“اجتماع عام اور ہماری تیاریاں “

تحریر  :  اسریٰ غوری

اجتماع عام اور قاضی بابا کے جنت میں ملنے کہ وہ خوشخبری اور دعا کا ساتھ اب ہمیشہ ہی رہے گا اس اجتماع عام میں بھی جس کی تیاریاں تو کئی روز سے ہی جاری تھیں مگر تیاریوں کے مرحلوں میں بھی ہر ہر قدم پر محبت اور یقین سے لبریز وہ آواز کانوں میں گونجتی رہی جوں جوں نومبر کی وہ تاریخیں قریب آرہی تھیں پاکستان کےہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے ہر ہر کونے میں بیٹھے عاشقان مصطفیٰ کے جوش و ولولوں میں بھی تیزی نظر آرہی تھی ہر ایک کو ایک لگن تھی کہ کسی طرح اجتماع عام کا حصہ بنا جائے جو تمام کوششوں کے باوجود شریک نہیں ہوپارہے تھے ان کے بھی دل یہیں اٹکے ہوئے دیکھائی دیتے تھے ابھی اجتماع عام کی تیاریوں کے بلکل آخری مراحل تھے اور حیران کردینے والی بات یہ کہ پوری دنیا میں موجود کارکنان ہی نہیں بلکہ ایسے لوگ بھی جن کو کبھی بھی سرگرم نہیں دیکھا مگر وہ بھی اس اجتماع عام کیلیے اپنے دلوں اور جیبوں کے دروازے کھولے ہوئے تھے اور اپنی استطاعت سے بڑھ کر تعاون کر رہے تھے ان سب کے لیے یقینا اصل اجر اور اکرام تو اللہ رب العزت کے پاس ہی ہے مگر میری دعا ہیکہ میرا رب اسکے بدلے ان سب کو دنیا میں بھی بہترین بدلہ دے اور آخرت میں بھی ان کے لیے اپنی خوبصورت جنتوں کا مکیں بنائے ۔آمین

ہر جانب اجتماع عام کا شور تھا بس تاریخ قریب آیا ہی چاہتی تھی سوشل میڈیا پر بھی شریک ہونے والوں کے خوشی بھرے اور مجبوریون کے باعث شرکت نہ کرنے والوں کے افسردہ سٹیٹس پڑھنے کو مل رہے تھے ۔۔ ایسے میں پورے پاکستان سے شریک ہونے والوں کی یہ بھی خواہش تھی کہ ہم سب ایک بار اس اجتماع عام میں ملیں بھی یہ سب ہی کی خواہش تھی ۔۔ اسی کے پیش نظر ایک دوسرے کے نمبروں کا تبادلہ رابطہ رکھنے پر زور اور بہت کچھ پلاننگ کی جارہی تھی ۔۔ ہم نے بھی ایسے بہت سے میسجز اور خواہشوں کے جواب میں ایک گروپ بنالیا جس وہ سب افراد تھے جنہیں اجتماع عام مین ملنا تھا ۔۔ آج اٹھارہ تاریخ تھی سب سے پہلے نکلنے والے قافلوں نے رب ہمارا بھی نام لکھ دیا تھا بچوں نے بھی اپنے بابا کیساتھ سوشل میڈیا کیمپ کا حصہ بننا تھا اس حوالے سے دونوں نے اپنے اپنے لیپ ٹاپ اور چیزیں تیار کیں ہم نے بھی اپنی سازو سامان تیار کیا اور موسم کے تیور کے پیش نظر اپنی تیاری مکمل کی اور رخت سفر باندھا ہمیں چونکہ بائے روڈ جانا تھا اس لیے دن کا سفر ہوناتھا اور رات کو کہیں پڑاو ( نائٹ سٹے) لازمی تھا اللہ کے نام سے سفر کا آغاز کیا.

دن بھر اجتماع عام کے ترانوں اور وہاں کی پلاننگ کے ساتھ ایک خوشگوار ماحول میں ایک اچھے سفر کے ساتھ رات میر پور ماتھیلو میں رکنے کا پروگرام تھا تقریبا ایک بجے رات کا کھانا ایک ڈرائیور ہوٹل میں کھانے کے بعد دو بجے گیسٹ روم میں پہنچے رات بسر کی اور صبح صبح پھر نکل پڑے کہ منزل تو ابھی آگے تھی بچوں کو نصیحتیں بھی ساتھ چلتی رہیں کہ وہاں کیسے اپنے سے بڑے لوگوں کا اور آنے والوں کا خیال رکھنا ہے کس طرح اجتماعیت میں سیکھا جاتا ہے ایسی ہی بہت سے باتوں کیساتھ یہ دن بھی پورا سفر میں گزر ا رات کے نو بجنے کو تھے لاہور میں داخل ہوچکے تھےاور تھکن بھی بہت ہو چلی تھی سو ہونا یہی چاہیے تھا کہ گیسٹ روم جا کر ریسٹ کیا جائے مگر مینار پاکستان پر اجتماع عام کی تیاریاں دیکھنے کے شوق نے سب تھکن ختم کروادی لاہور پہنچتے ہی پہلی حاضری منصورہ میں دی جہاں داخل ہوتے ہی ایک عجیب سا احساس آپکو جکڑے رہتا ہے اور آپ سے سحر سے نکل نہیں پاتے ۔۔۔۔ رات کھا کھانا میزبانوں نے تیار کیا ہوا تھا کھانا کھا کر اب ہم مینار پاکستان کی جانب جارہے تھے وہاں پہنچے تو دل جیسے خوشی سے بھر گیا مینار پاکستان ایک بستی کا منظر پیش کر رہا تھا ہر جانب ہی کام زورو شور سے جاری ہر جانب گھوم پھر کر جو تیار کیمپ تھے وہ بھی دیکھے اور جو ابھی تیاری کے مراحل میں تھے ان کی تیاریاں بھی دیکھیں مگر جس حساب سے لوگوں کی آمد کا شور تھا بس یہی خیال آتا رہا کہ کیا یہ جگہ کم نہ پڑ جائے گی اسی سوچ اور ڈھیر ساری دعاوں کیساتھ گیسٹ روم کی جانب چل پڑے کہ تھکن بہت تھی ۔

بیس کی صبح پھر مینار پاکستان کی جانب روا نہ ہوئے جب وہاں پہنچے تو رات بھر جو کام ہوتا رہا اور کیمپس لگتے رہے اس کے باعث منظر رات سے بلکل بدلا بدلا تھا ا کرچی سے چلنے والی پہلی ٹرین ایک قافلہ لیے آچکی تھی ہر طرف شناسا چہرے اور ان پر بکھرتی خوشیاں ایک دوسرے سے ملنے لگے کچھ اور آگے گئے اور پنڈال میں کئی جگہ اپنے اپنے علاقوں کے بینرز لگے نظر آئے ہمارا کام تو شروع ہوچکا تھا ہم نے ان سارے بینرز کی تصاویر لینی شروع کیں درمیان میں ہی کئی لوگوں سے ملاقات ہوتی رہی ۔۔۔ ابھی تو کراچی اور سندھ کے پنڈال ہی میں تھی اور آج تو بیس تاریخ کی دوپہر ہی ہوئی تھی مگر اجتماع عام ابھی ایک بستی کا سماں دینے لگا تھا ۔۔ وہاں سے فارغ ہوکر مرکزی کیمپ کی جانب چل پڑے وہاں بھی رہایش کی کیمپ تو تیار تھے مگر ابھی ڈسپلے کیپمس تیاری کے مراحل میں تھے وہاں اپنی پوری ٹیم سے خوشگوار ملاقات کی اپنے سوشل میڈیا کے کیمپ کے لیے بھی رابطے کرتے رہے تاکہ ہم بھی اپنی تیاری شروع کریں مرکزی ذمہ داران جو لاہور سے ہی تھے اور میزابن بھی ان کو جس تندہی کے ساتھ تیاریوں میں لگے دیکھا ان کے لیے دل سے دعائیں نکلتی رہیں ہم رات گئے تک سب کے ساتھ رہے کھانا بھی ساتھ ہی کھایا اور اگلے دن کی پلاننگ بھی ہوتی رہی بہت رات ہوچکی تھی اب سب سونے لگے تھے اور قافلے تھے کہ چلے آرہے تھے جبکہ ابھی اجتماع عام کل دوپہر کو شروع ہونا تھا ۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *