1

فرشتو ! ذرا دم بھر ٹھہر جاؤ

تحریر : عبیرہ گل

فرشتو تم تو بس کردو !
میرے کاندھے پہ تو پہلے ہی
الزاموں کی تختیاں سجیں ہیں
تو کیا اب تم بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
اس زمین میں گڑے ہویے کو
اندر تلک گاڑنے آیے ہو
فرشتو تم کویی انساں ہو جو
مجھ مجبور کو فیصلہ
یوں آسانی سے سنادو گے
ذرا لمھے کو رک جاو
مجھے دم بھر سانس لینے دو
مجھے سب یاد کرلینے دو
وہ جرم جنکا میں ”مجرم” کیونکر ہواتھا
وہ خواہش کے کنکر
جنھیں میں نے کیونکر چنا تھا
وہ میرے کردہ گناہوں کے رستے
جنھوں نے کس طور پیرے قدموں کو کھینچا تھا
فرشتو! ذرا دم بھر کو ٹھر جاو ۔۔۔۔
اور ہاں جب تم مجھے فیصلہ تو اس سے پہلے
صرف نامہ کردن ہی نہیں پڑھنا
ذرا نوشتہ تقدیر بھی دیکھنا
میری رہین ہائےجاں نے جو جھیلے ستم
کاتب وقت کے ہاتھوں
انھیں بھی تم نظر میں رکھنا
فرشتو ان سب سے ہٹ کے
ذرا مجھ پہ رحم بھِ کرنا
بہت مدت کا جاگا ہوں
شب فرقت کا مارا ہوں
مجھے دم بھر کی مہلت دو
یہ خاک کے بستر کی خوشبو
میرے برسوں کی چاہت ادھوری
انکا مان تم رکھ لو
مجھے آنکھیں بند کرلینے دو
مجھے مدہوش رہنے دو
یہ برسوں کی بچھڑی نیند
آج مہرباں ہورہی ہے
مجھے اس سے آشنا ہونے دو

فرشتو !
ذرا دم بھر ٹھہر جاو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں