1

“کیا ہی خوب نفع کا سودا کیا”

تحریر: اسریٰ غوری

آیتوں کے نزول کا دور ہے اور آیتیں نازل ہوتی ہیں ۔

(۱) مَنْ ذَا الَّذِی یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضاً حَسَناً فَیُضَاعِفَہُ لَہُ اَضْعَافاً کَثِیْرَةً وَاللّٰہُ یَقْبِضُ وَیَبْسُطُ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ (البقرة۲۴۵)
کون شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرضِ حسن دے؛ تاکہ اللہ تعالیٰ اُسے کئی گنا بڑھاکر واپس کرے، مال کا گھٹانا اور بڑھانا سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے ،اور اسی کی طرف تمہیں پلٹ کرجانا ہے۔
(۴) اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَالْمُصَّدِّقَاتِ وَاَقْرَضُوا اللّٰہَ قَرْضاً حَسَناً یُضَاعَفُ لَہُمْ وَلَہُمْ اَجْرٌ کَرِیْمٌ (الحدید ۱۸)
مردوں اور عورتوں میں سے جو لوگ صدقات دینے والے ہیں، اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو قرضِ حسن دیاہے،ان کو یقیناکئی گنابڑھاکر دیا جائے گا، اور ان کے لیے بہترین اجر ہے۔
اللہ اور قرض حسنہ ۔۔!!
ذہنو ںمیں سوال اٹھتے ہیں یہ کیا فرمارہا ہے اللہ کہ اسے قرض کی ضرورت ہے ۔۔ ۔۔!
ایسے ہی سوال لیے کئی صحابہ کرام نبی اکرم ﷺ کی خدمت حاضر ہوئے جن میں ایک صحابی ٍٍحضرت ابوالدحداح ؓ نبی کریمﷺ کی خدمت اقدس میں حا ضر ہوئے اور عرض کیا:
یا رسول اللہﷺ! کیا اللہ تعالیٰ ہم سے قرض چاہتا ہے؟
آپ ﷺنے فرمایا:
ہاں اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ اس کا بہترین بدل دیں اور اسکے ذریعے تمہیں جنت میں داخل کردیں ۔
انہو ں نے یہ سن کر عرض کیا:
یا رسول اللہﷺ! میرے پاس دو باغ ہیں۔ دونوں باغو ں کواللہ تعالیٰ کے لیے قر ض دیتا ہو ں۔
حضورﷺ نے ارشاد فرماتے ہیں : کہ ایک با غ اللہ کے راستہ میں وقف کر دو اور دوسرا با غ اپنے اہل و عیا ل کے گزارئہ معاش کے لیے رہنے دو۔
حضرت ابوالد حداح رضہ نے کہا: آپ اپنا ہاتھ ذرا مجھے عنایت فرمائیں۔ آپ ؐنے دست مبارک ان کی طرف بڑھا دیا۔
انہوں نے کہا ان دو با غوں میں سے جو بہترین باغ ہے جس میں چھ سو کھجور کے درخت ہیں اس کو میں اللہ کے راستہ میں دیتا ہو ں۔
حضور اقدﷺنے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ تم کو اسکے عوض میں جنت میں باغ دے گا۔
یہ صحا بی آپﷺ کے پا س سے اُٹھ کر سیدھے اپنے اس باغ پر پہنچے جسےاللہ کی نذر کر آئے تھے۔ آپ کی بیوی اور بچے اسی باغ میں تھے اور بچے پھل کھا رہے تھے اور درختوں کے سائے میں کھیل رہے تھے۔ آپ نے با غ سے باہر کھڑے ہی کھڑے اپنی بیوی حضرت ام دحداح کو آواز دی کہ بچو ں کو لیکر باہر آجا ﺅ۔ یہ با غ اپنے رب کو قرض دے دیا۔ یہ باغ اب ہمار ا نہیں رہا بیوی نے شوہر کا یہ کلام سنتے ہی فر حت خوشی کا اظہا رکیا اور مبارک باد دی اور کہا ابو الدادح کیا ہی منافع کیا سودا کیا تم نے ۔
بعد ازاں وہ بچو ں کی طر ف متوجہ ہوئیں بچے جو پھل دامنوں میں لیے آرہے تھے وہ دامن جھٹک دئیے اور جو کھجوریں بچوں کے منہ میں تھیں وہ انگلی ڈال کر نکال دیں اور بچو ں سے کہا کہ اس با غ سےچلو اور اسی وقت دوسرے باغ میں منتقل ہو گئیں۔ حضوﷺ کو جب اس کی اطلاع ہوئی تو فرمایا نہ معلو م ابوالدحداحؒ کے لئے آخرت( یعنی جنت میں) میں کتنے بے شمار کھجورکے لمبے درخت ہیں اور کتنے وسیع او رکشادہ محلا ت ہیں۔

یہ صرف ایک واقعہ نہیں۔۔۔۔۔بلکہ دلوں میں رچی ہوئی مال کی محبت کو اکھاڑ پھینکنے والا ایک ایسا منظر ہے جسے پڑھنے والا ، سننے والا ، سنانے والا غرض ہر ایک ہی خود اپنے اندر جھانکنے پر مجبور ہوجاتاہے۔ میں نے جب جب اس واقعہ کو پڑھا یا کسی درس میں سنایا ۔۔۔۔ باخدا میں خود اپنےآپ کو پرکھنے لگتی ہوں ۔
 کبھی میں ابوالدحداح  کے بارے میں سوچتی ہوں کہ وہ کیسے اللہ کے پیارے تھے کہ لمحہ بھر میں اپنی قیمت ترین شہ اللہ کی راہ میں دینے کو تیار ہوگئے نہ ہی مال کی محبت نے ہاتھ روکا نہ ہی آئندہ کی فکر سے فیصلے میں ڈگمگائے ۔۔۔ پھر میں حضرت ام دحداح کےبارے میں سوچتی ہوں کیسی تھی اللہ کی نیک بندی جس نے ایک لمحہ کا توقف کیے بغیر شوہر کے اس نیک عمل پر کہا کہ” کیا خوب نفع کا سودا کیا تم نے “

پھر سوچتی ہوں اگر آج کے دور کی کوئی بیوی ہوتی تو شوہر کو کیا کیا کچھ کہہ سکتی تھی۔۔۔۔۔
میں تو باہر بعد میں آونگی پہلے آپ اندر آیئے زرا ، آپ نے پورا کا پورا باغ ہی دے دیا آدھا دے دیتے، مجھ سے تو پوچھ لیتے ، اتنا بھی نیک نہیں بننا چاہیے کہ بیوی بچے ہی بھول جائیں ، غرض اور نجانےکیا کیا کچھ ۔۔۔ بہت ہی کم وہ خوش نصیب ہونگی جو ایسے مبارک باد دیتی ہونگی اور اس کوشش میں رہتی ہوں کہ نہ صرف وہ خود بلکہ اپنے باپ ، بھائی ، شوہر اور بیٹوں کو بھی ترغیب دیں کہ وہ بھی اللہ کی راہ کے لیے اپنے دل اور اپنے مال کے در کھول دیں اور اس کا بہترین بدلہ دنیا اور آخرت دونوں میں پائیں ۔
اللہ کے لیے اس کی راہ میں خرچ کرنے کی ضرورت ہمیشہ ہی رہتی ہے کبھی یہ ضرورت حالات و واقعات کی وجہ سے بڑھ جاتی اور کبھی کم ہوجاتی ہیں مگر یہ کبھی بھی رکتی نہیں یہ تو ایسا دریا ہے جسے جتنا بہایا جائے اس کے بہاو میں اتنی فراوانی تیز ہوگی ۔
جیسا کہ آپ سے علم میں ھے کہ ہم ایک بڑااجتماع عام کرنے جارہے ہیں جس کے اخراجات بھی یقینا بڑے ہی ہوتےہیں .
یہ بھی آپ سب ہی جانتے ھیں کہ جماعت اسلامی وہ تنظیم ھے جو دوسری سیاسی جماعتوں کی طرح ڈالرز اور یورو میں فنڈ حاصل نہیں کرتی نہ ہی اس کے پروگرامات اور اجتماعات باہر سے سپانسر شدہ ھوتے ہیں کیوں جماعت کسی کےایجنڈے پر کام نہیں کرتی بلکہ اپنا ایک اسلامی نظریہ اور اسلامی ایجنڈا ھے اور یہی وجہ ہیکہ جماعت اسلامی باطل کی نگاہوں میں ہمیشہ ہی کھٹکتی رہی ھے .
نومبر میں مینار پاکستان پر ہونے والے اس بڑے اجتماع عام کے لیے بہت سے لوگوں نے اپنے دل کے دروازے کھول دیے ہیں جن میں صرف جماعت کے اپنے کارکنان اور مخیر افرادہی نہیں بلکہ بہت سے سفید پوش لوگ بھی اپنی استطاعت سے بڑھ کر اس کار خیر میں اپناحصہ ڈال رہے ھیں جو یہ جانتے ھیں کہ ان کا دیا ہوا ایک ایک پیسہ کسی ظالم وڈیرے کے پیٹ میں یا کسی کے باہر کے بینک بیلینس کا حصہ نہیں بنے گا بلکہ یہ پیسہ اللہ کے نظام کی جدوجہد کے لیے استعمال کیا جاے گا۔

یہ نفع کا سودا آج بھی آپ کا اور میرا منتظر ہے آئیے ہم آج خود کو پرکھیں کہ ہم ایسے نفع کا سودا کرنے والے اس کی ترغیب دلانے والوں میں سے ہیں یا اس سے رکنے اورروکنے والوں میں سے ۔۔۔ دیر مت کیجیے اس کار خیر میں   “فاستبقوالغیرات” نیکیوں میں سبقت لیجانے والے بن جائیں ہم اس اجتماع میں شریک ہوں یا کسی وجہ سے نہ ہوسکیں دونوں صورتوں میں اپنا حصہ ضرور ڈالیں اپنے دل اور اپنے مال کے دروازے اللہ کے لیے کھول دیجیے اس یقین کیساتھ کہ وہ قدردان رب آپ کی اس نیکی کی قدر کرنے والا ہےاوہ آپ کو س کا بہترین بدلہ دنیا میں اور آخرت میں ضرور نوازے گا .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں