپنے گھروں میں  بے خبر سونے والوں کے کب  گمان میں تھا کہ صبح سے پہلے ہی وہ اپنے گھروں میں اس طرح محصور ہونگے اور اپنے آرئش یافتہ گھروں کو چھوڑ کر خیموں میں  پناہ لینے پر مجبور ہونگے ۔

دل خوف زدہ تھا کہ یہ سب تو تب ہوا کرتا ہے جب وہ رب  غضب ناک ہوجاتا ہے یہ اسکے غصہ کی نشانی ہوا کرتی ہےجس کی تنبیہ وہ بارہا اپنے پاک کلام میں کر چکا ہے

پھر کیا بستیوں کے لوگ اب اس سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ ہماری گرفت کبھی اچانک اُن پر رات کے وقت نہ آ جائے گی جب کہ وہ سوتے پڑے ہوں؟} الاعراف ( 97 ) ۔]

یہ اور ایسی کئی آیات ڈرائے دے رہیں تھیں دل خوف زدہ تھا کہ اگر رب ہی خفا ہوگیا تو کیا ہمارا کوئی ٹھکانہ ہوگا ؟؟

آخر وہ رحیم رب ہم سے کس بات پر خفا تھا ؟؟

کیوں ہم رمضان کی برکتیں سمٹنے کے بجائے کبھی ٹارگٹ کلنگ کے عذاب سے دوچار کر دیے جاتے ہیں تو کبھی بم دھماکوں کی صورت اوراس سال تو یہ سب یوں اچانک ہوا کہ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا ۔۔۔۔۔

انہی خیالوں میں گم تھی کہ  گناہوں  کی ایک لمبی  فہرست سامنے آنے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔

کس کس لمحے ہم نے اس کے غضب کو چیلنج نہیں کیا تھا ؟؟

کب کب ہم نے اسکی لگائی ہوئی ثوابوں کی لوٹ سیل (جہاں ایک نیکی کا ستر گناہ بدل مل رہاتھا) اس کے بدلے ہم نے  رمضان جیسے پاکیزہ اور بابرکت مہینہ میں بھی لگائی گئی  رمضان دوکان کی لوٹ سیل کو ترجیع دی تھی  پورا ماہ ہی گزر گیا وہ رب انتظار میں رہا کہ میرے بندے بخشش طلب کریں تو میں انہیں بخش دوں ہدایت طلب کریں تو ہدایت نصیب کروں۔

کیا رمضان المبارک کی ہر رات میں ایک منادی آسمان سے طلوعِ صبح تک یہ ندا کرتا رہتا ہے کہ اے خیر کے طلب گار تمام کر اور بشارت حاصل کراوراے بُرائی کے چاہنے والے رک جا اور عبرت حاصل کر۔

مگر یہاں تو  لوگوں کو چمکتی ہوئی گاڑیوں ، سے لیکر موبائل کے ڈبوں ، پورشیا اور فردوس کی لان کے سوٹوں کی طلب میں لگایا ہوا تھا پورا دن ایسی دوکانوں کے پاس حاصل کرنے کی تگ و دو اور پھر گھنٹوں لائن میں لگ کر افطار سے سحر تک ان دھوم دھڑکوں میں  کسے فرصت تھی کہ وہ جائے اور ان قیمتی ترین لمحات میں اس رب سے اپنی خطاوں کی معافی چاہے اور وفاوں کے وعدے کرئے   ۔۔۔۔۔۔۔!!!!

رمضان کے نام پر لگائی گئی ان دوکانوں نے صرف ان میں جانے والوں کے ہی لمحات کو برباد نہیں کیا تھا بلکہ سحر اور افطار کی بابرکت ساعتوں کو تو اپنے گھروں میں  ٹی وی کے آگے مبہوت بیٹھنے والے والوں تک کا پورا رمضان داو پر لگا دیا تھا ۔۔۔۔!!

افطار کے لمحات قریب تھے بس کسی بھی لمحے اذان مغرب ہوئی جاتی تھی یہ ہمارا پہلا روزہ تھا جو گھر سے باہر تھا اپنے گھر میں تو ان لمحات میں  بس ایک ہی فکر ہوتی تھی کہ یہ دعا کی قبولیت کے لمحات ہیں کہیں ضائع نہ ہو جائیں اور اسی فکر میں بچو ں کو بھی بار بار یاد دہانی کروائی جاتی کہ یہ لمحات اللہ سے قرب حاصل کرنے کہ اس وقت ذہن کہیں نہیں لگنا چاہیے ۔۔۔۔۔

مگر یہ کیا ہم جہاں روزہ کے لیے موجود تھے وہاں تو ٹی وی پر ایک ہنگامہ برپا تھا یہ تو وہی ہنگامہ تھا جس کا چرچا کئی دنوں سے سنا جارہا تھا اور کئی وڈیو کلپس سوشل میڈیا پر گردش کرتے نظر آئے آج بھی وہی سب ہو رہا تھا تحفوں کی بارش کی جارہی تھی اور سوال کیے جانے والی خاتون کو پہلے ہی بتا دیا جاتا کہ یہ سوال موٹر سائیکل کے لیے ہے اور اب اسکی کیفیت (جو اس کے چہرے سے عیاں تھے ) کو انجوائے کیا جارہا تھا ایک ٹکٹی باندھ کہ اسے دیکھنا اور ذو معنی جملے کہے جارہے تھے ، تم پریشان تو نہیں ہو ؟، گھبرا تو نہیں رہیں ؟، سوچ لو ؟، لینی ہے موٹر سائیکل ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کچھ اس سے بھی بڑھ کر اور پھر سوالات کے جوابات پر ایک شور اور ہلڑ بازی  سیٹیاں مگر یہ سب بے غیرتیاں  پاب بھائیوں شوہروں کی موجودگی میں ہو رہیں تھیں اور بے غیرتی پر تالیاں بجا ئی جارہیں تھیں ۔۔۔۔۔۔۔ اور بھیڑ چال کی اس دوڑ میں کوئی کسی سے پیچھے نہیں رہنا چاہتا تھا اور اب تو ہر چینل نے ہی یہ دوکان سجا لی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں  یہ سوچ رہی تھی  یہ وہ لمحات ہیں جن کے بارے میں اللہ کے نبی ﷺ کی کئی حدیث مبارکہ میں دعاوں کی قبولیت کے اوقات میں سحر و افطار کے وقت کی  خاص طور تاکید موجود ہے

مگر یہاں  تو سحر و  افطار کے  اوقات میں گویوں اور میراثیوں کو بلا کر گانے سنے جارہے تھے تو کبھی باپ کے ساتھ بیٹھی جوان بیٹی کو منہ چھپانے پر  پورشیا کی لان دی جارہی تھی  تو کہیں کسی معصوم ننھی پری  کو اس اعلان کے ساتھ کسی بے اولاد جوڑے کے حوالے کیا جارہا تھا کہ اسے کچرے کے ڈھیر سے اٹھایا گیا ۔۔۔۔۔۔ اف انسانیت کی اس تذلیل پر میں نے اپنی  شدت کرسے  آنکھیں بند کرلیں تو آنسواحتجاج کرتے بہنے لگے تھے یہ کیسی نیکی تھی جوکسی کی کو پوری دنیا کے سامنے زندگی بھر ایک ناجائز اولاد ہونے کا طعنہ کے تحفے  کے ساتھ نئی زندگی دی جارہی تھی ۔۔۔!!!

کیا اس سے تو اچھا یہ نہ تھا کہ آپ اس ننھی سی جان کو مر ہی جانے دیتے کیا کسی نے یہ بھی سوچا کہ اس  طعنہ کے ساتھ  یہ اپنی پوری زندگی کیسے گزار پائے گی ؟؟؟

مگر دکھ تو یہ تھا کہ  یہاں نام نہاد علماء کے نام پر جن لوگوں کو بیٹھایا ہوا تھا جن کی ناک کے نیچے یہ سب کرنے کا مطلب اس سب کو جائز قرار دینا تھا

ایسے میں اللہ کے نبی ﷺ کی وہ وعید ۔۔۔۔۔۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ارشادفرمایا عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ نام کے سوا اسلام کا کچھ باقی نہیں رہے گا۔ الفاظ کے سوا قرآن کا کچھ باقی نہیں رہے گا۔ یعنی علم ختم ہوجائےگا۔ اس زمانہ کے لوگوں کی مسجدیں بظاہر تو آباد نظر آئیں گی لیکن ہدایت سے خالی ہوںگی ان کے علماء آسمان کے نیچے بسنے والی مخلوق میں سے بدترین ہوںگے۔ (عُلَمَآءُ ھُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ اَدِیْمِ السَّمَآءِ۔  اُن کے علماء آسمان کے نیچے بسنے والی مخلوق میں بد ترین ہوں گے) ان میں سے ہی فتنے اُٹھیں گے اور ان میں ہی لَوٹ جائیں گے یعنی تمام خرابیوں کا وہی سرچشمہ ہوں گے۔‘‘

(بہیقی بحوالہ مشکوٰۃ کتاب العلم الفصل الثالث صفحہ۳۸ کنزالعمّال ۶ صفحہ ۴۳)

رمضان کے اس پورے مہینے میں اس رمضان کے نام پر سجی دوکان میں  غرض اس کار شر میں ہر ایک نے اپنا حصہ خوب ڈالا تھا چاہے وہ دین کو اپنے چینلوں کی ریٹنگ بڑھانے کا ذریعہ بناتے ۔ ٹی وی چینل کے مالکان ہوں یا لفظوںں کا جادو جگاتے اپنی تمام تر پچھلی بے غیرتیوں کی کالک منہ پر ملتے تماشہ گر ہوں یا ان دوکانوں پر  جائز کی مہر لگاتے وہ حضرات جو خود کو عالم کہلواتے ہیں مگر لوگوں کو اس مہینے کی برکات سمیٹنے کی نصیحت کرنے کے بجائے خود اسکا حصہ بنے بیٹھے نطر آتے ہیں ۔۔۔۔

میڈیا نے اس پورے ماہ مین ایک طرف دین کو خوب بیچا وہیں اپنی کسی خرافات کو بند یا کم نہیں کیا اسی طرح خبروں تک کے دوران انڈین فلموں کے فحش گانے دکھاتا رہا مگر کیا ہم میں اب تھرڈ کلاس ایمان ( تیسرے درجے کا ایمان ) ہی  رہ گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں نہ ہم نےاس  پورے ماہ میں اس کے خلاف اپنی آواز اٹھائی اور کوئی بھرپور مہم چلائی ۔۔۔ مگر افسوس کہ ہم تو بس باتیں ہی بناتے رہ گئے تھے۔

ایسے اعمال کے ہوتے ہوئے اپنے قیمتی مہینے کو یوں اپنے ہی ہاتھوں برباد کر کے  ہم کس منہ سے اسکی رحمتوں کی آس لگائیں ؟؟ْ

کیسے اس  سے نجات کی امید رکھیں ؟؟

کیسے اس کے غضبناک ہونے کا گلا کریں ؟ْ

کس منہ سے پوچھیں کہ اے ہمارے رب یہ آپ نے رحمتوں کے مہینے میں اپنی بخشش کا وعدہ کر کے یہ  عذاب ہم پر کیسے ڈال دیا ؟؟ْ

ارشاد فرمایا گیا:

”تم لوگوں پر جو مصیبت بھی آئی ہی، تمھارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آئی ہی، اور بہت سے قصوروں سے وہ ویسے ہی درگزر کرجاتا ہے۔ تم زمین میں اپنے خدا کو عاجز کردینے والے نہیں ہو، اور اللہ کے مقابلے میں تم کوئی حامی و ناصر نہیں رکھتے۔ “ (شوریٰ: 30تا31)

یقینا ہم رب کو عاجز کردینے والے نہیں ہیں

بے شک رب کا وعدہ تو بر حق تھا اور بر حق رہے گا ہم نے کیوں نہ یہ سوچا کہ یہ تو معافی کا مہینہ ہے دوزخ سے آزادی کا مہینہ ہے

ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے

 اِنَّ لِلَّہِ تعالیٰ عُتقاء فی کُل یَومٍ و لَیلَۃٍ ، لِکُلِ عَبدٍ مِنھُم دَعوۃٌ مُستَجَابۃٌ

بے شک اللہ تعالیٰ ہر رات اور دِن میں ( یعنی رمضان کے دِن اور رات میں ) لوگوں کو (جہنم کی آگ سے آزاد کرتے ہیں ، اور اِن آزاد ہونے والے بندوں میں سے ہر ایک کے لئیے ایک قُبول شدہ دُعا ہوتی ہے ) مُسند احمد ، صحیح الجامع الصغیر ، حدیث ، ٢١٦٩ ۔

یقینا ہم ہی کم ظرف نکلے ہم ہی نے ان لمحات  اور اس آفر کی قدر کی اور آکر کار اپنے ہاتھوں کی کمائی اپنے سامنے ہے ۔۔۔۔۔

مگر سوچنے کی بات تو یہ ہیکہ کیا ہم اب بھی سنبھلنے والے ہیں یا اپنی  اسی ڈھٹائی  پر اڑے رہتے ہیں ۔۔۔۔!!!

کہ اب وقت بہت تھوڑا ہے یہ مبارک ماہ گزرا ہی چاہتا ہے مگر کیا جاتے جاتے اس ماہ میں ہم اپنے رب سے توبہ کے لیے تیار ہیں ؟؟؟

کیا  اپنے تمام تر قصوروں کا اعتراف کر کے اس سے معافی طلب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ؟؟؟

یا اب بھی ہم اپنی آنکھوں پر اسی دنیا کی چکا چوند کی پٹی باندھے توجیحات پیش کرنے کی فکر میں رہیں گے ؟؟؟

وہ رب تو بے شک رحماٰن و رحیم ہے تواب ہے توبہ کو پسند کرتا ہے ۔۔۔۔۔ اسکا وعدہ ہے ایک بار سچی توبہ کر کہ بس اسکے در پر جائیں تو سہی وہ کبھی نہیں ٹھکرائےگا

یقین جانیے وہ یہ بھی نہیں کہے گا کہ پورا رمضان  تو آئے نہیں اب آئے ہو ۔۔۔۔

اس کی رحمتیں تو ہماری سوچوں سے بھی کئی گناہ بڑھ کر ہیں  وہ تو اسی سال نافرمانی کر کے پلٹنے والے سے بھی نہیں کہتا کہ اسی سال گناہ کرتے رہے میں اب یاد آیا ۔۔۔۔۔!!!!

نہیں بلکہ وہ تو سچی توبہ کو قبول کرنے والا اور قدردانی کرنے والا رب ہے ۔۔۔۔۔۔۔ !!

بس ہم ہی ناقدرے ہیں اس کے نعمتوں ، رحمتوں ، عنایتوں ، بخششوں کے ۔۔۔۔۔۔

یاربی ہم پر اپنا کرم کیجیےگا ، ہماری توبہ کو قبول کیجیےگا ، ہمیں اپنے غضب سے ہلاک نا کیجیےگا (آمین (

بے شک سچ کہا میرے رب نے ۔۔۔۔

(اِن لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے)  الزمر

فیصلہ کا وقت بہت کم ہے  ایسا نہ ہوکہ ہم توبہ کا یہ وقت بھی کھو دیں اور خدوانخواستہ  ہمارا وہی حال ہو جو ہم سے پہلے والوں کو ہوا فیصلہ چکا دیا گیا اور کہہ دیا گیا کہ

{ ان پر نہ تو آسمان وزمین روۓ اور نہ انہیں مہلت ہی ملی } الدخان ( 29)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

وقت بہت کم ہے” ایک تبصرہ

  1. واقعی یہ بات درست کہ ہم نے جس طریقے سے بحیثیتِ قوم لوگوں کو رمضان گزارنے کی ترغیبت دی، اسی کے پیشِ نظر اللہ کی رحمت کی جگہ اللہ تعالیٰ کا عذاب سیلاب کی صورت میں ہمارے سامنے آ گیا۔۔۔

    پس ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا!

اپنا تبصرہ بھیجیں