مرد حق ۔۔۔ آواز حق

میرے ملک کے غریب اور مزدور جو ہر چیز پر ٹیکس دیتے ہیں اور اس کے بدلے انہیں یقین دلایا جاتا ہے کہ یہ رقم ملک و قوم کی فلاح و بہبود، تعیمر و ترقی، تعلیم و صحت اور ان کے بچوں کے روشن مستقبل کےلئے خرچ کی جائے گئی مگر یہاں ایسا نہیں ہوتا ۔ یہاں غریبوں اور مزدوروں کے خون پسینے کی کمائی سے ادا کیے گئے ٹیکس کو سرکاری افسران، وزیر و مشیر اور ممبرانِ اسمبلی زیادہ سے زیادہ اپنے پاس جمع کرنے کی دوڈ میں لگے ہوئے نظر آتے ہیں۔ نزلہ و زکام اور کھانسی و بخار کا علاج بھی دنیا کے مہنگے ترین ہسپتالوں سے قومی خزانے سے رقم لے کر کرواتے ہیں۔
ان عیاشوں اور قومی خزانے کے لٹیروں کو غریب کا کیا احساس ہوگا انہیں تو غریب کا مطلب بھی شائد معلوم نہیں، انہیں کیا علم کہ ایک غریب کس طرح پورا دن خون پسینہ بہا کر چند سو روپے کماتا ہے اور پھر ہر ضرورت کی شے خریدنے پر ٹیکس بھی ادا کرتا ہے۔
مگر ان ایوانوں میں ایک سراج الحق بھی موجود ہے جس نے غربت کو اپنے گھر میں ڈیرے ڈالے دیکھا اور ایک مزدور کی طرح محنت بھی کی اور یقینا غریبوں، مزدوروں کے دکھ کا احساس سراج الحق صاحب سے زیادہ ان اسمبلیوں میں کسی نہیں ہوگا۔
سراج الحق صاحب نے گزشتہ دن صوبہ خیبر پختونخواہ کا بجٹ پیش کیا اور کہا کہ
’’سرکاری ملازمین اور عوامی نمائندوں پر 10 مرلے سے زائد مکان بنانے، سرکاری خرچ پر بیرونی ملک ٹریننگ، ورکشاپ، سیمینار میں شرکت، گورنر، وزیراعلٰی، اسپیکر اور ارکانِ اسمبلی کے بیرونی ملک علاج اور نئی گاڑیاں خریدنے پر پابندی عائد ہوگئی’’۔
خیبر پختونخواہ کے غریبوں اور مزدوروں کو مبارک ہو کہ اب چوروں اور لٹیروں کے ان کے پیسے پر عیاشیاں کرنے کے دن پورے ہوچکے۔
اب عوام کا پیسہ عوام کےلئے ہی خرچ ہوگا۔
انشااللہ وہ وقت جلد آئے گا جب دیگر صوبوں میں بھی ایسا ہی قانون بنے گا۔
پھر انشااللہ پاکستان جھگمگائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *