دیکھے جو دیدہ عبرت نگاہ ھو

تحریر : نجیب ایوبی

پہلا منظر
(ہاہوکار ، افراتفری ( تفریح ) ، غل غپاڑہ، گو گو ، رو رو، چل بے چل کا شور ،پس منظر میں ہر ایک منظر شکستہ اورٹوٹا پھوٹا دکھایا گیا ھے
تو ایسا — میں ویسا،
تیری حکومت نہیں چلے گی ،
تو نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا لہو،—–” اب ھماری باری ھے” !
میری حکومت ضرور چلے گی ،” وڈے سرکار نے کہہ دیا ہے”
اب راج کرے گی خلق خدا ،،—- صرف انگلی اٹھنے کی دیر ھے
اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے ؟ بھنگڑا پا -کیا تو کھڈ را ہے؟
تبدیلی آچکی ھے ،—- تبدیلی آنے والی ہے ، تبدیلی ضرور آئے گی — ” اوے ڈی جے کیسٹ پھنس گئی ہے ، چینج کر”
روشن پاکستان ،—- بجلی دو ،ورنہ کرسی چھوڑ دو
ھم آئین کے محافظ ہیں — سول نافرمانی زندہ با د ، کوئی ٹیکس جمع نہ کرواے .
تہذیب یافتہ قوم ہونے کا ثبوت دو — ” اوے تو باہر کیوں نہیں آندا .”
” دیکھو کوئی گملا نہیں ٹوٹا — ” کہتے تو آپ ٹھیک ہیں ، ھاں واقعی کوئی گملا نہیں ٹوٹا !
سانحہ ملتان — “حکومت کی ذمہ دار ہے ، ھمارا کام بندے لانا تھا ، وہ ھم لے آئے “
پارلیمنٹ کا احترام ہوگا — استعفی دیں گے ،لیکن تصدیق کے لئے نہیں جائیں گے،
ملک افراد سے نہیں اداروں سے چلتے ہیں ، اور ہمارا کسی ادارے پر اعتماد نہیں . اعتماد تو ھماراآپس میں ایک دوسرے پر بھی نہیں ہے .
ھم “کرپشن” کا خاتمہ کریں گے — “جعلی ڈگریاں کرپشن کے زمرے میں نہیں آتیں “
ھم نئے سیاسی کلچر کو متعا رف کروانے میں کامیاب ھوے ہیں ، جس میں لچر پن ، گالم گلوچ ، بیہودگی اور ھٹ دھرمی کا حسین امتزاج شامل کیا ہے .
یورپ میں اسے ” پولیٹیکل فیوزن ” کہا جاتا ھے .
————–
” انقلاب اس ملک کا مقدر بن چکا ہے ، کوئی مائی کا لعل اس کو نہیں روک سکتا ”
کسی ماں نے وہ بچہ نہیں جنا جو مجھے راستے سے ہٹا سکے .( میں راستے کا پتھر نہیں ، نحوست ہوں )
سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایف آئی آر وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے خلاف کاٹی جاتے ، دونوں شریف مستعفی ہونے کا اعلان کریں –
جو دھرنے سے واپس جاتے اس کی سزا موت ہے
میرا جینا مرنا دھرنے والوں کے ساتھ ھے
بہت ہوچکا —- (اب کمی کمینوں کو بھی موقع ملنا چاہیے ——)
لاکھوں کا جلسہ میں بھی کرسکتا ھوں ، مجھ میں کیا کمی ہے ؟
مقابلہ کر کے دیکھ لو ، عالم رویا میں مجھے لفاظی کے مقابلے میں بلامقابلہ اول انعام کا حقدار قرار دیا جاچکا ھے .
ساری دنیا مجھے شیخ الاسلام کہتی ھے ، اور تم بد بخت ! مجھے گھانس تک نہیں ڈال رہے؟ —
تم رسوا ہو گے——- ( جس طرح ،میں ہورہا ہوں )
—————–
جئے — جئے — جئے بھٹو بینظیر ، جئے جئے —
اٹھارہ اکتوبر کے شہیدوں کو سرخ سلام –
میرا راستہ وہی ہے جو عوام کا راستہ ہے
میرے کارکنوں کو کچھ ہوا تو ؟ ؟ ؟
انکل انکل —
بیک گراؤنڈ موسیقی ..( جئے جئے ، جئے بھٹو بینظیر )
“جمہوریت بہترین انتقام ھے “
وہ ھم لے رہے ہیں – ہم نے آثار قدیمہ کے تحفظ کی قسم کھائی ہے – قائم علی شاہ کو کچھ ہوا تو ھم کسی کو نہیں چھوڑیں گے .
منجھا مار وران — او او ھو ھو …
————–
غضب ہو گیا غضب ہوگیا –
ہم کو بھی پرچیاں ؟
یہ طالبان کی ہینڈ رائٹنگ لگتی ھے ،
(ھما ری املا اتنی صاف نہیں ہے ) .
اور ان پرچیوں سے تو مشک اور عنبر کی خوشبو بھی آرہی ہے !
ہو نہ ہو یہ مجاہدین کا کام ہے ،
منزل نہیں ، رھنما چاہیے
کراچی نہیں، صوبہ چاہیے،
————–
وزیرستان آپریشن ، آپریشن ضرب عصب نہایت کامیابی کے سا تھ جاری ھے .
بارہ مرتبہ نوے فیصد علاقہ شدت پسندوں سے خالی کروایا جاچکا ہے ،
آپ ہماری بات کا یقین کیوں نہیں کرتے ؟
آئ ،ڈی ،پیز کو ہر قسم کی سہولتیں فراہم کر رہے ہیں
بہت جلد اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے . ( وہ نہیں — ھم )
ترجمان (آئ ، ایس ،ایس ،پی ،آر ).
—————
دشمن کو جنگ سے نہیں مذاکرات سے جواب دیں گے . وزیر اعظم کا اعلان
مسلے کا حل بندوق سے نہیں بلکہ تجارت سے نکالا جاتے گا –
امن کی آشا ، پیار کی بھاشا جاری رکھنے کی ضرورت ہے
ھندوستان ہمارے آباو اجداد کی جنم بھونی ہے ، ہم اس کی طرف ٹیڑھی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے .
سٹیل مل کے معا ئدے پر دستخط ہو چکے ہیں ، ایک مرتبہ لگ لینے دیجۓ ، سارے حساب چکا دوں گا .
ملک اندرونی خطرات سے دوچار ہے ،اس موقح پر میں نہیں چاہتا کہ کسی بھی قسم کے بیرونی خطرے کا جواب دوں .
وزارت خارجہ کو ایک مہینے کی جبری رخصت پر بھیجنے کی تجویز زیر غور ھے ، ( ویسے بھی ان کے پاس کرنے کو کچھ نہیں )
اسٹیٹ بینک کو مزید کرنسی نوٹوں کی تیاری کا آرڈر جاری کردیا گیا ہے ،( امید ہے کہ غریب آدمی خوش حال ہو جاتے گا.،اگر نہ ہوسکے تو مزید جاری کردیں گے ).
اراکین پارلیمنٹ کے ماہانہ الا ؤنسس میں دو سو گنا اضافہ ان کی وفاداری سے مشروط کردیا گیا .
ملک میں امن امان کی صورت حال پر قابو پالیں گے- (عوام عدم تحفظ اور خوف و ہراس کی بنا پر غیر ضروری طور پر گھر سے با ھر نکلنے سے اجتناب کریں)
—————–
 دوسرا منظر  —– چند سالوں بعد
اسلام آباد میں ہو کا عالم ، سرکاری ملازم بوریا بستر لپیٹ کر اپنے اپنے مقامات پر کب کے جا چکے .

راولپنڈی میں راجہ بازار سے ملحق ” لال کوٹھی ” پر مدرستہ اللبنات کا بورڈ آویزاں ھے ، نننھی معصوم طالبات درس قرآن ، درس نظامی اور حفظ قرآن کی کلاسیں لے رہی ہیں — تلاوت قرآن کی دل آویز ، دل موہ لینے والی آوازیں فضا کو پر بہار بنا رہی ہیں .
ماڈل ٹاؤن لاہور کی وسیح و عریض کوٹھی کے سامنے والے پارک پر ایک پر شکوہ عمارت بن چکی ہے ، جو وزیرستان کے بےگھر افراد اور شہدا کے متاثرین ، لواحقین کی رہائش اور تعلیمی ضروریات کے لیے مخصوص کر دی گیئ ہے ،
بنی گالہ ، راے ونڈ کے محلات میں جدید علوم سے آراستہ یونیورسٹیز قائم ہو چکی ہیں
ایوان صدر ، وز راے اعظم ہا وسیز اور پارلیمینٹ مسمار کئے جاچکے ہیں
اسلام آباد کی فیصل مسجد کو” ایوان بالا ” کا درجہ حاصل ھے
چا روں صوبوں میں حکومتی ریسٹ ، گیسٹ ہا وسیز، قصر ناز ، اور بلاول ہاؤس یتیم خا نوں میں تبدیل ہوچکے ہیں.
سابقہ پارلیمنٹ ہاؤس کا کچھ حصّہ سلامت رکھا گیا ہے ، جو وزرات متروکہ املاک کے زیر استمعال ہے ، یہاں پر پاکستان کے نامی گرامی انقلابی رہنماؤں ، اور حکومتی شخصیات کی نوادرات واسطے ” دیکھے جو دیدہ عبرت نگاہ ھو ” رکھ دی گیئں ہیں
سراج الحق ابھی بھی کراے کی ٹیکسی پر فیصل مسجد جاتا ھے ، نماز پڑھاتا ہے ، پارلیمنٹ کا اجلاس ہوتا ہے ، ضروری احکامات صادر ہوتے ہیں ،

غریب کو فوری انصاف ، مظلوم کی داد رسی اور ظالم کی سرزنش کے احکامات فا الفور جاری ہوتے ہیں ..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *