یہی ہے ساقی متاع فقیر

آج وہ سید زادہ نصف صدی سے زائد کٹھن راستوں کا سفر طے کر کہ چند ایک جوڑے کپڑے اور کچھ کتابیں لیے ہلکا پھلکا یوں مطمئن لوٹ رہا تھا  جیسے بس جو کچھ تھا وہ تو متاع آخرت کی تلاش ہی تھی گویا۔۔۔۔ اس نصف صدی کے قصے میں صعوبتوں سے بھری جیلیں بھی آئیں، تشدد اور مخالفین کی ہرزہ سرائی بھی، جمہوریت بھی حق کے آگے رکاوٹ بنی تو آمریت نے بھی خاموش کرانے کی کوشش، مگر سید تو مرد آہنگ نکلا.۔۔۔
دن میں اقامت دین کے سفر اور رات الله عزوجل کے قرب حاصل کرنے کی جدوجہد۔۔۔
نوٹوں سے بھرے بیگ تھے نہ کوئی بینک بیلنس ۔۔۔۔
نہ ہی ایک جماعت کے سربراہ نے اپنے لیے کوئی کوٹھی تیار کروائی تھی کہ امارت سے فارغ ہو کر جہاں آرام سے رہاجا سکے۔
وہ کہ جس کی سچ گوئی اونچے اونچے ایوانوں میں ہلچل مچا دیا کرتی اور بڑے بڑوں کی بوکھلاہٹوں میں اضافہ کردیا کرتی تھی ۔۔۔۔۔
وہ کہ جو کسی سے ڈرنے والا نہیں تھا جس نے مصلحتا بھی کسی سے دبنا نہیں سیکھا تھا۔۔۔۔
آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حق اور سچ ڈنکے کی چوٹ پر کہنا جس کا شیوہ تھا۔۔۔۔

مجھے راز دو عالم دل کا آئینہ دکھاتا ہے
وہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہے
عطا ایسا بیاں مجھ کو ہوا رنگیں بیانوں میں
کہ بام عرش کے طائر ہیں میرے ہم زبانوں میں

ائیرپورٹ پر اس کی واپسی کی تصاویر دیکھتے ہوئے آنکھیں بہنے لگیں تھیں ۔۔۔۔۔۔!!
مجھے سید کے یوں لوٹنے کا دکھ نہیں تھا کہ یہ امارت تو دراصل امانت ہوا کرتی ہے اور ایسے ہی اگلے آنے والوں کے سپرد کردی جاتی ہے۔ سید زادے نے بھی ایک مخلص امانت دار کی طرح یہ امانت اس کے اگلے امین تک پہنچا دی تھی۔
اور وہ خود عمر کے اس مقام پر بھی اپنی گرتی ہوئی صحت کے باوجود ہمیشہ ایک نوجوان سے زیادہ پرعزم دکھائی دیے۔۔ اورسب جانتے ہیں کہ آج بھی دین کی سربلندی کے لیے کچھ کرتے رہنے کی خواہش یقینا انھیں چین سے نہیں بیٹھنے دے گی ۔
آج جب سیدی ایک کارکن سے امارت تک کے سفر کے بعد منصورہ سے رخصت ہو رہے تھے تو میں سوچ رہی تھی کے یہ عظیم شخص بہت مختصر عرصہ کے لیے تحریک اسلامی کا امیر بنا مگر اس نے جماعت اسلامی کو اس کی شناخت اور نشان کے ساتھ اور مستحکم کیا۔ اس قوم کی بدنصیبی کہ اس نے سید کی بےباکی و حق گوئی اور جماعت اسلامی کی اجلی سیاست کا ایک بار پھر ساتھ نہ دیا، گویا وہ ابھی بھی جھوٹ اور فریب زدہ سیاست سے چمٹے رہنا چاہتی ہے اس نے ان ہیروں پر مٹی ہی نہیں بلکہ گوبر کے بنے اوپلوں کو ترجیح دی۔ صد افسوس کہ سوئی ہوئی اس قوم کو اب بھی اس نقصان کا ادراک نہیں جس کی تلافی اب ممکن نہ ہوگی ۔۔۔۔۔۔ !!
میں اکثر یہ سوچ کر خوفزدہ ہوجاتی ہوں کہ اس قوم نے امین اور بےداغ کردار کی حامل قیادت کو چھوڑ کر جن چوروں اور لٹیروں کو ہر بار نہ صرف یہ کہ اپنے سینے پر چڑھنے کا موقع دیا بلکہ  اپنا ہی خون پلا پلا کر اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کے خون چوسنے کےلیے بھی تیار کیا جو ان کی پیاس بجھانے کا ایسے ہی ذریعہ بنیں گی جیسے آج ان کے آباء بنے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔!!
زندہ انسانوں کو نوچ کھانے کا یہ بھیانک کھیل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک یہ قوم اپنے اندر ان آدم خوروں کے دانتوں کو توڑ دینے کی اہلیت نہیں پیدا کرلیتی اور اپنے لیے خود اپنے جیسوں میں سے ہی کسی رحم دل اور امین کو نہیں چن لیتی ۔۔۔۔
کون جانے کہ یہ کب ہونا ھے مگر جس دن اس قوم نے یہ کام کر لیا یقین جانیے وہ صرف اپنی نہیں بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے بھی حفاظت کا سامان کر لے گی۔

2 تبصرے
  1. 30 April, 2014
    RAHEELA IRRUM

    منور صاحب اس دور کے انسان نہں تھے اور قوم نے ان جیسوں کو کب ووٹ دینا تھا جنکے پاس امانت داری اور تقویٰ کے علاوہ کچھ نہں اور ہم سب اسکا حمیازہ بھگت رہیں ہیں جسکی وجہ یہ صرف ہے کہ قوم نے امین اور بےداغ کردار کی حامل قیادت کو چھوڑ کر جن چوروں اور لٹیروں کو ہر بار نہ صرف یہ کہ اپنے سینے پر چڑھنے کا موقع دیا بلکہ اپنا ہی خون پلا پلا کر اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کے خون چوسنے کےلیے بھی تیار کیا جو ان کی پیاس بجھانے کا ایسے ہی ذریعہ بنیں گی جیسے آج ان کے آباء بنے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔!!

    Reply
  2. 30 April, 2014
    Ehtesham Shahid

    faman zuhziha AAani alnnari waodkhila aljannata faqad faza wama alhayatu alddunya illa mataAAu alghuroori

    جو شخص اس آیت کے مطلب سمجھ جائے اس کی زندگی ایسی ہی ہوتی ہے. دنیا کی آسائشوں کے لیے دوڑ دھوپ سعی و جدوجہد ان کا مطمع نظر نہیں ہوتا جو اخروی کامیابیوں کے متلاشی ہوں،

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *