1

محترم فاطمہ جناح کی کتاب ” میر ابھائی” سے اقتباس

” اگست کے اواخر میں قائد اعظم پر اچانک مایوسی کا غلبہ ہو گیا ایک دن میری آنکھوں میں غور سے دیکھتے ہوئے انہوں نے کہا “فاطی اب مجھے زندہ رہنے سے کوئی دلچسپی نہیں۔۔۔ ۔جتنی جلد چلا جاوٍں۔۔۔ ۔ اتنا ہی بہتر ہے ” یہ نہائت مایوس کن اور منحوس الفاظ تھے ،میں دھک سے رہ گئی یوں جیسے میں نے بجلی کا ننگا تار پکڑ لیا ہو پھر بھی میں نے صبر و ضبط سے کام لیا اور کہا “جن ، تم بہت جلد ٹھیک ہو جاوگے۔ڈاکٹروں کو پوری امید ہے ”
میری بات سن کر وہ مسکرائے اس مسکراہٹ میں مردنی چھپی تھی انہوں نے کہا “نہیں ۔۔۔ اب میں زندہ رہنا نہیں چاہتا ”
یکم ستمبر کو ڈاکٹر الہی بخش نے گھمبیر لہجے میں مجھے بتایا”قائد اعظم کو ہیمریج ہو گیا ہے ۔میں بہت پریشان ہوں ہمیں انہیں کراچی لے جانا چاہئیےکوئٹہ کی بلند ی ان کے لیے اچھی نہیں ہے ”
غرض قائد کی صحت بگڑتی چلی گئی ۵ ستمبر کو ان کے بلغم کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹروں نے بتایاکہ بلغم میں نمونیہ کے جراثیم موجود ہیں ان کے خون میں انفکشن کی علامات بھی پائی گئیں ۔ان کو سانس لینے میں تکلیف محسوس ہو رہی تھی ۔ ۷ ستمبر کو میں نے مسٹر اصفہانی کو واشنگٹن فون کیا کہ وہ امریکن ماہرین کو بذریعہ طیارہ بھیج دیں ان ماہرین کے نام ڈاکٹر ریاض نے تجویز کیے تھے ۔ اگلے روز میں نے کراچی کے ڈاکٹر مستری کو فون کیا کہ وہ فورا ً کوئٹہ پہنچیں
ادھر ڈاکٹروں کے درمیاں ایک اور کانفرنس ہوئی انہوں نے صورتحال کے تمام پہلووں کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا کہ اب قائد کو فورا کراچی منتقل کرنا بہت ضرورری ہے کیونکہ کوئٹہ کی بلندی ان کے کمزور دل کے لیے مناسب نہ تھی ڈاکٹروں نے بڑے بھاری دل کے ساتھ مجھے اطلاع دی کہ اب کوئی امید باقی نہیں اور صرف کوئی معجزہ ہی انہیں بچا سکتا ہے جب میں نے اپنے بھائی کو ڈاکٹروں کے اس مشورے سے آگاہ کیا۔کہ انہیں کراچی لے جایا جائے تا کہ وہ کوئٹہ کی بلندی سے دور رہ سکیں تو انہوں نے کہا ” ہاں ۔۔۔ مجھے کراچی لے چلو ۔۔۔ میں وہیں پیدا ہوا ۔۔ ۔میں وہیں دفن ہونا چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔ ” ان کی آنکھیں بند وگئیں اور میں ان کے قریب پٹی سے لگی بیٹھی رہی وہ بے ہوش تھے اور اس بے ہوشی کے عالم میں بھی ان کے خوابوں کی باز گشت سنتی رہی وہ بڑ بڑارہے تھے ” کشمیر ۔۔۔ ۔۔انہیں ۔۔۔ فیصلہ کرنے کا ۔ ۔ ۔ حق ۔ ۔ ۔دو۔ ۔ ۔آئین ۔ ۔ ۔ میں اسے مکمل کروں گا ۔ ۔ ۔ ۔ بہت جلد ۔ ۔ ۔ مہاجرین ان کی ہر طرح ۔ ۔ ۔ مدد کرو ۔ ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ”
گورنر جنرل کے وائی کنگ طیارے کو فوری طور پر کوئٹہ پرواز کرنے کا حکم دے دیا گیا تھا اور ڈاکٹروں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ ۱۱ ستمبر کو بعد دوپہر دو بجے کراچی واپس جانے کے لیے ہم ائر پورٹ پر ہونگے ۔
جب انہیں سٹریچر پر ڈال کر وائی کنگ کے کیبن میں لے جایا جارہا تھاتو طیارے کا کیبن اور عملہ انہیں سلامی دینے کے لیے ایک قطار میں کھڑے تھے قائد نے بمشکل تمام اپنا کمزور ہاتھ اٹھا کر ان کے سلام کا جواب دیا { قارئین کو یہ بتاتا چلوں کہ پاک فضائیہ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ قائد کو پاکستان کی سرزمین پر پہلا سیلوٹ ۱۴ اگست کو ماڑی پور ائر پورٹ پر اور زندگی کا آخری سیلوٹ کوئٹہ کے ہوائی اڈہ پر پاک فضائیہ ہی نے کیا تھا}ہم نے ان کو احترام کے ساتھ ان کی نشستوں پر لٹا دیا جنہیں اگلے کیبن میں عارضی بستر کی شکل میں تبدیل کردیا گیا تھا ان کے ساتھ میں ، ڈاکٹر مستری اور سسٹر ڈنہم بیٹھے تھے پائلٹ نے ہمیں خبردار کیا کہ کچھ وقفے کے بعد اسے طیارے کو سات ہزار فٹ کی بلندی پر اڑنا ہو گا اور جوں ہی طیارہ بلوچستان کا پہاڑی علاوہ پار کرلے گا تو طیارہ کو پھر پانچ ہزار فٹ کی بلندی لے آئے گا ۔آکسیجن سلنڈر اور گیس ماسک تیار تھے زیادہ بلندی پر مجھے ہی انہیں آکسیجن دینی تھی۔
ہم جلد ہی فضا میں بلند ہو گئے طیارہ بلند سے بلند تر ہوتا چلے گیا قائد کو سانس لینے میں دقت محسوس ہوئی تو میں نے گیس ماسک ان کے منہ سے لگا دیا ۔کچھ دیر تک وہ آکسیجن لیتے رہے اور پھر کمزور ہاتھ سے سے ماسک کو ہٹا دیا اور مجھے یوں دیکھا گویا وہ کہہ رہے ہوں “سب کچھ بے کار ہے سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ میں نے ڈاکٹر مستری سے کہا کہ وہ ڈاکٹر الٰٕہی بخش کو بلا لائیں اور پھر مجھے یوں دیکھ کر اطمینان ہوا کہ ڈاکٹر الٰہی بخش انہیں آکسیجن لینے پر راضا مند کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں اپنی تمام زندگی میں اس سے زیادہ پریشان کن سفر میں نے کبھی نہیں کیا ۔دو گھنٹے کی پرواز کے بعد ہم سہ پہر سوا چار بجے ماری پور ائر پورٹ پر اترے یہ وہی ائر پورٹ تھا جہاں ایک سال قبل وہ نہائت پر اعتماد انداز میں اور اس امید کے ساتھ اترے تھے کہ وہ پاکستان کو عظیم قوم بنائیں گے اْس وقت ائر پورٹ ہزاروں افراد جن میں کابینہ کے وزراِ اور سفارتی مشنوں کے ارکان بھی شامل تھے ان کے لیے استقبال کے لیے موجود تھے لیکن اس دن جیسا کہ پہلے ہدائت کردی گئی تھی ہوائی اڈے پر کوئی نہ تھا۔جونہی ہم طیارے سے باہر آئےگورنر جنرل کے ملٹری سیکرٹری کرنل جیفری ناولز نے ہمارا استقبال کیا قائد کو ایک سٹریچر پر لٹا کر ایک فوجی ایمبولینس میں لے جایا گیا یہ انہیں گورنر جنرلز ہاوس لے جانے کے لیے پہلے سے وہاں موجود تھی میں اور سسٹر ڈنہم ان کے ساتھ ایمبولینس میں بیٹھے تھے ۔ایمبولینس بہت سست روی سے چل رہی تھی ہماری پارٹی کے دوسرے لوگ گاڑیوں سے روانہ ہو چکے تھے صرف ڈاکٹر مستری اور ملٹری سیکرٹری گورنر جنرل کی کیڈلک کار میں ہماری ایمبولینس کے پیچھے تھے۔ابھی ہم نے چار میل کا سفر ہی طے کیا تھا کہ ایمبولینس اس طرح ہچکیاںلیں جیسے اسے سانس لینے میں مشکل در پیش ہو رہی ہو اور پھر وہ اچانک رک گئی کوئی پانچ منٹ بعد میں ایمبولینس سے باہر آئی تو مجھے بتایا گیا کہ ایمبولینس کا پٹرول ختم ہو گیا اگرچہ ڈرائیور نے انجن سے الجھناشروع کردیا تھا لیکن انجن نے نہ سٹارت ہونا تھا نہ ہوئی میں پھر ایمبولینس میں داخل ہوئی تو قائد نے آہستہ سے ہاتھ کو حرکت دی اور سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھا میں نے جھک کر آہستگی سے کہا “ایمبولینس کا انجن خراب ہو گیا ہے “۔انہوں نے آنکھیں بند کر لیں عمومإً کراچی میں تیز سمندری ہوائیں چلتی رہتی ہیں جس سے درجہ حرارت قابل برداشت رہتا ہے اور گرم دن کی حدت سے نجات مل جاتی ہے لیکن اْس دن ہوا بالکل بند تھی اور گرمی نا قابل برداشت ۔قائد کی بے آرامی میں اضافہ کا سبب یہ تھا کہ بے شمار مکھیاں ان کےچہرے پر بھنبنا رہی تھیں اور ان کے ہاتھ میں اتنی طاقت نہ رہی کہ مکھیوں کے حملے سے بچنے کے لیے انہیں اٹھا بھی سکتے سسٹر ڈنہم اور میں باری باری انہیں پنکھا جھل رہے تھےہم منتظر رہے ککہ شائد کوئی اور ایمبولینس آجائے ہر لمحہ کرب و اذیت کا ایک متناہی لمحہ تھا قائد کو ہم کیڈلک میں بھی منتقل نھیں کرسکتے تھے کہ وہ اتنی بڑی نہیں تھی کہ اس میں اسٹریچر سماسکے چناچہ امید و بیم کی کیفیت میں ہم انتظار کرتے رہے ۔۔۔
قریب ہی مہاجرین کی سینکڑوںجھگیاں موجود تھیں مہاجرین اپنے روزمرہ کے کاموں مصروف تھے انہیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہان کا وہ قائد جس نے ان کو ایک وطن دیا ہے ان کے درمیان موجود ہے اور ایک ایسی ایمبولینس میں بے یار و مددگار پڑا ہے جس کا پٹرول بھی ختم ہو گیا ہے کاریں ہارن بجاتی قریب سے گزر رہی تھیں بسیں اور ٹرک اپنی منزلوں کی طرف رواں تھے اور ہم وہاں ایک ایسی ایمبولینس میں بے حس و حرکت پڑے تھے جو ایک انچ بھی آگے بڑھنے کو تیار نہ تھی ۔ اور اس بے حس و حرکت ایمبولینس میں ایل نہایت قیمتی زندگی آتی جاتی سانس کے ساتھ قطرہ قطرہ ختم ہورہی تھی ہم وہاں کوئی ایک گھنٹے منتظر رہے میری زندگی میں کوئی اور گھنٹہ اتنا طویل اور دردناک نہیں آیا تب خدا خدا کرکے ایک اور ایمبولینس آئی انہیں سٹریچر کے ذریعے نئی ایمبولینس مین منتقل کیا گیا اور یوں آخر کار ہم پھر گورنر جنرلز ہاوس کی طرف روانہ ہوئےگورنر جنرلز ہاوس میں انہیں آہستگی سے بستر پر لٹا دیا گیا تو میں نے گھڑی دیکھی ماری پور ائر پورٹ پر اترے ہوئے ہمیں دو گھنٹے ہو گئے تھے کتنی عجیب بات تھی دو گھنٹے میں ہم کوئٹہ سے کراچی پہنچے اور دو گھنٹے ہمیں ماری پور سے گورنر جنرلز ہاوس پہنچنے میں لگے۔ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا اور دبے الفاظ میں کہا” فضائی سفر کے لیے ہی ان کی حالت کیا کم خراب تھی کہ ایمبولینس کا یہ تکلیف دہ واقعہ بھی پیش آگیا۔ جلد ہی وہ گہری نیند سو گئے اور ڈاکٹر یہ کہتے ہوئے گورنر جنرلز ہاوس سے یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ وہ جلد ہی واپس آجا ئیں گے اب میں اپنے بھائی کے ساتھ بالکل تنہا تھی میرا بھائی بہت گہری نیند سو رہا تھا میرے ذہن میں گویا ایک وجدانی تصور ابھرا اور میں نے یہ محسوس کیا کہ یہ پر سکون نیند بجھنے والی شمع کی لو آخری تیز چمک ہے میں خاموش تھی اور خاموشی میں اپنے بھائی سے مخاطب تھی: “اوہ جن ؛ کاش ڈاکٹر میرا تمام خون نچوڑ کر تمھیں دے دیں تا کہ تم زندہ رہو ۔کاش خدا میری زندگی کے تمام برس لے کر تمہیں دے دے تا کہ تم ہماری قوم کی رہنمائی
کرتے رہوتو میں خدا کی کتنی شکر گزارہوں گی ” تقریباً دو گھنٹے کی پر سکون اور بے دخل نیند کے بعد انہوں نے آنکھیں کھولیں،مجھے دیکھا سر اور آنکھوں کے اشارے سے مجھے قریب آنے کو کہا آخری مرتبہ کوشش کرکے زیر لب مجھ سے مخاطب ہوئے ” فاطی خدا حافظ ۔ ۔ ۔ لا اِلٰہ ۔ ۔ ۔ ۔ الا اللہ محمد ۔ ۔ ۔ الرسول ۔ ۔ ۔ اللہ ” پہر ان کا سر دائیں جانب کو آہستگی سے ڈھلک گیا اور آنکھیں بند ہو گئیں  —

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں