میڈیا کی آزادی اور آل رسولﷺ

بہت کوشش کے باوجود وہ قوالی اور اس میں نظر آنے والے مناظر چند لمحوں سے زیادہ سننے دیکھنے کی ہمت نہ کرپائی آواز بند کردی تو سکرین پر چلنے والےقوالی کے الفاظ پڑھ کر تو لمحہ بھر کو ایسے لگا جیسے کسی نے زمین میں زندہ گاڑ دیا ہو ۔۔۔ دل و دماغ بہت دیر تک کچھ کہنے سننے کے قابل نہیں رہے اور اسکے بعد ہی اسی قوالی پر دوسرے چینلز کی ویڈیوز کا منظر عام پر آجانا ۔ مسئلہ یہ نہیں کہ کس کس چینل کے  کس کس شو میں یہ گستاخی کی گئی۔
بلکہ مسئلہ تو اس سے کئی گناہ بڑھ کہ یہ ہے کہ اس ملک کے کروڑوں مسلمان کیا اتنے بے حس اور تماش بین ہو گئے ہیں کہ اب وہ ان دو دو ٹکے کہ بھانڈوں کے بدبو دار منہ سے موسیقی کی جھنکار میں گانوں کی طرز پرگائے گئے آلِ رسول ﷺ، خواتین جنت کی سردار اور دامادِ نبی ﷺ کی شادیوں کے قصے سنیں اور اس پر وہاں موجود بےغیرتوں کا ٹولا جھوم جھوم کر تا لیاں بجاتا ایک طوفان ذلالت اٹھا رہا ہو ۔۔!!
مگر سوال صرف یہی نہیں ۔۔۔۔!!
سوچنے کی بات تو یہ ہے کیا یہ سب ایک دن میں اتنی حدیں کراس کر کہ یہاں تک پہنچ گیے ؟؟؟
نہیں ہرگز نہیں۔۔۔۔۔۔!! بلکہ یہ میڈیا اس عوام کوعرصہ سے روشن خیال آزاد بنانے کی کاوش میں بےحیائی کے انجیکشن  لگا رہا ھے ، ٹی وی ڈرامہ ہوں یا مارننگ شوز میں دکھائی جانے والی بےھودگیاں اور بےغیرتیاں اور ایک طوفان بد تمیزی جس نے عوام کا ہاضمہ اس قدر سخت بنا دیا کہ اب اسے ان سب ضلالتوں کو دیکھ بھی کچھ نہیں ہوتا اور وہ آزادی اور ثقافت کے نام پر نجانے کیا کیا ہضم کرنے لگی ھے  ۔
جب ان شوز میں کھلے عام طوائفوں کو بلایا جائے جہاں وہ اپنی حرکتوں اور اپنی غلیظ گفتگو سے پورے معاشرے کو پراگندہ کریں جب کی میزبان اپنے شو میں اپنی ماں کے ساتھ آنے والے مہمان سے قہقہہ لگا کرلجاتی ہوئی یہ پوچھتی ھے کہ
آپ کا پہلا کریش کب ، کہاں اور کیسے ہوا ؟؟ اور کتنے ہوئے ؟؟؟
(اور بہت کچھ ایسا ہی جس کی ہمارے دین و معاشرے میں کسی طور گنجائیش نہیں ۔۔۔)
گویا ساتھ بیٹھی ماں کا تقدس ، حیا سب کچھ بے دردی سے قتل کیا جارہا ھے اور ہماری نئی نسل کو یہ سکھایا جارہا ھے کہ دیکھو ماں کے یا کسی اور کے سامنے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا یہ ہی زندگی کا گلیمر ھے اسے خوب انجوائے کرو اور وہ گناہ جو اگر کسی نے کبھی کیا بھی تو بندے اور اسکے رب کے درمیان ہے اسے دنیا کے سامنے فخر سے بیان کرنے کا حوصلہ دیا جارہا گویا وہ گناہ اور شرمندگی والی کیفیت ہی انسان میں سے ختم ہوجائے ۔۔۔۔
ہمیں تو اللہ کے نبیﷺ سے یہ حکم ملا ہے ۔
ایمان کا پہلا درجہ برائی کو ہاتھ سے روکیں ، دوسرا درجہ زبان سے روکیں اور تیسرا درجہ یہ کہ ااگر کچھ نہ کر پائیں اسے کم از کم اپنے دل میں تو برا جانیں ۔
مگر اب ایمان کو تھرڈ کلاس درجے میں بھی گورا نہیں کیا جارہا اور باطل اس پر بھی مستقل کاری ضرب لگا رہا ھے ۔۔۔۔ اور یہی بے حسی دراصل قوموں کی موت کا سبب ہوا کرتی ھے کہ جب ان میں سے گناہ کا احساس اجتماعی طور پر ختم ہوجائے کیوں کہ پھر لوٹنے کا تصور ہی ختم ہوگیا اس لیے کہ انسان کو اپنے گناہوں کا احساس اور شرمندگی ہی تو تو رب کی جانب (توبہ ) رجوع کرنے کا ذریعہ بنتا ھے مگر جب اس احساس کو ہی کچل دیا جائے تو سمجھیں توبہ کا دروازہ ہی بند کردیا ۔۔۔ مگر جب یہ دروازہ بند ہوجاتا ھے تو وہ پھراس قوم کے لیے پستیوں کی کوئی حد نہیں ہوتی اور وہ خود اپنے لیے بربادی اور ذلت چن لیتی ہے ۔۔۔
آج ہم من حیث قوم اسی کیفیت سے دوچار ہیں  ہمارے دلوں کے اندر احساس گناہ دم توڑ رہا ھے ایسے میں آل رسول ﷺ کی شان میں گستاخی ہو یا ہمارے دین پر ضرب لگے ہم سب ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرنے کے عادی ہوگیے ہیں ۔۔۔
ہم نے جس طرح اپنا دین بس ڈھولک کی تھاپ کے حوالے کردیا اور خود عشق رسول ﷺ میں سنہری جالیوں کے قصیدوں اور شہر کے بام و در کو برقی قمقموں سے سجانے کو ہی دین کامل سمجھ بیٹھے جبکہ دوسری جانب باطل اپنی چالیں اس قدر تیزی سے چل رہا ھے کہ ہمیں سنبھلنے کا موقع بھی نہیں مل پارہا ۔۔
آپ اس چار دن کے شور پر مت جائیے یہ اس قوم کی عادتوں میں سے ایک عادت ھے بس چار دن شور کر کہ ایسے لمبی نیند سوجاتی ھے ۔  مگر یاد رکھیے یہ آگ جو میڈیا کے ذریعے ہمارے گھروں خاندانوں اور پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لینے جارہی ہے اس آگ میں پھر کچھ نہیں بچنے والا کیونکہ آگ اندھی ہوا کرتی ھے اسکی آنکھیں نہیں ہوتیں وہ کسی روایات و اقدار، دین و مذہب کو نہیں جانتی وہ تو بس اپنے سامنے آنے والی ہر شہ کو جلا کر بھسم کردیتی ھے ۔۔
اب بھی اگر ہم چار دن شور مچا کر پھر ایک پر سکون نیند لینے کے لیے تیار ہیں تو پھر یاد رکھیے رب کے ہاں ہر بار جاگنے کا موقع نہیں ملتا کہ اسکی پکڑ بہت سخت ھے .
رب اعلیٰ کی واضع وعید ھے :
” کیا تم اس بات سے بے خوف ہوگئے ہو کہ آسمانوں والا تمہیں زمین میں دھنسا دے اور اچانک زمین جنبش کرنے لگے ،  کیا تم اس بات سے بے خوف ہوگئے ہوکہ آسمانوں والا تم پر پتھر برسادے؟ پھر تو تمہیں معلوم ہوہی جائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا تھا ”

سورۃالملک

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *