میں بھی جماعت اسلامی کا ادنی سا کارکن ہوں

میں بھی جماعت اسلامی کا ادنی سا کارکن ہوں!

کوئی سوال کرتا ہے کہ جماعت اسلامی میں کیوں ہو؟
اس سوال کے جواب کےلیے جماعت اسلامی کی جو صفت بیان کروں وہ دوسری صف سے چھوٹی لگتی ہے۔ سوال کرنے والے کو اپنی قیادت کے اوصاف بتاؤں یا کارکنان کا اخلاق، ارکان کی محبت بتاؤں یا ذمہ داروں کی محنت۔ میں بھی جماعت اسلامی کا ادنی سا کارکن ہوں اس لیے فخر سے کہتا ہوں میری جماعت اسلامی موروثیت سے پاک ہے، لسانیت اور فرقوں کی تفریقوں سے آزاد ہے۔
اخبار میں پڑھا پاکستان میں روزانہ 07 ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے لوگ اس میں ملوث نکلے مگر میری جماعت اسلامی کا دامن صاف نکلا۔
دوست کہتے ہیں تمہاری جماعت اسلامی نے کبھی انتخابات میں بڑی کامیابی حاصل نہیں کی مگر سچ یہ ہے میری جماعت اسلامی کبھی ناکام بھی نہیں ہوئی۔
ہر سیاستدان غریب کی آواز بننے اور مڈل کلاس کا نمائندہ ہونے کا دعوےدار ہے مگر سچ یہ بھی ہے پاکستان میں حقیقی مڈل کلاس لیڈرشپ اور غریب کے مسائل آشنا قیادت میری جماعت اسلامی کے پاس ہے۔
وہ قاضی حسین احمدؒ جو کبھی ایک عام کارکن ہوا کرتے تھے جب محنت کی تو امیر جماعت تک پہنچ گے۔ سید منور حسن بھی کارکن تھے اور سراج الحق بھی کبھی کارکن تھے۔ سوائے میری جماعت اسلامی کے کہیں کسی سیاسی جماعت میں ایسی انمول مثالیں موجود نہیں۔
خلافت راشدہ کی یاد اگر کسی نے اس دور میں تازہ کی تو وہ بھی میری جماعت اسلامی ہے۔ عبدالستار افغانی مرحوم ؒ دو مرتبہ میئر کراچی رہے۔ لیاری کے چھوٹے سے فلیٹ میں رہائش اختیار کی، ایک مرتبہ گھر پر پانی نہ آنے کی خبر واٹربورڈ کے افسران کو پہنچی تو انہوں نے واٹر ٹینکر بھیجھ دیے۔ آپ نے یہ کہہ کر واپس کردے کہ کیا لیاری کے ہر گھر میں پانی پہنچ چکا۔ یہی عبدالستار افغانیؒ کراچی کے امیر ترین حلقے سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے مگر جنازہ اسی لیاری کے چھوٹے سے فلیٹ سے اٹھایا گیا۔ ناظم کراچی نعمت اللہ خان اپنی پوری تنخواہ الخدمت کے اکاوئنٹ میں دینے رہے، اور ابھی بھی خراب صحت کے ساتھ جوانوں کی طرح خلق کی خدمت میں مصروف ہیں۔ اور میری جماعت کے امیر سراج الحق صاحب جو بغیر جوتوں کے کئی کئی کلومیٹر پیدل سفر کرتے اور اسکول جاتے تھے۔ جب کالج میں تھے تو ساتھی طالب علم گرمیوں کی چھٹیوں میں سیر کےلیے جاتے اور یہ مرد مومن مزدوری کرتا تاکہ تعلیمی اخراجات برداشت کرسکے۔ صوبہ خیبرپختونخواہ میں دو مرتبہ خزانے کی چابیاں ہاتھوں میں رہی، مگر اپنی ذات کےلئے کچھ نہ بنایا۔ اور وزارت ایسی سمبھالی کہ مخالفین بھی داد دیئے بغیر نہ رہے سکے۔
ہمارے ملک میں پہلی گولی کھائی کے دعوے تمام سیاسی رہنما کرتے ہیں مگر تاریخ شائد ہے وہ قاضی حسین احمدؒ پہلے خود لاٹھی چارج کا سامنا کرتے ہیں۔ میری قیادت نے صرف درس انسانیت نہیں دیا بلکہ درس عمل دیا شہید نصراللہ شجیعؒ یا شہید سمعیہ نورین ہوں جو دوسروں کےلیے اپنی جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
اگر میری جماعت اسلامی کی صفات اور خوبیاں لکھی جائیں تو صفحات کم ہوجائیں گے مگر میری جماعت اسلامی کی صفات اور خوبیاں باقی رہیں گی۔
جماعت اسلامی زندہ باد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *