تیری میری آرزو۔۔۔۔۔۔۔۔ شہادت شہادت‎

24 10303466_567337206718108_5024352493634645567_nمئی کی شب نصر اللہ شجع بھائی مزار قائد کے قریب جلسے میں اپنی اور تحریکِ اسلامی کے ہر کارکن کی خواہش کا اظہار یوں نعرہ لگاکر کررہے تھے کہ ’’تیری میری آرزو۔۔۔۔۔۔۔ شہادت شہادت’’
اور چند دن بعد اللہ رب العزت نے شجع بھائی کی آرزو پوری کردی۔
شجع بھائی کو ہم سے جدا ہوئے چھ دن ہوچکے، فیس بک پر بھی ہر ساتھی کے الفاظ میں موجود غم صاف ظاہر ہورہا ہے اور سوشل میڈیا تک رسائی نہ رکھنے والے دوست اور تحریکِ اسلامی کے ساتھیوں سے بھی ملاقات ہوتی ہے تو پہلا سوال شجع بھائی کے متعلق کرتے ہیں۔
ایسا کیا تھا شجع بھائی میں جو ہر شخص اداس ہے؟
حقیقت یہ ہے شجع بھائی بہادری اور محبت کا ایک کوہ ہمالیہ، شہرِ قائد میں مظلوموں کی توانا آواز اور عزم اور جرات کی چٹان تھے۔
دنیا میں کوئی انسانیت سے محبت کا درس دیتا پھررہا ہے تو کوئی انسانی جان کی قدروقیمت بتارہا ہے مگر نصر اللہ شجع بھائی نے قرآن حکیم فرقان حمید کی اس آیت کہ
’’ جس نے کسی ایک انسان کی جان بچائی اس نے پوری انسانیت کو بچایا ’’۔
پر عمل کرکے دیکھا دیا۔
نصر اللہ شجع بھائی نے شہرِ قائد کے ظالموں کو للکارا۔ بھتہ خوروں اور دہشت گردوں کو سارا جہاں نامعلوم کہتا ہے مگر شجع تو شجع تھا یہ مردِ مجاہد شہرِ قائد میں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارنے والے درندوں کو نام لے کر اور ان کی سیاسی وابستگی کے ساتھ ٹاک شوز اور جلسوں میں للکارتا رہا، اور شہر قائد کی سڑکیں اور چوک بھی گواہی دے رہے ہیں کہ یہی وہ تلوارِ خالدؓ تھا جو ظالموں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا تھا اور اس شہر کی گلیوں میں بغیر کسی خوف و خطر، بغیر کسی سیکورٹی اور بغیر کسی پروٹکول کے گھومتا تھا۔
آج اگر پاکستان میں اسکولز و کالجز کی جانب نظر ڈالی جائے تو اکثریت اساتذہ ایسے نظر آتے ہیں جنہوں نے تعلیم کو کاروبار بنا رکھا ہے مگر ایسے میں الحمداللہ تحریکِ اسلامی سے وابستہ افراد نے معاشرے میں ایسی مثالیں قائم کی کیں کہ رہتی دنیا کےلئے سبق ہیں۔
کسی کو یاد ہوں کہ نہ ہوں مجھے یاد ہے ذرا ذرا ایک سال قبل تحریک اسلامی کے کارکن ڈاکٹر سجاد صاحب کی ہمشیرہ سمعیہ نورین شہید گجرات میں جلتی اسکول وین سے بچوں کو نکالتے ہوئے شہادت کے مقام پر فائز ہوئیں اور دنیا کو پیغام دیا میں ایک استاد ہوں میں ان بچوں کی روحانی ماں ہوں۔ بات یہی ختم نہیں ہوتی اور پھر ان کے بھائی جو اپنے گھر کے بچوں کو چھوڑ کر دیگر زخمی اور جان بحق ہونے والے بچوں کو ہسپتال پہنچاتے رہے۔
اور اب نصر اللہ شجع بھائی نے بھی روحانی باپ ہونے کا ثبوت دیا اپنے طالبعلم کو بچانے کےلئے یہ شیر دل جواں کنہار کی موجوں سے الجھ بیٹھا۔
تحریکِ اسلامی کے ہر کارکن کو اس بات پر فخر کرنا چاہیئے کہ ہمیں ہماری قیادت نے خود مثال بن کر اللہ رب العزت کی رضا اور خوشنودی کا راستہ بتایا۔
اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہم سب کو شجع بھائی کی طرح انسانیت کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *