1

یہ جو بحر و بر میں فساد ہے ___________ تم سے ہے!!

وطن عزیز کی حالت یونانیوں کے تھیٹر کی سی ہو گئی ہے، جہاں ہر ان ایک نیا تماشہ جاری رہتا ہے.
یہ تماشہ کس کا ہے بھلا؟  اسلام کا صاحب. ،جس کا جب دل چاہتا ہے اسلام اسلام کھیلتا ہے، ہر ایک اپنا کرتب لاتا ہے اور عوام کو خوب محظوظ کرتا ہے.  کھیل کا  فارمیٹ یوں ہوتا ہے کہ کبھی تو بے چارے اسلام سے ہمدردی کی جاے، اور کبھی لعنت ملامت مگر تھیم ایک ہی ہوتا ہے اور وہ ہے تذلیل…
ملکی حالات پر نگاہ دوڑائیں. ہر طرف ایک طوفان بد تمیزی بپا ہے،سب ہی قسم کے لوگ اس میں شامل ہیں، کہیں اصول و قوانین اور  اخلاقیات کا نام نہیں.ادارے تباہ ہیں، قدروں کو تباہ کرنے میں عوام سے لے کر خواص تک ہر ایک اپنا حصہ ڈال رہا ہے،
مگر جہاں موقع ملا، اسلام اور ملا کو گھسیٹ کر سرخیوں میں لے اے… اور تماشہ شروع ہو گیا. ایک ایک تماشہ کئی کئی روز چلتا ہے.
اس تماشے میں کبھی بے چارے مذھب سے تعزیت کی جاتی ہے، اور کبھی کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے…

فلاں کے مارننگ شو میں اسلام کی توہین ہو گئی، مولوی فتویٰ لائیں، توبہ توبہ فلاں اداکارہ نے اول فول بک دیا، اب کسی مجھول سے مولوی سے سکرین پر مناظرہ کرایا جاے. فلاں بچی کے ساتھ زیادتی ہو گئی، کمبخت مولوی نے قانون میں مسلے ڈالے، ورنہ تو دیکھتے کہ کیسے پولیس اور عدالتیں اور حکومت ساری مظلوم عورتوں کو فٹافٹ انصاف دلواتے.

عشرے گزرے، ملک کے مختلف حصوں میں فساد، خانہ جنگی اور قتل و غارت گری جاری ہے… ڈاکو، قاتل، سیاسی جماعتوں کے قاتل ونگ، علیحدگی پسند ، بھارت، اسرایل نواز اور مذہبی انتہا پسند سب ہی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں. مگر اس سارے فساد کی اصل بنیاد اور وجہ یہ ہے کہ ایک ملا نے شہید اور ہلاک کا قضیہ چھیڑ ڈالا. ورنہ اس سے پہلے تو جنت اور جہنم رسید ہونے کا معاملہ بالکل صاف اور واضح تھا… امن و امان بس قائم ہی ہوا چاہتا تھا… مگر یہ ملا……

یہ بھی سنیے، یہ بچے بھوکے مر رہے ہیں، ان بچیوں کی شادیاں نہیں ہو رہیں، یہ بچے “چائلڈ لیبر” کے مرتکب ہو رہے ہیں، یہ سب بھی ان ملاؤں کا قصور ہے….بھلا کیسے؟ عید پر جانوروں کی قربانی کر کے اتنا بہت سا پیسا برباد ہوتا ہے، یہ پیسا کسی غریب کو کھانا کھلانے کو استعمال کیا جا سکتا تھا، وہ کچھ مولوی ہر روز سڑک پر دسترخوان لگا کر بھوکوں کو مفت کھانا کھلاتے ہیں…. یہ لیجیے یہ ملا لوگوں کو ہڈ حرام بنا رہے ہیں…
یہ اتنا پیسا حج پر خرچ ہوتا ہے، اس سے کتنے ہی سکول کھولے جا سکتے تھے، کتنی ہی غریب بچیوں کی شادی ہو سکتی تھی… یہ بلا ضرورت اتنی بڑی بڑی مساجد بنائی جاتی ہیں، ان سے کتنے ہی ہسپتال بناے جا سکتے تھے…
اور وہ جو کچھ اسلامی جماعتوں اور تنظیموں کے مفت یا سستے ہسپتال چل رہے ہیں، وہ توصاحب، خیراتی ہسپتال ہیں… ان کا موازنہ  توذرا امریکہ اور برطانیہ کے ہسپتالوں سے کیجیے… ثابت کیا ہوا؟  ہونہہ گھٹیا مولویوں کے گھٹیا ادارے….

اس شور و غوغا کے درمیان کسی کا دھیان نہیں جاتا کہ عرض کرے جناب. وہ جو ہر روز ملک میں لاکھوں روپے شادیوں کے ایک ایک فنکشن پر خرچ کیے جاتے ہیں، وہ جو دلہنوں کے تین اور چار لاکھ کے غرارے تیار ہوتے ہیں، چند گھنٹوں کے لئے ہزاروں اور لاکھوں کا میک اپ کیا جاتا ہے، وہ جو کروڑوں روپے خرچ کر ملک کے بہترین پانچ ستارہ ہوٹلوں میں اے روز کبھی فیشن شوز، کبھی میوزیکل کنسرٹ، کبھی فن میلے منعقد کیے جاتے ہیں… ایک ایک ڈیزائنر لاکھوں کے ملبوسات ، اور سامان آرایش کی ترغیب دلاتا ہے، شادیوں کے فنکشن کے لئے ایک سے بڑھ کر ایک سجاوٹ کے لئے بے شمار ویڈنگ پلانرز اور ایونٹ ارگنائزرز لاکھوں اور کروڑوں کے پیکج پیش کرتے ہیں…ان پیسوں سے ایسا کون سا نیکی کا کام ہو رہا ہے کہ یہ پیسا غریب کی بچی کی شادی یا سکول میں داخلوں کے لئے خرچ نہیں ہو سکتا.
یہ جو سارے عاقل اور دانشور، شاعر اور فنکار، سیاست دان اور سرمایہ دار اے روز یورپ اور امریکہ کے ٹورز پر جاتے ہیں، یہ ان پیسوں سے کتنے ہسپتال اور کھیل کے میداناورلائبریریاں قائم کر سکتے تھے؟

اور ذرا کوئی ان سے پوچھے یہ فنکاروں، صحافیوں، فیشن دزاینروں، این جی اوز والوں  نے  کہ آج کل تو یہی ہمارے محسن اور ہیرو، محب وطن، مذہبی رہنما سبھی کچھ ہیں کتنے بین الاقوامی معیار کے مفت یا سستے ہسپتال قائم کیے؟

وہ کسی مولوی نے کسی غریب علاقے میں کوئی سکول کھولا، کوی کنواں کھودا، اس کی الله بھلا کرے کہیں کوئی تصویر اگئی…. بس جناب، اب آپ کلین شیو مولویوں کے فتووں کی بارش سے سیراب ہوں….” خیرات چھپ کر کی جاتی ہے”،” توبہ توبہ خیر کی تشہیر کرتے ہو. شرم نہیں اتی.!”.. اس برسات میں اگر آپ کو کچھ موقع ملے تو ان ہی نیکو کاروں کے پیجز اور کالموں سے ان میوزیکل شوز، ڈنرز ، اور فن میلوں کی روداد اور تصاویر ضرور دیکھ لیجیے گا، جو ان کے محبوب “غیر مولوی” لیڈران نے اپنے خیراتی ہسپتالوں اور اداروں کے لئے چندہ جمع کرنے کو منعقد کرواۓ تھے..
یہ لیجیے ، وہ کہتے ہیں کہ یہ جو اتنے لوگ سود کھا رہے ہیں، یہ بھی اس لیے کہ مولویوں نے نصیحت چھوڑ دی، اور ایک صاحب کہتے ہیں کہ اس لئے کہ کچھ مولویوں نے فلاں بینکنگ کے خلاف کچھ نہیں کہا اس کو سپورٹ کیا…. کوی پوچھے کہ بھائی ان بے چارے مولویوں سے کبھی مشورہ لینے کی توفیق بھی ہوئی آپ کو، یا یوں ہی ایک آدھ کی بات سن کر اپنا فتویٰ جڑ ڈالا؟ مولویوں کی اکثریت آج بھی اس سب کو جائز نہیں کہتی… مگر اس میں دو ہی باتیں ہیں. مولوی سے پوچھے کون، اس کی اوقات ہی کیا ہے وہ کون ہوتا ہے میرے ذاتی معاملات میں دخل دینے والا..؟اور پھر یہ کہ اگر اپنی مرضی کے خلاف جواب ملا تو لعنت ملامت کیسے کریں گے…
لیجیے صاحب یہ سودی کاربار، یہ فحاشی، یہ میڈیا کی بے لگامی، یہ چوری چکاری ، یہ گلی گلی میں ہونے والی کرپشن اس لئے کہ مولوی اپنا کام نہیں کر رہا…. اور جو کبھی مولوی اپنا کام کرے، تو مولوی سیاست کر رہا ہے، منافق ہے… وہ ایک اسلامی جماعت بے رہ روی کے خلاف مہم چلاتی ہے تو اس کا مضحکہ اڑتا ہے، وہ سود کے خلاف مقدمہ کرتی ہے، تو اس کو گھاس نہیں ڈالی جاتی… وہ سادگی اور قناعت کی تعلیم دیتے ہیں تو انتہا پسند اور معصوم خوشیوں کے قاتل ہیں…
بہت نفیس قسم کے شاندار لوگ چچ چچ کرتے، مذھب اور مذہبی جماعتوں پر ملبہ گرا کر اپنے کرپٹ ، مالدار اور دسیوں مقدموں میں گرفتار اور بیسیوں سکینڈلز میں ملوث لیڈران کی تعریف و توصیف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے ہیں…. جیسے کہ پاکستان میں اقتدار ہمیشہ مولوی کے ہاتھ میں رہا ہو . ہر شخص مولوی کے مشورے سے زندگی بسر کرتا ہو، سارے قاتل، کرپٹ، راشی، وڈیرے، پولیس والے، ڈاکو، بیوروکریسی سب مدرسوں سے تعلیمیافتہ ہوں، سارے ادارے، ہسپتال، سکول، سڑکیں، پل بنانا مولویوں کی ذمہ داری ہو. بجلی گیس، تیل، اور اشیاۓ خورد ونوش کی قیمتوں میں اضافہ منبر و محراب سے ہوتا ہو، سارے مقدمات کے فیصلے وکیل اور جج مفتی اعظم پاکستان کے پاس لے جاتے ہوں، یہ دو، تین اور چار شادیاں بھی مولوی ہی کرتے پھرتے ہیں، جن کی بیویاں اے دن پریس کانفرنسوں میں ظلم کی داستانیں بیان کرتی ہیں. (یہاں یہ بات دلچسپ ہے کہ ملک میں “تعدد ازواج” کا سب سے زیادہ رواج فلم اور ٹی وی سے وابستہ افراد، وڈیروں اور سیاست دانوں، اور طبقہ اشرافیہ میں پایا جاتا ہے….خیر کچھ بھی ہو، ذمہ دار تو مذھب اور مولوی ہی ہے نا!).

بات یہ نہیں کہ مولوی معصوم ہے یا اس سے کوی غلطی نہیں ہوئی، بلاشبہ معاشرے کے بگاڑ میں ہر ایک کا حصہ ہے، ہر ایک کی کمی کوتاہی ہے، جس پر تنقید بھی ہونی چاہیے اور اصلاح بھی…
لیکن بد دیانتی اور عیاری یہ ہے کہ ہر بات کی ذمہ داری ایک فریق پر ڈال کر دوسرے سب ذمہ داروں سے توجہ ہٹا دی جاے. اور اسلام اور مولوی سے اپنا بغض نکالا جاے….
اس گلتے سڑتے نظام میں کون دودھ کا دھلا ہے جو خود قاضی القضا بن کرہر پل دوسرے کو کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے…
سیاست دان؟ وکیل؟ جج؟ فوج؟ پولیس؟ صحافی؟ فنکار؟ میڈیا؟ این جی اوز؟ بیوروکریسی؟ افسر؟ ماتحت؟
ہر ایک کی رنگین و سنگین داستانیں منظر عام پر موجود ہیں.
مگر ہر ایک اپنے ڈرائنگ روم کے نرم گدیلوں پر دھنس کر ہزاروں روپے کا تمباکو پھونکتے ہوے مولوی کو گالی دے کر اور مذھب کو مورد الزام ٹھہرا کر ملک و ملت کی خدمت انجام دے رہا ہے. اور اس خدمت کے نتیجے میں ملک ترقی کے راستے پر گامزن ہوتا چلا جا رہا ہے.
برادر حسیب خان نے بہت خوب لکھا کہ “مولوی اس ذلیل معاشرے کی ایک ایسی پراڈکٹ ہے جو اپنی ذلت کا طوق مولوی کے گلے میں ڈال کر بری الزمہ ہو جانا چاہتا ہے.”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں