کیوں مدرسے میں آ گیا لشکر؟؟

 

کہاوت مشھور ہے، ایک شخص کی انگوٹھی گھر میں کھو گئی مگر وہ اسے سڑک پر تلاش کرتا پایا گیا.

کسی نے پوچھا تو بولا ، یہاں اس لئے ڈھونڈتا ہوں کہ یہاں روشنی ہے جبکہ گھر میں اندھیرا ہے.. اے دن سنتے ہیں، کہ کوئی سرحدوں کو عبور کر کے، کچھ چھوٹے کھلونا طیاروں سے ہمارے وطن میں یہاں وہاں قیامت برپا کر کے چلا جاتا ہے. کبھی کسی شادی کی تقریب پر، کہیں کسی مدرسے پر، ابھی کہیں اور کبھی کہیں اور. سنا ہے کہ دہشت گرد مارے جاتے ہیں.

ویسے تو ہم نے ان دہشت گردوں کی تصویریں دیکھی ہیں. وہی ہیں نا، جن کے چھوٹےچھوٹے ہاتھ ملبے سے جھانک رہے ہوتے ہیں. گرد و غبار جن کی چھوٹی چھوٹی بند آنکھوں، اور سرخ لبوں کو چھپا نہیں پاتا.

مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میرے بچے، مٹی میں کھیلتے کھیلتے وہیں سو گئے ہوں، اچانک ہی آ جانے والی بچپن کی گہری نیند، بند آنکھیں، کھلے ہوے ہونٹ. معاف کیجیے گا، دہشت گردوں کی بات کرتے بچوں کا تذکرہ نکل آیا. ہمارے ملک میں عرصے سے یہی ہو رہا ہے، بات دہشت گردوں کی ہوتی ہے،اور تصویریں بچوں کی آجاتی ہیں. سات سمندر پار والے، وقتاً فوقتا مارے جانے والوں کی تعداد اور فہرستیں بھی شائع کرتے ہیں.

دی بیورو اف انویسٹگو جرنلزم کے مطابق سنہ ٢٠٠٤ تا ٢٠١٣ کوئی ٣٧٩ ڈرون حملے ہوے، جن میں ٣٢٨ “اوباما حملے” شامل ہیں. ان حملوں میں اندازا ٢٥٣٤ – ٣٦٥٧ لوگ مارے گئے .

ان میں ٤١٦-٩٤٨ شہری ہلاک/ شہیدہوے. ١٦٨-٢٠٠ بچے (ہلاک/شہید) ہوے. اور ١٢١٢، ٥٥٤ زخمی ہوے. (یعنی یہ وہ ہیں جو ہلاک و شہید کی بحث سے اب تک بچے ہوئے خلائے اذیت میں معلق ہیں). کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان بچوں اور شہریوں کی ہلاکتوں/ شہادتوں کا تذکرہ اتنا دلچسپ نہیں. پھر بہت سوں کے منہ کا مزہ بھی خراب ہوتا ہے، کچھ کے یونیفارمز پر داغ لگتے ہیں،اس لئے یہ تذکرہ نہ کیا جاے. اور ان کھلونا طیاروں کے بھیجنے والوں کا کہنا ہے، کہ اپنے ملک اور افواج کی سلامتی کے لئے اتنی قیمت تو چکانی پڑتی ہے. یہ اور بات کہ سودا کرنے والے بہت ہوشیار ہیں ان کی قیمت بھی مجھے ہی اپنے وہ بچے دے کر چکانی پڑی ہے، جو مدرسے جاتے تھے، یا ابھی گھروں کا کام کاج سمیٹتی ماؤں کا دل بہلایا کرتے تھے. کچھ لوگ یہ بھی سمجھانا چاہتے ہیں، کہ ان مدرسوں کا غم نہ کرو، ابھی وہ امداد بھیجیں گے… تو اور سکول کھول لینا.

وہ تو خود تعلیم اور اس کے لئے قربانیاں دینے والوں کے قدر دان ہیں. ابھی تمہاری ایک بچی کی کیسی عزت افزائی بھی تو کی ہے.

اور یہ حملہ ؟ اور ہنگو کا یہ مدرسہ؟ اور یہ بچے؟ شش شش … ہش…. جلدی کرو، یہ کچرا قالین کے نیچے دبا دو، وہ دیکھو مہمان آ پہنچے… سمایل پلیز….

اس افرا تفری کے علم میں اس سوال کا جواب دینے کی فرصت کس کو ہے، کہ یہ ہنگامہ کیسا ہے؟

سات سمندر پار رہنے والوں کو اپنی سرحدوں اور اپنی افواج کی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کی جنگ یہاں ، میرے وطن میں آ کر لڑنی کیوں پر رہی ہے؟ ان کے اور میرے ملک کے بیچ ہزاروں میل کے فاصلے ہیں. ان کے دشمن میرے ملک میں بیٹھ کر ان کو کیسے نقصان پہنچا رہے ہیں؟ بچے میرے مر رہے ہیں، مکانات، مدرسے، اور بازار میرے ملبے کا ڈھیر بن رہے ہیں، دفاع ان کے ملک کا کیسے ہو رہا ہے؟ تمغے ان کے سینوں پر کیوں سج رہے ہیں؟

اگر یہ دہشت گرد میرے لوگوں کے دشمن ہیں، تو ان کا قلع قمع کرنے کے لئے، ہزاروں میل دور رہنے والوں کو کیوں زحمت دی جارہی ہے؟ ہزاروں میل دور اپنی کمیں گاہوں میں محفوظ، کرسیوں کی پشت سے ٹیک لگاے ، ایسے جیسے کمپیوٹر گیمز کھیلے جاتے ہیں، کچھ مہلک ہتھیاروں کو میری زمینوں پر تباہی مچانے کے لئے بھیجتے ہیں تو اس کی اجازت انہوں نے کس سے لی ہے؟ اور اگر لی ہے، تو میرے گھر میں کسی اور کی جنگ لڑنے کی اجازت مجھ سے پوچھے بغیر کس نے دی ہے؟

اور اگر اجازت نہیں لی، تو میرے سجیلے جوانوں کو خبر کرو.. یہ کیا ہو رہا ہے؟ الفا، براوو، چارلی!

دیکھو وہ شہروں کو کھنڈر بنا رہے ہیں، تم ان کے دانت کھٹے کیوں نہیں کرتے؟ وہ تمھاری قوم کے بچے مار رہے ہیں، تم ان کی کلائی کیوں نہیں مروڑتے؟ شش …شش… ہش ہش… گستاخ، جاہل، عورت… یہ سوال ان سے کرنے کے نہیں ہیں… وہ دیکھو، سجیلے جوانوں کے فضائی کرتب دیکھو، وہ دیکھو، ان کے یونیفارمز کی کڑک، ان کے قدموں کی دھمک اور ان کے ہتھیاروں کی چمک…. یہاں دیکھو، یہاں روشنی ہے، وہاں کیوں کھوجتی ہو؟ وہاں تو اندھیرا ہے….

(نوٹ : براے مہربانی، اپنی مرضی سے اپنی پسند کا ہلاک/ شہید استعمال کیجیے، بس خدارا ہماری تحریر کا وہ حشر نہ کیجیے گا… کہ سارے فسانے میں ایک یہی قابل توجہ اشو ڈھونڈھ نکالیں… اسی لئے انتخاب کا حق “صارفین” پر چھوڑتے ہیں.)

 

1 تبصرہ
  1. 24 November, 2013
    Abu Abdullah Azzam

    اور اگر اجازت نہیں لی، تو میرے سجیلے جوانوں کو خبر کرو.. یہ کیا ہو رہا ہے؟ الفا، براوو، چارلی!
    excellent line of an impressive whole stuff

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *