اسی سے فقیری میں ہوں میں امیر

زندگی کا وه حصہ جب اپنی صلاحیتوں کے بل پر سہانے سپنے دیکھے جاتے ہیں، جب دنیا کی تمام لذتیں سامنے ہوتی ہیں مگر اپنی جوانی کو دنیا کی سہولیات حاصل کرنے کے بجائے فکر آخرت اور خوف خدا میں گزارنا، طلبہ اور نوجوانوں کو اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی گزارنے کی دعوت اور جستجو میں گزارنا اور دنیا کو ٹھوکر مار کر صرف اپنے رب کی رضا کی تمنا کرنا کوئی چھوٹی بات نہیں-
میں ذکر کررہا ہوں سید منور حسن کا جوانی اسلامی جمعیت طلبہ کے نام کردی، اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو نوجوانوں تک پہنچانے کےلیے وقف کردی- اور پھر 22 سال سے زیادہ مدت جماعت اسلامی کے نام کردی- مگر دل میں کوئی لالچ رکھ کر نہیں بلکہ صرف رب کی رضا کےلیے-
دنیا میں عہدوں کے پیچھے بھاگنے والوں‎‏،‏‎ ‎‏ عہدوں کےلیے ایک دوسرے کی ذاتیات تک پہنچنے والوں، عہده مل جانے پر جشن منانے والوں اور اس عہدے کی طاقت سے اپنے لیے اور اپنے بچوں کے کل کےلیے مال جمع کرنے والوں آؤ دیکھو جماعت اسلامی ایک اور مثال قائم کرکے دیکھا رہی ہے-
سید منور حسن جنہوں نے اپنی اولاد کی بھی ایسی تربیت کی کہ بیٹی نے اپنی شادی میں ملنے والے سارے تحائف یہ کہہ کر جماعت اسلامی کے بیت المال میں جمع کروا دیے کہ یہ تحائف امیر جماعت کی بیٹی کو ملے اور ان پر جماعت کا حق ہے-
سید منور حسن منصورہ سے کراچی میں اپنے چھوٹے سے مکان میں شفٹ ہوئے، زندگی کا ایک عرصہ اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو پھیلانے کےلیے لگا کر منصورہ سے رخصت ہوئے مگر ساتھ صرف ایک چھوٹا سا اٹیجی کے کر گئے ہاں اگر کوئی دولت لے کر گئے تو رب کی رضا اور خوشنودی کی دولت لے کر گئے-
مجھے فخر ہے میں انہی درویش اور تقوی کے پیکر انسانوں کے قافلے کا ایک راہی اور جماعت اسلامی پاکستان کا ایک ادنی سا کارکن ہوں-
رب العزت کی بارگاہ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالی سید منور حسن کی کوششوں کو قبول فرمائے، اور انہیں اس کا بہترین اجر عطا فرمائے-
‏(آمین)

یہی کچھ ہے ساقی متاح فقیر،
اسی سے فقیری میں ہوں میں امیر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *