1

دسمبر پھر دسمبر ہے

دسمبر پھر دسمبر ہے
دسمبر کو تم کیا جانو ؟
یہ مہکتی رات کے منظر
یہ دھندلے شام کی ٹھنڈک
یہ اڑتے بادلوں کی سرگوشی
یہ عجب انداز ہے اسکا
دلکش راز ہے اسکا
شہلا یہ دعاؤں کا

دسمبر ہے

یادوں کا سفینہ ہے

خوابوں کی آہٹ ہے
امیدوں کا دریچہ
یہ میرا دسمبر ہے
تمہارا دسمبر ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “دسمبر پھر دسمبر ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں