جنت میری تیرے قدموں تلے ہے ماں

پوری دنیا میں ہر سال مئی کے دوسرے اتوار کو ماؤں کا عالمی دن منایا جاتا ہے- میں سیکولرز کی طرح ماں باپ سے محبت کےلیے سال میں ایک دن مختص کرنے کا قائل نہیں- کیونکہ اسلام ہمیں جو تعلیمات دیتا ہے اس سے ہمیں سال کے باره مہینے، مہینے کے تیس دن، دن کے چوبیس گھنٹے، گھنٹے کے ساٹھ منٹ اور منٹ کے ساٹھ سیکنڈ ماں باپ سے محبت اور ان کی فرمانبرداری کا درس ملتا ہے- محبت اور پیار کے سارے استعارے ماں پر آکر ختم ہوجاتے ہیں- اسی لیے تو ہمارے آقا نے فرمایا “ماں باپ کے چہرے پر پیار بھری نگاہ ڈالنا حج اکبر کے برابر ہے”-
اہل مغرب، سیکولرز، لبرلز اور لنڈے کے انگریزوں کا حال ایسا ہے کہ ماں باپ تھوڑے بڑی عمر کو پہنچے جاکر انہیں کسی اولڈ ایج ہاؤس میں جمع کروادیا اور پھر سال میں ایک دن مئی کے دوسرے اتوار پھولوں کے گلدستے کے ساتھ ماں باپ سے ملاقات کی اور فرمانبردار اولاد کا ایوارڈ حاصل کرلیا- بدقسمتی سے اب پاکستان میں بھی یہ فعل عام ہورہا ہے- کچھ لوگ ماں کے بڑھاپے میں اس سے اکتا جاتے ہیں اور گھر کی فالتو چیز سمجھنے لگتے ہیں- حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ جس نے بڑھاپے میں اپنے والدین کو پایا اور جنت حاصل نہیں کرسکا وه تباہ و برباد ہوگیا-پروفیسر انور مسعود صاحب کی نظم “امبڑی” جو ان کی کتاب “میلہ اکھیاں دا” میں موجود ہے ایک سچا واقعہ ہے جو خود ان کے ساتھ پیش آیا- جس میں ایک طالب علم کا قصہ ہے جو اپنی ماں کو مارتا پیٹتا ہے اور بدلے میں ماں کو پھر بھی اسی نافرمان بیٹے کی فکر لاحق ہوتی ہے- ایک دوست نے اس پنجابی نظم کا اردو ترجمہ کرنے میں مدد کی- اس پنجابی نظم کو اردو ترجمے کے ساتھ پیش کررہا ہوں تاکہ پنجابی زبان نہ سمجھنے والے بھی اس واقعے کو سمجھ سکیں اور ماں جیسے انمول موتی کی قدرت کرسکیں-

امبڑی (ماں)
ماسٹر: اج بڑی دیر نال آیاں ایں بشیریا!
ایہ تیرا پنڈ اے تے نال ای سکول اے،
جائں گا توں میرے کولوں ہڈیاں بھناں کے،
آیاں ایں تو اج دوونویں ٹلیاں گھسا کے،

ترجمہ (اردو)
ماسٹر: آج بڑی دیر سے تم آئے ہو بشیر!
قریب تمہارا گاؤں ہے اور ساتھ اسکے سکول ہے،
جاؤ گے تم مجھ سے ہڈیاں تڑوا کے،
آئے ہو تم آج دونوں پیریڈ گزار کے،

بشیرا: منشی جی میری اک گل پہلں سن لو،
اکرمے نے نھیر جیہا نھیر اج پایا جے،
مائی نوں ایہ مار دائے تے بڑا ڈاہڈا مار دائے،
اج ایس بھیڑکے نے حد پئ مکائی اے،
اوہنوں مار مار کے مدھانی بھن سٹی سو،
بندے کھٹے ہوے نیں تے اوتھوں پج گیائے،
چک کے کتاباں تے سکول ول نسیائے،

ترجمہ (اردو)
بشیر: منشی جی میری ایک بات پہلے سن لیں،
اکرم نے اندھیر سا اندھیر آج مچایا ہے،
ماں کو یہ مارتا ہے اور بہت مارتا ہے،
آج یہ پھلانگ گیا حدیں ساری،
ماں کو مار مار کے مدھانی توڑ دی ہے،
لوگ اکٹھے ہوئے تو فرار وہاں سے ہوا ہے،
کتابیں اٹھا کر یہ سکول کی طرف بھاگا ہے،

مائی ایہدی منشی جی گھر ساڈے آئی سی،
مونہ اتے نیل سن، سجا ہویا ہتھ سی،
اکھں وچ اتھرو تے بلاں وچ رت سی،

ترجمہ (اردو)
مان اس کی منشی جی گھر ہمارے آئی تھی،
منہ پہ نیل پڑے تھے اور ہاتھ سوجا ہوا تھا،
آنکھوں میں آنسو اور ہونٹوں پر خون تھا،

کہن لکی سوہنیا وے پتر بشیریا،
میرا اک کم وی توں کریں اج ہیریا،
روٹی میرے اکرمے دی لئ جا مدرسے،
اج فیر ٹر گیا اے میرے نال رس کے،

ترجمہ (اردو)
کہنے لگی پیارے او بیٹا بشیر،
کام آج میرا ایک کرنا ہے تم نے ہیرے،
روٹی میرے اکرم کی تم لے جاؤ مدرسے،
آج پھر چلا گیا مجھ سے وه روٹھ کے،

گھیؤ وچ گنھ کے پراونٹھے اوس پکاے نیں،
ریجھ نال رنھیاں سوآنڈیاں دا حلوہ،
پونے وچ بنھ کے تے میرے ہتھ وچ دتی سو،
ایہو گل آکھدی سی مڑ مڑ منشی جی،
چھیتی نال جائیں بیبا، دیریاں نہ لائیں بیبا،

ترجمہ (اردو)
گوندھ کر گھی میں پراٹھے اس نے پکائے ہیں،
پیار سے بنایا ہے ساتھ انڈوں کا حلوہ،
یہ سب چیزیں باندھ کر میرے حوالے کی ہیں،
یہی بات کہتی تھی وه بار بار منشی جی،
جلدی سے جانا بیٹا دیر نہ لگانا بیٹا،

اوہدیاں تے لوسدیاں ہون گیاں آندراں،
بھکھا بھانا اج او سکولے ٹر گیا اے،
روٹی اوہنے دتی اے میں بھجا لگایا جے،
اکرمے نے نھیر جیہانھیر اج پایا اے،

ترجمہ :(اردو)
اس کی تو آنیں بھی بھوک سے بلکتی ہوں گی،
بغیر کچھ کھائے پیے وه سکول چلا گیا ہے،
روٹی اس نے دی ہے میں بھاگا چلا آیا ہوں،
اکرم نے اندھیر سا اندھیر آج مچایا ہے-

کتاب میلہ اکھیاں دا
(شاعر انور مسعود)

سورة بنی اسرائیل میں اللہ تبارک نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک اور نرمی کا برتاؤ کرنیکا حکم دیا-
ترجمہ‎:‎
“اور آپ کے پروردگار کا فرمان ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو- اگر ان دونوں میں سے ایک یا دونوں بڑ ھاپے کو پہنچ جائے تو ان کو اف تک نہ کہو- اور نہ ان کو جھڑ کو- بلکہ ان سے نرمی سے بات کرو- اور اپنے بازوں کو نرمی اور عاجزی سے ان کے سامنے پھیلاؤ- اور ان کےلیے یوں دعا رحمت کرو- اے میرے پروردگار تو (ان پر) اس طرح رحم فرما جس طرح ان لوگوں نے بچپن میں مجھ پر (رحمت اور شفقت) عطا کی-
(سورة بنی اسرائیل آیت نمبر ‏۲۴ ۳۲)

اللہ رب العزت نے اس آیت میں اپنی عبادت اور بندگی کے حکم کے ساتھ ہی والدین کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کا حکم بھی دیا- اس سے معلوم ہوا کہ والدین کی خدمت نہایت ضروری اور اطاعت کی حامل ہے-
جن کے والدین حیات ہے وه ان کی خدمت کریں اور ان کی فرمانبرداری کریں اور رب کی رضا کو ممکن بنائیں-
نافرمان اور والدین کو بیکار سی شے سمجھنے والے یاد رکھیں “جن کے قدموں تلے جنت ہو، ان کے سر کا مقام کیا ہوگا”-

‏(میری اس تحریر پر تمام قارئین کی رائے میرے لئے باعث حوصلہ اور باعث افتخار ہوگی)
92-301-2481307
sharjeelqureshi37@gmail.com
www.facebook.com/sharjeel.qureshi.37
www.twitter.com/MSqureshi_JI