ظالمو! جماعت چھا رہی ہے

جماعت اسلامی کے اجتماع عام نے حاسدین اور منافقین کی صفوں میں سوگ قائم کرکے رکھ دیا۔
سید زادے مجاہد کے جملوں نے تو ان پر وہ وار کیا ہے ابھی تک ان پر خوف طاری ہے۔
مگر کان کے پردے کھول کر سن لو یہ جملے سید زادے کے نہیں ربِ کائنات کے ہیں، قرآن کی آیات ہیں، پیارے آقاؐ کی سنت ہے۔
ہم تو قرآن کی ہر آیت پر ایمان رکھتے ہیں اور ہر حکم پر عمل کی کوشش کرتے ہیں اور اللہ سے بھی یہی دعا کرتے ہیں۔
اور ہاں اگر پیٹ میں ابھی درد ختم نہیں ہوا تو مزید اضافہ کےلیے کل بروز پیر وقت نیوز پر سید مجاہد ملت کا پروگرام دیکھ لو انشااللہ مزید اضافہ ہوگا کیونکہ سید زادہ اب بھی جہاد فی سبیل اللہ کی بات کررہا ہے اور اللہ اور اسکے رسولؐ کا پیغام مسلمانوں کو یاد دلا رہا ہے۔
دوسرا پروپیگنڈا کچھ کینیڈی قادری کے چیلوں نے کیا کہ سراج الحق صاحب اجتماع کے بعد شہباز شریف سے کیوں ملاقات کرنے گئے۔
تو تفیصل سے سن لو جماعت اسلامی کوئی خاندانی یا کسی خاص گروہ کی پارٹی نہیں یہ پوری دنیا کے ہر رنگ و نسل کے مسلمانوں کی نمائندہ ہے۔ کہیں اخوان کے نام سے، کہیں حماس کے نام سے، کہیں سعادت پارٹی تو کہیں حمس، کہیں جماعت اسلامی اور دیگر ناموں سے دنیا میں اللہ کے نظام کی جدوجہد میں مصروف عمل ہے۔ مقصد سب کا ایک کہ اسلامی نظام۔
ہمارے انہی تحریکوں کے نمائندوں نے اجتماع میں شرکت کی اور جماعت اسلامی پاکستان سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے تمام مندوبین کو ظہرانہ دیا، جماعت اسلامی پاکستان کے مہمانان کو عزت دی جس پر میں تو شہباز شریف کا مشکور ہوں۔
فسادیوں کو پروپیگنڈا کرنے کےلیے کچھ نہ ملا تو سراج الحق صاحب کی شہباز شریف کے ساتھ ملاقات کی تصویر اٹھا کر جلنے اور گالیوں کے ساتھ اپنی تربیت کا ثبوت دیتے رہے۔

یاد ماضی عذاب ہے یارب
اگر ماضی میں جائیں تو خود کو لشکر حسینؓ کہنے والے زرداری دور میں حکومت کو یزید کا لشکر کہتے ہوئے للکارتے رہے پھر مسکرائٹ اور گلے لگ کر یزید سے مفاہمت بھی کرلی۔
اب موجودہ حکومت کو بھی یزید کا طرز حکومت قراد دیتے ہیں مگر ماضی بتاتا ہے کہ کبھی یہی طاہر القادری شریف فیملی کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے۔
بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے
ہمارے اتحادی یعنی تحریک انصاف کے کارکن بھی اپنے چچا زاد بھائیوں کے ساتھ اس پروپیگنڈے میں پیش پیش رہے۔
تو میرے بھائیوں اگر کسی سے ملاقات کرنا جرم ٹھہرا تو خان صاحب ماضی میں نواذ شریف سے افتتاح کرواتے رہے، ۲۰۰۸ سے پہلے مولانا فصل الرحمن سے بھی ملتے رہے، گزشتہ دنوں امریکی سفیر سے بھی ملاقات کی۔ پھر تو خان صاحب کو ایسے لوگوں سے ملاقوں کی قوم سے معافی مانگنی چاہیئے۔
لہذا ایسے مفافقین، حاسدین اور پروپیگنڈا کرنے والوں یا انکے پروپیگنڈے کا شکار لوگوں سے درخواست ہے کسی سے ملاقات نہ تو کوئی جرم ہے اور نہ اس کا مطلب کہ بندہ بک گیا۔
سو اللہ کی دی ہوئی عقل کا استعمال کریں۔
شکریہ
آپ کا بھائی
شرجیل قریشی

#WeAreWithHaq #IslamiPakistan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *