کمزور عقیدوں کے شکاری

تحریر : رابیل چودھری

رابیل

آجکل ٹی وی اور سوشل میڈیا پہ جعلی پیروں اور انکے ان پڑھ مریدوں کے کارنامے کافی تسلسل سے رپورٹ ہو رہے ہیں . پچھلے کئی ماہ سے مسلسل اس سلسلے میں نہایت ہولناک خبریں سننے کو مل رہی ہیں اور تقریبا ہر شہر میں ان لوگوں نے ”عامل بابا ، بنگالی جادوگر، ہر طرح کے مسایل کا حل ایک فون کال میں قسمت کا حال جانیے جیسی بڑی بڑی وال چاکنگ کروا رکھی ہیں حتی کہ ایک ٹی وی پروگرام میں دیکھا کہ ایک ہی عامل نے شہر کے مختلف علاقوں میں مختلف ناموں سے اشتہار بازی کر رکھی ہے۔ لیکن اگر زرا غور سے نیچے لکھے فون نمبر پہ نظر ڈالیں تو وہ وہی ایک ہی فون نمبر ہے،اس طرح کے فراڈیے ہمارے کمزور عقاید اور ہمارے مسائل کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور لوگوں کو جعلی عملیات کے زریعے لوٹتے ہیں ۔ بات مالی نقصان تک  ہی نہیں رہتی ابلکہ اس گندے کھیل میں اکثر خواتین عزتیں تک گنوا بیٹھتی ہیں، بچے ذبح کر دیے جاتے ہیں، قبروں سے لاشیں نکال کے بے حرمتی کی جاتی ہے، یہ سارے قبیح کام اسلام مین سراسر حرام ہیں اور ان لوگوں کا اسلام سے دور دور تک کوی تعلق نہیں ہوتا، نبی کریم ﷺ نے فال نکالنے والوں کے پاس جانے سے منع فرمایا ہے اور جادو کو سخت ناپسند فرمایا حسد اور تعصب میں خود نبی کریم ﷺ پہ یہودیوں نے جادو کروا یا تھا ۔

کافی ممالک میں جادو کرنے والےکو موت کی سزا دے دی جاتی ہے،مملکت خدا داد اسلامی جمہوریہ پاکستان مین بھی اس سلسے میں قوانین موجود ہین لیکن ان پہ عمل درامد ندارد ہے،حالانکہ یہ سب کام خلاف اسلام ہیں اور آئین پاکستان کی پہلی چند دفعات اسی سلسلے میں حکومت کی رہنمائی کرتی ہیں کہ خلاف اسلام کاموں کو ملک میں نہیں پنپنے دیا جاے گا۔ مگر آج پورے ملک میں یہ حال ہے کہ ان  جعلی عاملوں  کی شکل میں ، صوفیوں کے ہاتھوں ہزاروں گھر اجڑ رہے ہیں کسی نے خواتین کی عزت لوٹی تو کسی نے بچوں کو ذبح کیا،کسی نے خزانوں کی تلاش کے لالچ میں جواں سالہ بیٹے کو اپنے ہاتھوں کھدی قبر میں اتار دیا ، یہ سب قابل دست اندازی پولیس جرائم ہیں۔،

میں سرگودھا جیسے چھوٹے شہر کے کمپنی باغ کے قریب سے جب بھی گزرتا ہوں وہاں درجنوں نام نہاد عامل،پروفیسر اور بابے بیٹھے عوام کو ان کی قسمت کا حال بتا رہے ہوتے ہیں،کوئی طوطے قید کیے اس قیدی جانور سے آزاد انسانوں کے مقدر کا حال جاننے کی تگ و دو کر رہے ہوتے ہیں، قصور ان کے جال میں آنے والے ان لوگوں  کا بھی ہے لیکن جرائم کو روکنا حکومت کی ذمہ داری ہے، صحافیوں کی ذمہ داری ہے کہ ان معاملات کو اجاگر کریں ، پولیس کی زمہ داری ہے کہ ان جعل سازوں کو گرفتار کرے، بلدیہ کی ذمہ داری ہے کہ اسکے زیر انتظام فٹ پاتھوں پہ بیٹھے یہ دو نمبر کاروباریوں پر جرمانے کرے ، اور سب سے بڑھ کے اساتزہ کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو ان کے بارے میں تعلیم دیں، علما کی زمہ داری ہے کہ وہ اس قبیح کاروبار کو خطبہ جمعہ کا موضوع بنایں ، تاکہ کل کو کسی اور کی بچی کے پاوں نہ جلیں ، کسی اور کا بیٹا منوں مٹی تلے نہ دب جاے، کسی اور کی بہو بیٹی کی عزت خطرے میں نہ پڑے ۔۔۔۔ !

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *