مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے

پاکستان نے بیلسٹک میزائل حتف 5 غوری کاکامیاب تجربہ کیا ہے ۔  یہ میزائل 1300  کلو میٹر کی حدود میں اپنے حدف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت  رکھتا ہے۔

یہ کامیاب تجربہ کیے بھی ہمیں لگ بھگ ایک سال ہونے کو ہے جب یہ تجربہ ہوا تب ہی چند سوالات تھے جو میرے باغی ذہن نے اٹھائے تھے  وہ آج پھر تازہ ہوگئے ۔۔۔۔آپ کے پاس اگر جواب ہوں تو ضرور دیجے گا !!
باغی اس لیے کہا کہ اب تو کچھ پتہ نہیں چلتا کس لمحے ہمارے انکل آئی ایس پی آرگہری نیند سے بیدار ہوں اور دل دکھانے کے دعوی پر ایک عدد معافی نامہ طلب کر کہ پھر سے انگڑائی لیں اور پھر سوجائیں ۔۔۔

خیر آگے چلیے کہ ابھی تو  اپنے امن بچے کو کوکھ میں ہی ختم کردینے پر احتجاج کناں تھے اور ابھی اسی سوچ میں غلطاں تھے کہ اب اس نقصان کا کیسے کفارہ ادا کیا جائے اور اب آگے کیسے بڑھا جائے کہ ملکی صورتحال کچھ بہتر ہو ۔۔۔۔۔۔۔ ایک سوال جو بار بار لوگوں کے ذہن میں اٹھ رہا تھا کہ کیا امریکہ مائی باپ ہمارے ملک میں امن ہونے دیگا اور کیا وہ اب کوئی ڈرون نہیں گرائے گا ۔۔

تو اس کا جواب ہمارے سرتاج عزیز صاحب نے بڑی ہمت و جرات سے دیا کہ امریکہ اب مذاکرات تک کوئی ڈرون حملہ نہیں کرے گا ۔۔۔

مگر یہ کیا کہ  اخبار کی شہہ سرخی پر نگاہ کروں  یا ہنگو میں شہید  کی گئے  نوحہ کناں اس  مدرسے پر ملال کروں یا  شہید ہونے والے ان بچوں کے لاشوں پر ماتم کروں
آہ !! کاش کہ سرتاج  عزیز صاحب کو یہ علم ہوتا کہ۔۔۔

جب آپ کسی راہزن اور  ڈاکو کو خود راہ دکھاتے ہوئے اپنے گھر تک لے آئیں پھر یہ چاہیں کہ اب وہ آپ کی ہدایات پر عمل کرے اور جب اور جس وقت آپ کہیں کہ دیکھو ڈاکو بھائی تم اس اور اس کمرے میں نہ جانا اور ہمارے گھر کہ صرف اس پورشن کو لوٹ لینا تو یہ آپ معصومیت کی ان انتہاوں پر ہیں جن کی داد دینا بھی آساں نہیں۔۔۔ !!!
اِدھر اُدھر کی نہ بات کر، یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا؟
مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے
بحرحال اس کامیاب تجربے پر اٹھنے والے سوالات کچھ یہ تھے

جو اربوں کا بجٹ ہم اس غربت اور مہنگائی کی چکی میں پسی ہوئی قوم کے بدن سے نچوڑ کر اپنی دفاعی قوت بڑھانے میں صرف کرتے ہیں اور ایسے ہتھیاروں کے کامیاب تجربے کرتے ہیں تو وہ سب آخر کس لیے ؟؟
کوئی بھی ملک اس طرح کے ہتھیار کیوں بناتا ہے؟
جی ہاں یقیناً  ملکی سالمیت اور دفاع کے لیے اور دشمن پر اپنا خوف بٹھانے کے لیے بھی اپنے دفاعی ہتھیاروں میں اضافہ کیا جاتا ہے اور یہ ہر ” آزاد” ملک کا حق بھی ہے جو اس سے کوئی نہیں چھین سکتا  اور اسی لیے ہم بھی آےٴ دن کسی نہ کسی ہتھیار کا کامیاب  تجربہ کرتےرہتے ہیں۔ مگر بات ایسی ہی ہوتی تو میں بھی ایک پاکستانی کی حیثیت سے اس وقت خوشی منا رہی  ہوتی کہ چلو ہمارے دشمن پرمزید دھاک بیٹھے گی مگر رکیے مجھے ذرا یہ تو جان لینے دیجے کہ ہمارا دشمن ہے کون؟
کیونکہ اب تک تو ہم  یہ تعین ہی نہیں کر پاےٴ کہ  دوست  کون اور دشمن کون؟
آپ کے ذہن میں بھی یقیناً میری ہی طرح کچھ ناموں کی بازگشت گونجی ہوگی  مگر وہ  ملک جسے آپ نے پسندیدہ ترین ملک کا تمغہ دیا ہو ،وہ  ملک جسکی ایکMissed call  پر بھی  آپ گھٹنے ٹیک دیتے ہوں یا وہ ملک جس کی کی جانے والی بر بر یت پر  آپ کوئی آواز تک اٹھانے کی ہمت نہیں کرسکتے تو پھرآپ یہ کیسے سوچے بیٹھے ہیں کہ آپ کے یہ ہتھیار ان پر کوئی دھاک بٹھا سکیں گے ہر گز نہیں۔۔۔ جب تک قوموں کے اندر خوداری اور غیرت و حمیت کا جذبہ نہ ہو وہ قومیں کتنے بھی ہتھیار بنالیں نہ وہ اپنے دشمن کومرعوب کر سکتیں ہیں نہ ہی اپنا دفاع میں کامیاب ہو سکتیں ہیں۔

اگر میری اس بات سے آپ کو اختلاف ہے تو آئیے دیکھے لیتے ہیں کہ ہم اپنے دشمن کو اپنے ان ہتھیاروں سے مرعوب کرنے میں کس حد تک کامیاب رہے۔
ایک “بھیانک سانحہ ” آج بھی پوری قوم کی یاداشت میں ایک ناسور کی طرح دکھتا ہے جی چاہتا ہے کہیں منہ چھپانے کی جگہ مل جائے۔۔۔ سنیے اور صبر سے برداشت کیجے کہ جو قومیں صرف ہتھیار بنانا جانتی ہیں چلانا نہیں تو ان کی سالمیت پر پھر ایسے ہی حملے ہوا کرتے ہیں۔۔۔
سلالہ چیک پوسٹ”  کون نہیں واقف کہ یہ حملہ کس نے کیا؟
میرے  وطن کے محافظوں کو باقائدہ پلاننگ سے نشانہ بنایا گیا اور ہم سوتے رہے۔۔۔! کہاں تھے ہمارے  سب ہتھیار کیوں نہیں جواب دیا گیا دشمن کو؟ بہت سے سوال اٹھتے ہیں جن کے جواب کون دے گا؟
مہران بیس پر حملہ کا  آج تک ایک سوالیہ نشان لیے ہمارے سامنے موجود ہے۔
چلیں اسکو چھوڑ دیں کہ آپکو معلوم ہی نہ ہوا کہ دشمن کون تھا۔۔۔

سانحہ ایبٹ آباد ” کو تو فرا موش نہیں کیا جاسکتا کہ جب 2 مئی 2011 کی رات ایک بجے پاکستان کے حساس ترین علاقے کاکول  اکیڈمی کے دل میں جہاں  کی سیکورٹی کا یہ عالم ہوتا ہےکہ  چڑیا پر نہیں مار سکتی۔۔۔ مگردشمن جہازوں پر سوار نہ صرف یہ کہ وہاں داخل ہوا اور پاکستانی انٹیلی جنس  نیٹورک کو ڈسکنکٹ کر کے اسامہ بن لادن کو مارنے کا معرکہ سر انجام دے کر چلا بھی  گیا اور ہم سوتے رہے۔۔۔ یہ بھی مان لیا کہ آپکا رڈار سسٹم جام کر دیا گیا تھا تو آپکو کیسے پتہ چلتا۔۔۔ مگر خدارا یہ بتایئے ایک رڈار سسٹم آپکے کانوں میں بھی تو لگا ہے جس نے محافظوں کے سواء آس پاس کے تمام لوگوں کو بد حواس کر دیا تھا آپ اپنے ہتھیاروں سمیت کہاں تھے؟؟

رکیے۔۔۔  کہ ایک اور تکلیف دہ حقیقت جہاں آ کر میری سوچ کے دروازے بند ہوجاتے ہیں کہ اگر ہتھیار دفاع کے لیے بناےٴ جاتے ہیں تو ہم  کب انکا استعمال سیکھیں گے وزیرستان میں جس طرح دشمن خون کی ہولی کھیل رہا ہے معصوم بچوں کو جس بے دردی سے ڈرون اٹیک میں مارا جارہا ہے میں یہ سوچنے لگی کہ کیا ہمارے پاس موجود ،غوری، غزنوی ، شاھین اور ان جیسے اور ہتھیاروں  میں کیا کوئی ایک بھی ایسا نہیں جس میں یہ صلاحیت ہو کہ وہ ان ڈرون طیاروں کو گرا سکیں مگر معاف کیجے گا صلاحیتیں دراصل ہتھیاروں میں نہیں بلکہ  اس کے چلانے والوں میں ہوا کرتیں ہیں اور جو قومیں ان صلاحیتوں سے عاری ہوں انکے ہتیھیار لوہے کے وزن میں تو اضافے کا باعث بن سکتے ہیں مگر دشمن پر آپکی دھاک بٹھانے اور آپ پر حملہ سے روکنے کا باعث نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ تو دشمن بھی جانتا ہے کہ کوئی بھی ہتھیار خوبخود نہیں چلا کرتا۔۔۔

میں نے مانا کہ

دشمن کے ترکش میں ہیں تیر بہت

مگر میرے چارہ گر

کچھ ہو مجھے بھی خبر

میرے وہ شاہیں وہ غوری وغزنوی

کیا ہوئے؟؟۔

کہ وہ جو رکھوالے تھے سرحدوں ے

وہ کیا ہوئے؟؟۔
بہت خوب کہا علامہ اقبال نے
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
ٹھریے کہ تصویر کا ایک اورزخمی رخ بھی دیکھتے جائیے۔۔۔

ایک طرف زخمی سوات تھا تو دوسری جانب لہولہان وانا ۔۔۔

پا کستان کے خوبصورت ترین علاقے!! میری نظروں نے یہ دلسوز مناظر بھی دیکھے کہ دشمن کے لیے بناےٴ گیے وہ ہتھیار اپنوں پر کس بے دردی سے چلاےٴ جا رہے تھے وہ ٹینک جو دشمن کو تباہ کرنے کے لیے تھے آج میرے ہی لوگوں کے گھروں کو گرا رہے تھے، اور دشمن جہاں ایک طرف ہماری سالمیت پرخود بھی حملہ آوار ہے وہیں دوسری طرف ہمیں آپس میں بھی باہم دست و گریباں کر کے ہماری قوت کو کمزور کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

یا د رکھیے اگر آپکو ان ہتھیاروں سے دشمن کو مرعوب کرنا مطلوب ہے تو  ان ہتھیاروں کے تجربے ضرور کیے جانے چاہیے مگر پہلے  آپ کو اپنی  بکھری ہوئی قوت کو یکجا کرنا ہوگا کہ
معاملات جیسے بھی ہوں مگر ایک ہی گھر میں رہنے والے کبھی بھی اپنے دفاع کے لیے رکھی جانے والی پستول کو دشمن کی چال میں آکر ایک دوسرے پر تا ن کر اپنی قوت کو کمزور نہیں کیا کرتے اور جو قومیں ایسا کرتی ہیں تو بس پھر  وہ کتنے بھی ہتھیاروں سے لیس ہو جائیں کتنی بھی بین لاقوامی دفاعی ہتھیاروں کی نمائیش منعقد کر لیں۔۔۔ انکے نصیبوں میں پھر ڈرون حملے، مہران بیس ، سلالہ چیک پوسٹ اور ایبٹ آباد جیسے سانحات ہی لکھےجا تے ہیں!!

4 تبصرے
  1. 22 November, 2013
    محمد اسلم فہیم

    اِدھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا قافلہ کہاں لٹا
    مجھے رہزنوں کی خبر نہین تیری رہبری کا سوال ہے

    Reply
  2. 22 November, 2013
    Owais Mukhtar

    I think you have done a tremendous job by writing this piece of article. A very bravely written. We have to gather on one point who is our enemy.

    Reply
  3. 22 November, 2013
    hrhassan

    ماشاء اللہ۔ بہت اعلیٰ

    Reply
  4. 22 November, 2013
    محمد عثمان

    زبردست

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *