سقوطِ ڈھاکہ پر لکھی گئی۔۔۔امجد اسلام امجد کی نظم

سقوطِ ڈھاکہ پر لکھی گئی۔۔۔امجد اسلام امجد کی نظم

اے زمینِ وطن ہم گنہگار ہیں

ہم نے نظموں میں تیرے چمکتے ہوئے بام و در کے بیتاب قصے لکھےپھول چہروں پہ شبنم سی غزلیں کہیں، خواب آنکھوں کے خوشبو قصیدے لکھےتیرے کھیتوں کی فصلوں کو سونا گنا، تیری گلیوں میں دل کے جریدے لکھےجن کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھا نہیں، ہم نے تیری جبیں پر وہ لمحے لکھے

جو تصور کے لشکر میں لڑتے رہے، ہم وہ سالار ہیںہم گنہگار ہیں

اے زمینِ وطن ۔۔۔ ہم گنہگار ہیں

ہم تیرے دکھ سمندر سے غافل رہےتیرے چہرے کی رونق دھواں ہو گئی اور ہم رہینِ غمِ دل رہےظلم کے روبرو لب کشائی نہ کی، اس طرح ظالموں میں بھی شامل رہےحشرآور دنوں میں جو سوئے رہے، ہم وہ بیدار ہیں ہم گنہگار ہیں

اے زمینِ وطن ۔۔۔ ہم گنہگار ہیں

جاگتی آنکھ سے خواب دیکھے، ان کو اپنی مرضی کی تعبیر دیتے رہےہم تیرے بارآور موسموں کے لئے بادِصرصر میں تاثیر دیتے رہےہم اندھیرے مناظر کو روشن دنوں کی امیدوں سے تنویر دیتے رہےتیرے ساحل کی آزادیوں کے لئے ہم تلاطم کو زنجیر دیتے رہےجو ہمیشہ تجھے آرزو کے جھروکے سے تکتے رہے، ہم وہ فنکار ہیںہم گنہگار ہیں

اے زمینِ وطن ۔۔۔ ہم گنہگار ہیں

جب تیرے زرد پڑتے ہوئے موسموں کو مہکتی شفق کی ضرورت پڑیہم نے اپنا لہو آزمایا نہیںتیری خوشبو سکُوں کی تمنا لئے آندھیوں کے جلو میں بھٹکتی رہیہم نے روکا نہیںتیری مٹی نگاہوں میں بادل لئے خشک موسم کی راہوں میں بیٹھی رہیہم نے دل کو سمندر بنایا نہیںتیری عزت زمانے کے بازار میں دل جلاتی بولیوں میں بکیہم نے کانوں میں سیسہ اتارا نہیںہم گنہگار ہیں

اے زمینِ وطن ۔۔۔ ہم گنہگار ہیں

اے زمینِ وطن!تجھ کو تو علم ہے، لوگ کیوں درِ راہِ ملامت ہوئےجن محافظ دشمنوں کے علم تیرے روشن لہو کی شہادت ہوئےہم بھی ان کی سیاست کے نخچیر ہیں،آستینوں کے جو سانپ ثابت ہوئےہم بھی تیری طرح سازشوں کی ہوا کے گرفتار ہیںہم گنہگار ہیں

اے زمینِ وطن ۔۔۔ ہم گنہگار ہیں

ہم گنہگار ہیں اے زمینِ وطن! پر قسم ہے ہمیں اپنے اجداد کیسرحدوں سے بلاتے ہوئے خون کی، اپنی بہنوں کی حرمت کی، اولاد کیہاں قسم ہے ہمیں آنے والے دنوں کی اور آنکھوں میں ٹھہری ہوئی یاد کی

اب محافظ نما دشمنوں کے علم ان کے کالے لہو سے بھگوئیں گے ہمتیرے دامن کے رسوائیوں کے داغ اپنے آنسوؤں سے دھوئیں گے ہمآخری مرتبہ اے متاعِ نظر! آج اپنے گناہوں پہ روئیں گے ہم

تیری آنکھوں میں اے نگارِ وطن! شرمساری کے آنسو نہیں آئیں گےہم کو تیری قسم اے بہارِوطن اب اندھیرے سفر کو نہ دہرائیں گے

گر کسی نے تیرے ساتھ دھوکا کیا ،وہ کوئی بھی ہواس کے رستے کی دیوار بن جائیں گےجان دے کر تیرا نام کر جائیں گے

اے زمینِ وطن ۔۔۔ اے زمینِ وطن ۔۔۔!اے زمینِ وطن ہم گنہگار ہیں

ہم نے نظموں میں تیرے چمکتے ہوئے بام و در کے بیتاب قصے لکھےپھول چہروں پہ شبنم سی غزلیں کہیں، خواب آنکھوں کے خوشبو قصیدے لکھےتیرے کھیتوں کی فصلوں کو سونا گنا، تیری گلیوں میں دل کے جریدے لکھےجن کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھا نہیں، ہم نے تیری جبیں پر وہ لمحے لکھے

جو تصور کے لشکر میں لڑتے رہے، ہم وہ سالار ہیںہم گنہگار ہیں

اے زمینِ وطن ۔۔۔ ہم گنہگار ہیں

ہم تیرے دکھ سمندر سے غافل رہےتیرے چہرے کی رونق دھواں ہو گئی اور ہم رہینِ غمِ دل رہےظلم کے روبرو لب کشائی نہ کی، اس طرح ظالموں میں بھی شامل رہےحشرآور دنوں میں جو سوئے رہے، ہم وہ بیدار ہیں ہم گنہگار ہیں

اے زمینِ وطن ۔۔۔ ہم گنہگار ہیں

جاگتی آنکھ سے خواب دیکھے، ان کو اپنی مرضی کی تعبیر دیتے رہےہم تیرے بارآور موسموں کے لئے بادِصرصر میں تاثیر دیتے رہےہم اندھیرے مناظر کو روشن دنوں کی امیدوں سے تنویر دیتے رہےتیرے ساحل کی آزادیوں کے لئے ہم تلاطم کو زنجیر دیتے رہےجو ہمیشہ تجھے آرزو کے جھروکے سے تکتے رہے، ہم وہ فنکار ہیںہم گنہگار ہیں

اے زمینِ وطن ۔۔۔ ہم گنہگار ہیں

جب تیرے زرد پڑتے ہوئے موسموں کو مہکتی شفق کی ضرورت پڑیہم نے اپنا لہو آزمایا نہیںتیری خوشبو سکُوں کی تمنا لئے آندھیوں کے جلو میں بھٹکتی رہیہم نے روکا نہیںتیری مٹی نگاہوں میں بادل لئے خشک موسم کی راہوں میں بیٹھی رہیہم نے دل کو سمندر بنایا نہیںتیری عزت زمانے کے بازار میں دل جلاتی بولیوں میں بکیہم نے کانوں میں سیسہ اتارا نہیںہم گنہگار ہیں

اے زمینِ وطن ۔۔۔ ہم گنہگار ہیں

اے زمینِ وطن!تجھ کو تو علم ہے، لوگ کیوں درِ راہِ ملامت ہوئےجن محافظ دشمنوں کے علم تیرے روشن لہو کی شہادت ہوئےہم بھی ان کی سیاست کے نخچیر ہیں،آستینوں کے جو سانپ ثابت ہوئےہم بھی تیری طرح سازشوں کی ہوا کے گرفتار ہیںہم گنہگار ہیں

اے زمینِ وطن ۔۔۔ ہم گنہگار ہیں

ہم گنہگار ہیں اے زمینِ وطن! پر قسم ہے ہمیں اپنے اجداد کیسرحدوں سے بلاتے ہوئے خون کی، اپنی بہنوں کی حرمت کی، اولاد کیہاں قسم ہے ہمیں آنے والے دنوں کی اور آنکھوں میں ٹھہری ہوئی یاد کی

اب محافظ نما دشمنوں کے علم ان کے کالے لہو سے بھگوئیں گے ہمتیرے دامن کے رسوائیوں کے داغ اپنے آنسوؤں سے دھوئیں گے ہمآخری مرتبہ اے متاعِ نظر! آج اپنے گناہوں پہ روئیں گے ہم

تیری آنکھوں میں اے نگارِ وطن! شرمساری کے آنسو نہیں آئیں گےہم کو تیری قسم اے بہارِوطن اب اندھیرے سفر کو نہ دہرائیں گے

گر کسی نے تیرے ساتھ دھوکا کیا ،وہ کوئی بھی ہواس کے رستے کی دیوار بن جائیں گےجان دے کر تیرا نام کر جائیں گے

اے زمینِ وطن ۔۔۔ اے زمینِ وطن ۔۔۔!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *