1

“ماضی کا فٹبالر ،آج کا سیکیورٹی گارڈ”

تحریر : فیض اللہ خان

محمد حسین مائیٹ آپکو زینب مارکیٹ میں واقع مدینہ سٹی مال کے باھر سیکیورٹی سنبھالے ملے گا .

حسین مائیٹ کیمطابق اسکی عمر شناختی سے ساٹھ سال ظاھر ھوتی ھے ، ھے کتنی یہ وہ بھی نہیں جانتا ،مائیٹ اچھے دنوں میں لیاری کا فٹبالر تھا .

آپ کس پوزیشن پر کھیلتے تھے  ؟

میرے سوال پر مائیٹ ماضی کے جوش و خروش سے بھرے میدان میں پہنچ گیا اور بولا: اڑے ام “ڈیفنڈر” تا ام ٹیم کا ریڑھ کا ھڈی تا، اڑے امارا فوٹو رعنا لیاقت علی ، نصیر اللہ بابر کیساتھ بی اے۔

وہ سٹی ناظم تھا نا مصطفی کمال اس نے امارا اچی کار کردگی پر دس ھزار دیا تا ،اس دن ام نے عیاشی کیا پورے مہنے کا راشن ڈالا قرضے سے بچ گیا تا۔

لیکن ابی ام بوڑا ھوں گارڈ نئی بنے تو کیا کرے گا ؟؟؟ روٹی کا مسلہ ھے اے نا صاب ۔

اچھا مائیٹ یہ بتائیں کونسی پارٹی کیساتھ ھیں آپ ؟؟؟

میرے سوال پہ مائیٹ نے مجھے یوں دیکھا کہ جیسے نرا احمق ھوں،اڑے تم کو نئی پتا لیاری والا کس کو ووٹ دیتا اے ؟؟؟؟؟

ام جیالا تا پر اب نئی ھوں ۔

ظاھر سی بات ھیکہ اب مائیٹ جیالا رہ بھی نہیں سکتا بھٹو خاندان سے محبت کی پوری قیمت وہ سود سمیت ادا کرچکا ھے ،اس سے “کسی” نے وعدہ  کیا تھا کہ لیاری پیرس بنے گا ۔

لیکن وہ وعدہ ھی کیا جو ایفا ھو ،سو آج کا بلاول “ٹوئٹر” کی زبان میں بات کرتا ھے جو کہ “مائیٹ” کی سمجھ میں آتی ھے نہ “گڑھی خدا بخش” کے باسیوں کو ۔

تم امارا فوٹو لگائے گا ؟؟؟؟؟

مجھے سوچوں میں ڈوبتا دیکھ کر مائیٹ بولا۔

جی واجہ کیوں نہیں بالکل۔

لیکن اس سے امارا کوئی راشن ماشن وائے گا یا تم صرف بھاشن کراتا ھے ؟؟؟؟؟؟

اس سوال کا میرے پاس توجواب نہیں ،آپکے پاس ھے ؟؟؟؟؟؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں