اےدین کے مجاہد تو کہاں چلا گیا ہے ؟؟

 

اسکول پیرینٹس ٹیچر میٹنگ تھی ارقم جو بظاہر بہت کم گو نظر آتا مگر اپنے کلاس فیلوز کے ساتھ الگ ہی رنگ دکھاتا ہم اسکے ٹیچرز کے ساتھ بیٹھے تو سب ہی کی طرف سے شکایات کا پلندہ کھلا ہوا تھا کہ بلکل قابو نہیں آتا کلاس ٹیچر تو اس کی شرارتوں سے بہت ہی نالاں اور ایک ٹیچر کہنے لگے میں جونہی بورڈ پر کچھ لکھنے لگتا ہوں یہ سارے بچوں کو ساتھ لگا کر ترانے پڑھنا شروع کردیتا ہے اور کلاس بلکل جلسہ گاہ کا سماں پیش کرنے لگتی ہے خیر اتنی ساری تعریفوں بعد حسب توقع  ارقم کے بابا کا گرم ہونا بنتا تھا ۔

باہر نکلے تو سامنے شجع بھائی وہی مخصوص مسکراہٹ حال احوال پوچھا ارقم کے بابا نے کہا میں کل سے اسکول آونگا اور سارا دن یہیں گزاروں گا کچھ دن دیکھتا ہوں ارقم کیسے شرارتیں کرتا ہے ۔ شجیع بھائی ایک دم چونکے اور خفگی سے بولے آپ بچے کو کیوں اپنے فوجی اسٹائل میں ہینڈل کرنا چاہتے ہیں ؟ صاحب جو ابھی تک ؑغصہ میں تھے کہنے لگے  نہیں شجیع بھائی  وہ ہر ٹیچرز کو تنگ کرتا ہے کلاس میں شرارتیں کرتاہے ۔۔ شجیع بھائی درمیان میں ہی بات کاٹ کر ہنستے ہوئے بولے غوری صاحب کیا اب یہ شرارتیں اگر وہ نہیں کرے گا تو کیا آپ اور میں کرینگے ؟؟ اور خبردار جو آپ کل سے آئے پھر مجھے بولے آپ نہیں روکتیں انہیں بچوں کی بھی فوجی ٹرینگ کر رہے ہیں آپ لوگ  کل آپ بلکل نہیں آنے دینگی میں خود سنبھال لونگا ارقم کو ۔۔۔ اسکے بعد کئی دن تک ارقم کو اپنے پاس آفس میں کچھ دیر بلا کر بٹھالیتے  کچھ باتیں کرتے ۔

یہ وہ شیر کراچی تھا جس گرجتی ہوئی آواز جو صرف جلسے جلوسوں کو ہی نہیں ہر اک کے دلوں تک کو گرما دیا کرتی تھی جو ہر دل کی آواز تھا ۔۔۔۔۔ تحریک کا سرمایہ جو زمہ داری لی پھر اسے خوب ہی  نبھایا ۔۔۔  ہر سال میٹرک کلاس کے  بچوں کو پاکستان ٹور پر لے کر جاتے ۔۔ میں نے ارسل کو منع کر دیا تھا کہ میں نہیں بھیجونگی اتنی دور مگر اگلے ہی دن آکر بتانے لگا مما سر نصراللہ لے کر جارہے ہیں ۔۔۔۔ میرے پاس تو اب کوئی جواز ہی نہ تھا کہ ایک باپ سے بڑھ کر جو سنبھالنے والے محبت اور شفقت کا سایہ موجود تھا ۔

میں  اور ارسل کے بابا اسے  بار بار یہی سمجھاتے رہے کہ دیکھو زندگی کہ یہ پندرہ روز تمہارے لیے قیمتی ترین ہیں انہیں یونہی نہ گنوانا اور دیکھو سر نصراللہ کی اتنی خدمت کرنا کہ انہیں کسی لمحے بھی یہ احساس نہ کہ تم انکے اپنے بیٹے نہیں ، پورے سفر میں انکے سونے کا کھانے پینے کا ہر طرح سے خیال رکھنا ان کی جوتیاں پہلے سے سامنے رکھنا کسی لمحے بھی غافل نہ ہونا ارسل کے بابا کہتے دیکھو بیٹا یہ سمجھنا کہ میں نہیں وہ مجھ سے بھی بڑھ کہ ہیں استاد کی خدمت کروگے تو سب کچھ پالوگے بس مجھے واپسی پر یہ سننے کو ملے کہ ارسل نے واقعی ایک بیٹا ہونے کا ثبوت دے دیا ۔۔۔۔۔۔ ایسی ہی بہت  ڈھیر ساری نصحیتوں کے ساتھ  دعاوں میں روانہ کیا ۔۔

پھر یہ  ہر ہر لمحہ  ان سے رابطہ کرتے رہے ۔۔۔۔ جہلم میں رات رکنے انتظام کیڈیٹ کالج میں کروایا رات فون کر کے جب انتظامات کا پوچھا تو شجیع بھائی بولے غوری صاحب انتظام تو بہت اچھا ہے مگر انہوں نے ہمیں ہمارے بچوں سے الگ کردیا ہے بچوں کو ہاسٹل میں اور ہمیں استاد ہونے کیوجہ سے ریسٹ ہاوس میں روم دیا ہے ۔۔ غوری صاحب ہنستے ہوئے  بولے چلیں اچھا ہے نا بچے بھی تو ریلیکس ہوں نا کچھ۔ دوسری جانب سے قہقہہ اور بولے نہیں بھئی  ہمارے بچے  بھی ہم سے الگ نہیں رہتے آپ نہیں جانتے جو حال ان سب نے ملکر کیا ہوا ہے ہم اپنے بچوں کو الگ نہیں چھوڑ سکتے ہم نے وہاں دو ٹیچرز کو بچوں کے ساتھ ہاسٹل میں چھوڑا ھے ۔۔

اور ابھی جب میں ارسل کی بنائی ہوئی تصویریں دیکھ رہی ہوں تو ان میں ہر ہر تصویر انکی بچوں سے قربت کی محبت کی گواہی دیتی اور کچھ تصویروں میں تو کئی بچوں نے شجیع بھائی کو گھیرا ہوا ہے اور انکے چہرے پر چادر لپیٹ کر مجاہدوں کی طرح لپیٹ رہے ہیں ارسل بولا مما سر نصراللہ اس وقت ہمیں بتا رہے تھے کہ ہم مولوی نہیں مجاہد ہیں مجاہد ۔۔۔۔۔۔۔۔ آہ ۔۔۔۔زندگی کے آخری سفر کے آخری آخری لمحات میں بھی مجاہدوں کی تربیت کرنے والا وہ واقعی مجاہد نکلا ۔۔۔۔ نہ صرف اپنے قول سے بلکہ اپنے عمل سے بھی وہ ان بچوں کو مجاہد بننے کا سبق دے گیا ۔۔۔ ۔

6

وہ ہمت اور شجاعت کا پیکر ، وہ جو ایک بچے کے لیے بپھرتے ہوئے دریا سے بھی لڑگیا گیا باخدا مجھے یقین ھے کہ دریا نے بھی آج جانا ہوگا کہ وہ کس سے نبرد آزما ہوا ھے ، وہ جس نے استاد کے رتبے کو پھر اک بار عظیم تر کردیا وہ جو امر ہوگیا وہ جو ان سب بچوں کی جان تھا ،  ہر کچھ دیر کے بعد ارسل ایک ہی جملہ دہرا رہا ھے مما ہماری آنکھوں کے سامنے سر پانی میں چلے گئے مما دل نہیں مان رہا مما ایسا نہیں ہوسکتا مما سر نصراللہ آجائینگے نا ساتھ بیٹھی بہن نے دکھ سے کہا ارسل تم چلے جاتے انہیں بچانے تمہیں تو سویمنگ آتی ھے نا تم کیوں نہیں گئے کیوں نہیں بچایا انہیں۔۔۔۔۔۔۔۔!! غرض بس ایک ہی خواہش کہ وہ سفیان کو لیے کہیں سے آجائیں ۔۔۔۔۔وہ جن کی تلاش کبھی ختم نہیں ہوگی  وہ جنہیں ہرہر ہر پل ہرایک میں ڈھونڈا کریں گے۔۔۔۔۔!!

اللہ ربی ان بچوں کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنانا اور انکے نقش قدم قدم پر چلانا ہر ہر گھر سے ایک نصراللہ شجیع بن کر نکلے ۔۔۔ آمین  یا ربی

وفا کے راستے میں جو سبھی سے تیز گام تھا

مجاہدِ جری تھا جو نبیﷺ کا غلام تھا

وہ شخص بھی چلا گیا ، شجیع جسکا نام تھا

روشنی اے روشنی کہاں ہے تو؟؟

1 تبصرہ
  1. 6 June, 2014
    شاذیہ عبد القادر

    اللہ تعالیٰ انکے گھر والوں کی دعائیں ،بہن بھائی دور دراز سے وہ سب لوگ جو کبھی ملے نہیں انکی بھی دعائیں قبول فرما لے آمین۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ آپکے ایک تعلق اور تجربے نے آپکو انکی شخصیت کا گرویدہ بنا دیا رہنما کے طور پہ واقعی وہ ایک مثال ہیں
    درد کا ایک سلسہ ہے جو مسلسل ہے دعا سے رابطہ بھی مسلسل ہے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *