1

“جماعت اسلامی کا اجتماع عام”

تحریر : جویریہ سعید

اسلام، مسلمان اور اسلامی تحریکیں پوری دنیا میں خبروں اور تجزیوں کا اہم موضوع ہیں.. مگر اے روز جس قسم کی خبریں اور تجزیئے شہ سرخیوں کی جگہ پاتے ہیں، وہ بحثیت مجموعی ان کا ایک ایسا نقشہ پیش کرتی ہیں جس میں فرقہ واریت، تشدد، عدم برداشت، شدت پسندی،خواتین کے حقوق کی پامالی ، انتقام ، کم علمی اور عوام کے مسائل سے بے نیازی کے رنگ نمایاں ہوتے ہیں…. دوسری طرف وہ اکثریت جو انفرادی یا اجتماعی سطح پر اصلاح معاشرہ اور فلاح انسانی کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے میں مصروف عمل ہے کم ہی اپنا جائز حصہ پاتی ہے.
نتیجتا عام آدمی کے پاس اسلام ، مسلمان اور اسلامی تحریکوں کے حوالے سے بات کرنے کے لئے سواے منفی تبصروں اور مایوسی کے کوئی چیز نہیں ہوتی.
منفی پروپگنڈے کی اس گدلی اور زہریلی فضا نے جہاں عوام میں اسلام اور اس کے تمام حوالوں سے بے زاری پیدا کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے وہیں اسلام پسند بھی اس سے متاثر ہوے بغیر نہیں رہ سکے اور مسلسل دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور ہیں.
الزامات اور ان کے جواب اور پھر جواب در جواب کے اس انبار تلے assertive دعوت دب کر رہ جاتی ہے. تعمیر اور آگے بڑھنے کا عمل رک جاتا ہے تقسیم کا عمل بڑھتا رہتا ہے.
جماعت اسلامی پاکستان کا حالیہ اجتماع عام اس کی ایک مثال ہے.
سیاسی عدم استحکام اور الزام تراشیوں کی فضا میں یہ اجتماع جماعت اسلامی کی ایک مثبت اکتویتی تھی.اس اجتماع عام میں منفی پروپگنڈے کے ذریعے پھیلائی جانے والی کئی غلط فہمیوں کے ازالے کا بہترین سامان بھی تھا اور پاکستان کی سب سے بڑی اور منظم سیاسی و دینی جماعت کی حقیقی دعوت کے بہت سے نظریاتی اور عملی پہلو بھی جنھیں “عوامی ” حلقوں کا موضوع گفتگو بھی بننا چاہیے اور اسلامی تحریکوں کی دعوت و کردار کا اصل حوالہ بھی.
اجتماع عام کی سب سے نمایاں خوبی اس کا مثالی نظم و ضبط اور پر امن رہنا تھا. اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا تین روزہ قیام وہ بھی اس طور کہ اطراف میں شہریوں کو کسی بھی قسم کی رکاوٹ، وی آئی پی نقل و حرکت کے عذاب ، توڑ پھوڑ ، جلاؤ گھیراؤ ، ہڑتالوں یا حالات کی خرابی قسم کے مصایب کا سامنا نہ کرنا پڑے کم از کم پاکستانی جلسے جلسوں کی سیاست میں ایک انوکھی اور قابل تقلید مثال ہے.
اس زبردست نظم و ضبط کا کریڈٹ بلاشبہ ان منتظمین کو بھی جاتا ہے جنہوں نے شرکا کے لیے قیام و طعام ، عارضی ہسپتال، گوشہ اطفال، سوشل میڈیا کیمپ اور یہاں تک کہ صاف پانی کی سیل بند بوتلوں کا بہترین انتظام کیا، اور شرکاء کو بھی جنہوں نے نظم و ضبط کی پابندی کر کے یہ ثابت کیا کہ پاکستانی عوام کو اگر اچھا نظام اور منتظمین فراہم کیے جائیں تو وہ بھی اچھے شہری ہونے کا مظاہرہ کریں گے.
اجتماع کی دوسری خوبی اس کا مثبت پیغام تھی. “اسلامی پاکستان _ خوشحال پاکستان” کے مرکزی تھیم کے ساتھ مقررین کے خطاب ہر قسم کی نفرت، فرقہ واریت اور تشدد بھرے پیغامات سے پاک اور تعمیری دعوت کا اظہار تھے. اجتماع کے مختلف سیشنز میں خواتین، نوجوانوں اور عالمی شخصیات نے پاکستانی معاشرے اور امت مسلمہ کے مسائل اور ان کے حل کے لیے فکری و عملی حوالوں سے پروگرامات پیش کیے.
اجتماع کی تیسری بڑی خوبی خواتین کی بہت بڑی تعداد میں منظم اور بھرپور شرکت تھی. ہر عمر اور ہر طبقے کی خواتین نے بہت جوش و جذبے سے اجتماع کی مہم چلائی ، مختلف ذمہ داریاں پوری خوش اسلوبی سے ادا کیں اور ولولے سے شرکت کی. اور خواتین کی یہ ساری شرکت کسی قسم کی بد نظمی یا نا خوش گوار واقعے کے بغیر انتہائی محفوظ ماحول میں رہی، اس میں پاکستانی خواتین کے لئے دعوت ہے کہ وہ پورے اطمینان کے ساتھ ایک ایسی تحریک میں شامل ہوں جہاں ان کے عزت و وقار کے احترام کا پورا خیال رکھا جاتا ہے.یہ اس بات کا بھی عملی ثبوت ہے کہ اسلام پسند اور خصوصا با پردہ خواتین کسی میدان میں نہ پیچھے ہیں اور نہ ہی مردوں کا ضمیمہ ہیں، بلکہ وہ اسلامی تحریکوں میں دینی و اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ ہراول دستے کا کردار ادا کر رہی ہیں.
اجتماع عام جماعت اسلامی کے اس امتیازی وصف کا ائینہ دار تھا کہ یہ وی آئی پی کلچر سے پاک ایک ایسی جماعت ہے جہاں امیر جماعت سے لے کر ہر سطح کا ذمہ دار اور اس کا کوئی رشتہ دار کسی قسم کے پروٹوکول اور خصوصی مراعات نہیں حاصل کرتے . کسی ذمہ دار کے قیام و طعام اور نقل و حرکت کے لیے خصوصی یا مختلف انتظامات نہیں تھے. امیر جماعتبذات خود نچلی سطح تک جا کر انتظامات کا جائزہ لیتے رہے. پاکستان میں وی آئی پی کلچر کے خاتمے کی خواہش رکھنے والوں کے لئے جماعت اسلامی امید کی حقیقی کرن ہے.

اجتماع عام میں امیر جماعت اسلامی کا خطاب خاصے کی چیز رہا. محترم سراج الحق صاحب نے اپنے مخصوص سادہ و دلنشیں انداز میں جماعت اسلامی کے پیغام اور موجودہ حالات میں جماعت اسلامی کے طریقہ کار کو پیش کیا. ان کا مخاطب پاکستان کا نوجوان اور عام آدمی بھی تھا اور انہوں نے اپنے کارکن سے بھی ذاتی تربیت سے لے کر قومی کردار ادا کرنے کا عہد لیا.
ان کے خطاب میں غریب آدمی کے مسائل یعنی بھوک، غربت، مہنگائی، تعلیم اور صحت کی سہولیات کی عدم دستیابی ، کرپشن، اور کرپٹ لوگوں کی حکومت کا تذکرہ بھی تھا اور خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی بات بھی، اور امت مسلمہ کا درد بھی . اور ان تمام مسائل کے لئے قرآن و سنت کے پیغام اور کرپشن سے پاک درویش صفت قیادت کی صورت میں ان مسائل کے حل کی طرف دعوت بھی.
یہ خطاب اس بات کا ائینہ دار تھا کہ اسلامی تحریک کی قیادت کو اپنے معاشرے کے مسائل کا ادراک بھی ہے اور وہ قرآن و سنت کے آفاقی اصولوں کی روشنی میں اپنے لوگوں کو ان مسائل سے نجات دلانے کا پورا عزم بھی رکھتی ہے اور اس کے لئے مصروف عمل بھی ہے.
کئی حوالوں سے اہم یہ اجتماع عام صرف جماعت اسلامی پاکستان کی سیاسی قوت کا اظہار ہی نہیں تھا بلکہ پاکستان میں اسلام پسندوں کی فکر کی عملی دعوت کا حوالہ بھی تھا.افسوسناک بات یہ تھی کہ ہر پہلو سے پر امن، منظم اور انسان دوستی کا پیغام لئے اسلام پسندوں کا یہ نمائندہ اجتماع زراع ابلاغ میں اپنا جائز مقام حاصل کرنے میں ناکام رہا. اور اسلام پسندوں میں اس تاثر کو تقویت ملی کہ تبدیلی کے لئے کی جانے والی تعمیری کوششوں کو پزیرائی نہیں ملتی اور انھیں میڈیا کے امتیازی رویے کا سامنا ہے.
بہر طور اجتماع عام کےکامیاب انعقاد کے بعد پر جوش و پر عزم جماعت اسلامی کے کارکن کے لئے چلینج یہ ہے کہ وہ منفی پروپگنڈے کے زہر سے متاثر ہوے بغیر ، اپنے مخصوص حلقوں سے باہر اے، غیر ضروری بحثوں سے گریز کرے اور “عام آدمی” تک اپنی تعمیری دعوت کو پہچانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں