1

کچھ یادیں ۔۔ کچھ باتیں ۔۔ شجیع بھائی کی

“محمد صالح میرجت”

جس دن یہ سانحہ ہوا اسی رات میں اپنے گھر پر نہیں تھا اور ایک دعوت کے سلسلے میں ریاض گیا ہوا تھا تو میری واپسی فجر کے وقت ہوئی اور نماز پڑھنے کے بعد ڈیوٹی کے لیئے الارم لگاکے سوگیا اور جب آنکھ کھلی تو میں نے آفس جانے کی تیاری کی اسی دوران ٹی وی آن کیا تو جیو تیز پر یہ خبر دیکھی کہ جماعت اسلامی کے رہنما نصراللہ شجیع کی ابھی تک کوئی خبر موصول نہیں ہوسکی اور وہ کل دریائے کنہاڑ میں ڈوب گئے تھے ۔۔۔۔۔۔

انا للہ وانا الیہ راجعون یہ خبر سنتے ہیں ہوش و ہواس بکھر گئے کہ یہ کیا ہوگیا جلدی سے موبائل اٹھایا اور یہاں سعودی میں جتنے کراچی کے ساتھی میرے رابطے میں تھے انکو فون کیا اور کسی نے اس خبر کی صداقت پر اعتراض نہ کیا اور سب کی طرف سے خبر کی تصدیق ہوتی رہی لیکن میرا دل پتہ نہیں کیوں تصدیق کرنے کو تیا نہیں تھا اور بار بار غیر یقینی کی کیفیت سے دوچار ہورہا تھا اور آنسو سے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے اور اسی وقت اللہ سے دعا کے لیئے ہاتھ اٹھے ۔۔۔۔۔۔۔ اور سمجھ نہیں آرہا تھا کہ دعا کیا کروں اور خدا کی قسم کچھ بھی دعا میں کہہ نہیں سکا کہ کیا کہوں الفاظ نہیں مل رہے تھے بس صرف ہاتھ اللہ کی بارگاہ میں آنسوؤں کے ساتھ لیئے کھڑا تھا ۔۔۔۔

ناشتہ کیئے بغیر گاڑی اسٹارٹ کی اور آفس چلا گیا اور ویسے بھی بہت دنوں ست آفس کا نیٹ ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے فیس بک ٹیوٹر وغیرہ سے کٹا ہوا تھا لیکن آج دل بہت کہہ رہا تھا کہ فیس بک کھولوں اور دیکھوں تو صحیح کہ ہوا کیا ہے اور بڑے ضبط کے بعد فیس بک کھولا اور ہر طرف شجیع بھائی کی تصویریں اورانکے مطعلق میسیجز پڑے ہوئے تھے اور سب کی پوسٹیں دل پھٹا جارہا تھا اور پھر اپنے وال اور پروفائل کو سیاح کرکے بند کردیا ۔۔۔۔۔۔ حالانکہ مجھے یہ بات بھی یاد آرہی تھی کہ کچھ دنوں پہلے بچوں کے پکنک جانے کے حوالے سے ایک پوسٹ دیکھی تھی  یہ بات بار بار ذہن میں آرہی تھی کہ شاید وہی ٹوئر ہوگا لیکن کوئی واضع پتہ نہ ہونے کی وجہ سے بات سمجھ میں نہیں آرہی تھی ۔۔۔۔ کیونکہ میری کافی عرصہ سے عادت ہے کہ میں تحریک، تحریکی ساتھیوں اور قائدین کے بارے میں ہمیشہ اپنے آپکو باخبر رکھتا ہوں چاہیں کہیں بھی اور کیسے ہی حالات میں کیوں نا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ بے چینی اور اضطراب میں دو تین دن گذارنے کے آج بڑی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے نصراللہ شجیع بھائی ساتھ گزرے ہوئے لمحات میں سے کچھ واقعات پیش کرہا ہوں حالانکہ انکے ساتھ تو بہت سی یادیں وابسطہ ہیں 1996 سے جب وہ اسلامی جمعیت طلبہ کراچی کے ناظم تھے لیکن میں صرف تیں واقعات کا تذکرہ کررہا ہوں ۔

یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب نصراللہ شجیع بھائی نئے نئے ایم پی اے منتخب ہوئے تھے میں اور میرے ایک بہت ہی پیارے دوست بلکہ سب سے پیارے دوست طارق علی میرجت بھائی کراچی میں آغا نور محمد پٹھان صاحب کے دفتر اکیڈمی ادبیات میں بیتھے ان سے گفتگو کررہے تھے اور انسے بات ہورہی تھی کہ مجھے اس وقت کے وزیر تعلیم عرفان مروت سے کسی ضروری کام کے سلسے میں ملنا ہے تو آپ کوئی مدد فرمادیجیئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ ہمارے ملک میں وزیروں مشیروں سے ملنا اتنا آسان تو نہیں ہوتا نا کہ ایک عام آدمی ان سے جاکے کسی وقت بھی مل سکے ۔۔۔۔۔ تو آغا نور محمد صاحب نے فورا کہا کہ کوئی بات نہیں میں ابھی آپکا مسئلہ حل کرتا ہوں اور انہوں نے جھٹ سے نصراللہ شجیع بھائی کو فون ملایا اور انہوں نے بھی اسی تیزی کے ساتھ کہا کہ بلکل آپ انہیں سیکریٹرہٹ بھیج دیں میں ابھی ملواتا ہوں ۔۔۔۔ آغا صاحب نے جیسے ہی فون بند کیا تو ہم نے مسکراتے ہوئے ان سے کہا کہ آغا صاحب آپ نے شجیع بھائی سے ہی کہنا تھا تو پھر ہماری سفارش کرنے کی ضرورت نہ تھی کیا ہم ان سے خود نہیں کہہ سکتے تھے کیا ۔۔۔ تو آغا صاحب نے کہا کہ بھائی اگر آپ لوگوں کی بھی اتنی پہنچ تھی تو پھر مجھ سے کیوں پوچھ رہے تھے ۔۔۔۔ خیر ہم اسی وقت سندھ سیکریٹریٹ پہنچے تو میرے موبائل پر یونس بارائی صاحب کے موبائل سے کال آگئی اور میں نے جب انسے بات کی تو انہوں نے پوچھا صالح بھائی آپ کہاں ہیں میں نے انکو بتایا کہ ہم پھلاں جگہ پہ ہیں تو انہوں نے کہا کہ آپ ادھر ہی کھڑے رہیں ہم آرہے ہی ۔۔۔۔۔۔۔ دیر میں وہ ہمارے پاس پہنچ گئے تو شجیع بھائی نے بڑے پرتپاک انداز میں گلے لگایا اور بارائی صاحب نے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ سائیں آپ نے آغا نور محمد صاحب سے کیوں فون کروایا آپ ڈائریکٹ نہیں کہہ سکتے تھے پہلے تو مجھے پتہ نہیں تھا اور آغا صاحب نے نام بھی نہیں بتایا جب میں نے نمبر ڈائل کیا تو آپکا نام آگیا تو میں نے شجیع بھائی سے کہا کہ تو صالح میر کا نمبر ہے ۔۔۔۔ !!! تو میں نے مذاقتا ہنستے ہوئے کہا کہ بھائی آپ ایم پی اے ہیں تو ظاھر ہے سفارش تو کروانی پڑتی ہے نا ۔۔۔۔۔ وہیں گاڑی میں ہی شجیع بھائی سے بھی گپ شپ ھوئی اور انہوں نے کام کی نوعیت پوچھی پھر چل دیئے ۔۔۔۔ جب عرفان مروت کی دفتر پہنچے تو عجیب منظر تھا ہر طرف سے سلام اور بڑی خوش اسلوبی اور تمیز کے ساتھ وہان کا اسٹاف استقبال کر رہا تھا شجیع صاحب بارائی صاحب کی آوازیں گونج رہی تھیں جیسے شجیع بھائی ہی گویا وزیر ہیں ۔

بھرحال ہم کام سے فارغ ہونے کے بعد جب باہر نکلے تو انہوں کہا کہ چلیں کہں چائے پیتے ہیں لیکن ہم نے انسے معذرت کی اور اجازت لے لی تو وہیں پہ ہی میرے دوست طارق ہے سندھی میں مجھ سے بات کی تو بارائی صاحب تو سمجھ گئے اور انہوں نے اسی وقت مزحیہ جواب بھی دے دیا لیکن شجیع بھائی نے وضاحت طلب کی تو میں نے انہیں بتایا کہ طارق بھائی کہہ رہے ہیں کہ ہم تو انکو صرف جماعت کے پروگرامات میں نعرے لگاتے ہوئے دیکھتے تھے لیکن یہ تو بڑی شان والے انسان ہیں ۔۔۔۔ تو جیسے ہی شجیع بھائی نے یہ الفاظ سنے بڑاقہقہ لگاتے ہوئے کہنے لگے کہ بھائی آپ لوگ ہماری قدر نہیں کرتے نا گھر کی مرغی دال برابر سمجھتے ہیں نا لیکن پھر بھی ہم آپکے خادم ہیں ۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ایسے لوگوں نے تو اسمبلی ممبر ہونے کا تو رواج ہی تبدیل کرکے رکھ دیا کہ اسیمبلی میمبر کوئی انوکھی مخلوق نہیں بلکہ آپ ہی کی طرح کا انسان بلکہ آپکا عوام کا خادم ہوتا ہے اور ایسی درویشی کہ کہیں کسی وقت بھی بلاؤ پہنچ جائیں اللہ اکبر۔ ایسے نمائندوں کی ہماری اسمبلیوں میں اکثریت ہوجائے تو خدا کی قسم ہمارا معاشرہ ام اور سکون بھرا معاشرہ بن جائے ۔۔۔۔

اور ایک دفعہ لاڑکانہ کورٹ میں ایک سیمینار کے سلسلے میں کچھ ذمہ داران کی آمد تھی اور ہم مقامی ذمہ داران کے ساتھ انکا انتظار کررہے تھے انتظار کرنے والوں میں سابق صوبائی وزیر قانون ایاز سومرواور ایم پی اے حمیداللہ خان صاحب بھی تھے جو کہ خود بھی اسی پروگریم کے مہمانوں میں سے تھے لیکن وہ ایک دن پہلے تشریف لائے تھے ۔۔۔۔۔ مہمانوں میں اسداللہ بھٹو صاحب ایم این اے اور اس وقت کے امیر جماعت اسلامی صوبہ سندھ ، نصراللہ شجیع بھائی اور یونس بارائی صاحب تھے جیسے ہی وہ گاڑی سے اترے اور وہان موجود لوگوں سے ملتے ہوئے شجیع بھائی میرے پاس پہنچے اور گلے لگاتے ہوئے کہنے لگے کہ بھائی آپ تو ہر جگہ موجود ہوتے ہیں آپ ہیں کونسی مخلوق ۔۔۔۔۔؟ تو میں نے عرض کیا تو یہ آپکی محبت ہے جو ہمیں ہر وقت ہر جگہ حاضر ہونے پہ مجبور کرتہ ہے ۔۔۔۔۔ تو اسی لمحے انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ لاڑکانہ کا سیاسی بیان ہے یا اس میں کوئی حقیقت بھی ہے ۔۔۔۔۔ حالانکہ اس سے پہلے جیسے ہی وہ گاڑی سے اترے تھے تو آنکھوں کے اشاروں اشاروں میں ہی ہماری دعا سلام ہوچکی تھی۔ ویسے شجیع بھائی سے تو بہت سی یادیں وابسطہ ہیں بہت سی ملاقاتیں لیکن ایک اہم واقعہ جو انکی غیر موجودگی میں ہوا وہ ضرور بتانا چاہتا ہوں ۔

3 نومبر کی ایمرجنسی کے وقت ہم لاڑکانہ سینٹرل جیل میں تھے اور وہیں پر دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنان اور عہدیداران بھی تھے لیکن ہم جماعتیوں کی نستا تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے ہمیں دو کھولیوں میں رکھا گیا تھا ہمارے ساتھ والی کھولی میں چار یا پانچ جیئے سندھ کے لوگ تھے اور اسکے بعد والی کھولی میں سابق وزیر قانون ایاز سومرو اور انکے ساتھی تھے ۔۔۔۔۔ تو اس دوران ملاقاتیں اور ایک دوسرے کی دعوتیں بھی ہوتی رہتی تھیں تو وہیں ایک دعوت کے دوران ایاز سومرو نے بتایا کہ کہ آپکے جتنے بھی اسیمبلی میمبر ہیں وہ قابل عزت ہیں بہت ہی ایماندار، محنتی اور خدمت کرنے والے ہیں لیکن نصراللہ شجیع کچھ زیادہ ہی آگے ہیں بہت اچھی شخصیت کے مالک ہیں اور ویسے تو بہت نرم مزاج اور خوش اخلاق ہر وقت ہنستے مسکراتے ہیں لیکن کوئی بھی ناجاز بات اسیمبلی میں ہو یا کوئی غلط کام انکے علم میں آجائے تو بہت ہی جذباتی ہوجاتے ہیں۔ تو میں نے انکو بتایا کہ ابھی کچھ دن پہلے یعنی 2،3، اور 4 نومبر کو ہم شام کی بٹھیاں لاہور میں اکٹھے تھے اور بہت گپ شپ ہوئی ہے شجیع بھائی سے اور دیگر ذمہ داران سے ۔۔۔۔ تو وہ ہنسنے لگے کہ ہان شجیع صاحب گپ شپ کے تو مور ہیں ۔ تو پھر میری جب دوبارہ شجیع بھائی سے قبا مسجد کراچی میں ملاقات ہوئی تو میں نے انکو یہ واقعہ بتایا تو وہ کہنے لگے کہ بھائی یہ اللہ کا کرم ہے کہ اللہ نے ہمیں جماعت اسلامی جیسی عظیم تحریک سے منسلک کیا ہے اور انکو ہماری کوئی بھی کمزوری نہیں ملی ورنہ انکے بس میں ہوں تو یہ تو ہمیں زندہ ہی نہ چھوڑیں کیونکہ یہ ہمیں کیسے پسند کریں گے جو لوگ الیکشن میں ہیسے ہی اس لیئے لگاتے ہیں کہ جیتنے کے بعد 10گنہ اضافہ کرنا ہے تو پھر یہ ہمارے درویژ قسم کے لوگوں کو کیسے برداشت کریں گر اور انہوں کہا کہ یہی ایاز سومرو اور انکو دیگر ساتھی ہمیں کہتے ہیں کہ بھایئ آپ مولوی لوگوں کا کیا کام ہے سیاست میں آپ کیوں آئے ہیں اسیمبلی میں جب کہ آپکو سیاست کرنے آتی بھی نہیں کہ آپ اس سے فائدہ اٹھا سکیں تو پھر آپ جاکے مسجدیں سنبھالیں تو بہتر ہوگا۔ تو پھر شجیع بھائی نے کہا کہ انکو پتہ ہی نہیں کہ ہمارا یہی تو مشن ہے کہ اس ذہنیت کو ختم کرنا ہے کہ مسجد میں اللہ کے بندے  اسیمبلی میں کسی اور کے بندے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں