“میں اسی میں خوش ہوں کہ شہر کے در و بام کو تو سجا دیا”

تحریر :  نوشابہ سکندر

تیرے حسنِ خلق کی اک رمق
میری زندگی میں نہ مل سکی

دنیا بھر میں میرے سمیت بہت سے لوگ نبی أخرالزمان سرورِ کائنات حضرت محمد ﷺ سے محبت کا دم بھرتے ہیں کیوں نہ محبت کی جائے میرے نبیﷺکو بہت بلند مقام پر فائز کیا گیا ہے اللہ سبحانہ نے خود بھی نبیﷺسے محبت کی اور تمام مخلوق کو بھی نبیﷺسے محبت کا حکم دیا بحثیت مسلمان عقیدہ توحید کے بعد عقیدہ رسالت پر ایمان لانا ضروری ہے اللہ سبحانہ رب العالمین ہے اور نبیﷺکو رحمت العالمین بنا کر بھیجا .
اللہ تعالی کا ارشاد ہے
لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ
نبیﷺکی زندگی میں تمھارے لیےبہترین نمونہ ہے
یعنی بنیﷺکی زندگی کو ہمارا رول ماڈل بنایا گیا ہے ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا گیا ہے.
ان کا اخلاق وکردار،ان کی شجاعت و بہادری،ان کی دیانت و امانت ان کی صداقت و عدالت،ان کی شرافت و عاجزی ان کی سپہ سالاری و حکمرانی کا انداز،ان کا اپنے بیویوں اور بچوں سے حسنِ سلوک ان کا تمام لوگوں حتی کہ چرند پرند ،جانوروں سے محبت کا درس اور ان کا مسلمان تو مسلمان کفار اور جنگی قیدیوں سے حسنِ سلوک کرنا،بہترین منصف کا خونصورت کردار ،بہترین تاجر کا کردار
غرضیکہ ان کی شخصیت کا ہر پہلو ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے میں اپنے پیارے نبیﷺکی شان میں کیا لکھوں نہ وہ خوبصورت الفاظ ہیں اور نہ کوئی سلیقہ ہے رہ رہ کر وہ مصرہ یاد أ رہا ہے
کہاں تم کہاں مدحِ ممدوحِ یزداں
یہ جرأت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
نبی ﷺکی مکی زندگی کو دیکھا جائے تو تیرہ سال بڑی اذیتوں اور تکلیفوں میں گزرے مکہ والوں کو ان کی ذات سے کوئی تکلیف نہ تھی اعتبار کا عالم یہ تھا اپنی اماتتیں نبیﷺ کے باس شروع سے رکھواتے أ رہے تھے اور ابھی تک یہ سلسلہ جاری تھا مگر اختلاف بتوں کی مخالفت اور اسلام کی اشاعت پہ تھا کیونکہ بتوں کی وجہ سے مکہ کے سرداروں کے ہاتھ بہت دولت لگتی تھی جو لوگ چڑھاوؤں کی صورت میں چڑھاتے تھے اور مکہ کے سردار مجاور تھے وہ کسی صورت یہ برداشت نہیں کر سکتے تھے ان کے ہاتھ سے یہ مال و دولت نکلے اور ان کی شان میں کمی أئے اس لیے انھوں نے نبیﷺ کی شدید مخالفت شروع کر دی اور اس طرح انھوں نے نبیﷺ اور ان کے ساتھیوں کا جینا دو بھر کر دیا اور نبیﷺ ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے.
نبیﷺ حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ جب مکہ والوں کی امانتیں حضرت علی کے حوالے کر کے نکلے اور انھوں نے غارِ ثور کو پناہ حاصل کرنے کے لیے منتخب کیا تو اس رات اس غار پر چڑھتے ہوئے دشمن کے حملوں کے خوف سے ابوبکر صدیق کبھی أگے ہو جاتے کبھی پیچھے کبھی دائیں کبھی بائیں کہ اگر کوئی نقصان پہنچے تو بہلے مجھے پہنچے کیا محبت تھی ابوبکر صدیق کی نبیﷺ سے کبھی اس احساس کے ساتھ اس پہاڑ کا سفر کر کے دیکھیئے کہ کتنا کٹھن سفر ہو گا اور رات کی تاریکی میں کسقدر دشوار گزار ہوگا اور خوف کے عالم میں مگر حضرت ابوبکر صدیق جب ایک مقام پر گبھرا گئے تو نبیﷺنے فرمایا غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے.
پھر مدینہ چیبہ کی زندگی کو کبھی مسجدِنبویﷺ میں بیٹھ کر یاد کیا جائے کہ کس طرح یہاں پہلی اسلامی ریاست کا قائم ہوئی کسطرح انصار و مہاجریں بھائی بھائی بنے کسطرح انھوں نے قربانیاں دیں کسطرح انھوں نے مدینہ کو اسلام کا قلعہ بنایا کسطرح مسلمانوں نے دین کی سر بلندی کے لیے غزوہ بدر،احد اور خندق لڑیں کسقدر لازوال قربانیاں دیکر انھوں نے اسلام کو سربلند کیا اور رہتی دنیا تک ایک مثالی مملکت بنائی بہت خوشگوار احساس ہوتا ہے نبی ﷺاور ان کے اصحابِ کرام کے لازوال رشتے کا ساتھ ہی خیال أتا ہے کاش اس دور میں ہم نے بھی جنم لیا ہوتا وہاں جا کر نبیﷺسے حقیقی رشتہ کی سمجھ أتی ہے اور پھر اس رشتے کے ساتھ أج کے مسلمان کے محبت کے دعوے اور حقیقی کردار سامنے أتا ہے
تو دل خون کے أنسو روتا ہے ہم کس نبی کی امت تھے اس نبیﷺ کے کیا اوصاف تھے اس کی حیاتِ طیبہ کا کیا درس تھا ہمارے اندر تو اس کا کوئی عکس نظر نہیں أتا ہم کیسے عاشقِ رسولﷺ ہونے کا دعوی کرتے ہیں صرف گھروں گلیوں اور مساجد کو کچھ دن سجا لینے اور عید میلاد النبیﷺ منا لینے سے کیا یہ حق ادا ہو جاتا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ہم اپنے گریبان میں منہ ڈالیں تو منافقت، تعصب ،فرقہ بندی ،کردار اور اخلاق سے عاری امت جس میں نبیﷺکی سیرت کا عکس تو کیا سایہ بھی نظر نہیں أتا کبھی سچا ہم نے کیا منہ دکھائیں گے روزِ محشر اپنے نبیﷺکو؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
میرے نبیﷺ اے امتیوں أج وقت دلوں کے اندھیروں کو دور کرنے کا ہے ۔کیا ہی اچھا ہو کہ یہ مشعلیں یہ قمقمیں ہم اپنے دلوں میں جلائیں اور ایماں کو روشن کریں جس سے سارا عالم روشن ہو اور اس تعلیم کو عام کریں جس کو ہمارے پیارے نبی ﷺاس دنیا مین لیکر أئے تھے اسی میں ہماری دونوں جہانوں میں بقا ہے
بقول شاعر
تیرے حسن خلق کی اک رمق میری زندگی میں نہ مل سکی
میں اسی میں خوش ہوں کہ شہر کے در و بام کو تو سجا دیا
ہمیں اب اس سے أگے بڑھ کر اپنے اور دوسروں کے دلوں کو اسلام کی شمعیں جلا کر روشن کرنا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *