“مارے گئے گڑھے والے”

تحریر : اسریٰ غوری

:’’قُتِلَ اَصْحٰبُ الاُخْدُود‘‘ ۔۔۔’’مارے گئے گڑھے والے۔۔!!
کون تھے یہ گڑھے والے جن کی تباہی کے لیے اللہ تعالی نے پوری ایک سورت نازل فرمادی ۔۔
’’ قسم ہے مضبوط قلعوں والے آسمان کی۔ اوراُس دِن کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اور دیکھنے والے کی اور دیکھی جانے والی چیز کی۔ مارے گئے گڑھے والے۔جس میں خوب بھڑکتے ہوئے ایندھن کی آگ تھی۔ جبکہ وہ اُس گڑھے کے کنارے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اور جو کچھ وہ ایمان لانے والوں کے ساتھ کر رہے تھے اُسے دیکھ رہے تھے۔ اور اُن اہلِ ایمان سے اُن کی دُشمنی اِس کے سوا کسی وجہ سے نہیں تھی کہ وہ اُس خُدا پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے، جو آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا مالک ہے۔ جن لوگوں نے مومن مردوں اور عورتوں پر ظلم وستم توڑا اور پھر اِس سے تائب نہ ہوئے، یقیناً اُن کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور اُن کے لیے جلائے جانے کی سزا ہے۔ جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے، یقیناً اُن کے لیے جنت کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، یہ ہے بڑی کامیابی۔ درحقیقت تُمھارے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے۔ وہی پہلی بار پیداکرتا ہے اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا‘‘۔( البروج:
ایک روایت کے مطابق ایک ایمان والی عورت کو جب گڑھے میں کودنے کا حکم دیا گیا تو وہ اپنی گود میں شیر خوار بچے کو دیکھ کر آگ میں کودنے سے رک گئی کہ ماں کیسے اس ننھی جان کو آگ میں لے جائے مگر اسی لمحہ شیر خوار بچہ جس نے ابھی بولنا نہیں سیکھا تھا بولا : ماں غم نہ کر تو حق پر ہے کود جا اس آگ میں ۔۔۔۔۔۔!!
وہ ایک بچہ تھا مگر آج ایسے درجنوں بچے ہیں جو اس آگ کی نظر ہو رہے ہیں مگر ان کا ایمان کہیں متزلزل نہیں ہوتا ۔۔۔
تاریخ پھر اسی جگہ کھڑی ہے، پھر آج ایک بار ایمان والے ہیں، آگ ہے اور اس کے کناروں پر بیٹھے اصحاب الاخدود ہیں۔۔۔ جو ان گھروں کو ان کے رہنے والوں کو آگ و خون میں بالکل ویسے ہی دیکھ رہے ہیں جیسے کہ اس وقت کے ظالم دیکھ رہے تھے اور ان اہل ایمان سے دشمنی کی وجہ آج بھی وہی ہے جو اس وقت تھی کہ وہ اُس خُداپر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔۔ انہیں اس کی بھی پرواہ نہیں کہ کوئی ان کی مدد کو آتا ہے یا نہیں، وہ تو اپنی جانوں کا سودا رب سے کرچکے اور آگے جانے والوں میں شامل ہوگئے ۔۔۔۔اور یقینا اللہ ان کا حامی و ناصر ہے
اسی لیے اللہ نے ان اہل ایمان کو خوشخبری سنائی کہ ان کے لیے جنت کے باغ ہیں نہریں ہیں ۔۔۔۔
مگر ان کافروں کے لیے رب اعلیٰ کی سخت تنبیہ کہ وہ آگ میں جلائے جائیں گے اور اپنے کیے کی سزا
پائیں گے
یہ تنبیہ ان کے لیے بھی ہے جو اس ظلم کو ایک تماشائی کی طرح دیکھ رہے ہیں اور خود کو انھوں نے اصحاب الاخدود میں شامل کرلیا ہے۔۔ ۔۔۔
جبکہ اللہ نے تو حکم دے دیا تھا
اور تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ تم جنگ نہیں کرتے اللہ کی راہ میں کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے جو کہتے ہیں اے ہمارے رب نکال ہمیں اس بستی سے کہ یہاں کے لوگ ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی حمایتی کر اور اپنی طرف سے کوئی مدد گار کر ۔
سورہ النساء 4:75
مگر آج امت کے ٹھیکیدار منہ میں گنگھنیاں ڈالے، منہ لپیٹے ایسے بے خبر ہیں کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں کہ جیسے کچھ سنا ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔
اپنی دنیا کو بچانے والو! یاد رکھو کہ تمھیں دنیا بھی نہیں ملے گی اور تمھاری آخرت بھی برباد ہو جائے گی ۔!!
کہ اس رب کی پکڑ بہت سخت ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *