“بلدیہ ٹاون فیکٹری کے اندرونی مناظر”

تحریر: اسرایٰ غوری
وہ روئے رہی تھی آواز اسکا ساتھ نہیں دے رہی تھی ماں تھی نا جوان بیٹی جو اپنے گھر کی کفالت کیساتھ اپنی شادی کے لیے جہیز کا بھی ساماں خود ہی تیار کررہی تھی ماں نے اس کا تیار کیا سامان دکھایا ۔۔۔
کیا سامان تھا ۔۔ چند کپڑوں کے جوڑے کچھ برتن
آہ!! کتنی گنی چنی خوشیاں تھی ان لوگوں کی جس میں وہ مگن تھے مگر ظالم درندوں نے ان سے انکی وہ خوشیاں بھی چھین لیں ۔۔۔۔ ماں ہے کہ جوان بیٹی کی جلی ہوئی لاش کو یاد کر کے بے ہوش ہوئی جاتی ہے آنکھیں ہیں رور رو کر خشک ہوچکی ہیں ۔۔۔
جو کچھ وہاں سنا تھا اور دیکھا تھا اس وقت دل کی حالت ایسی نہ تھی کہ وہ سب لکھ پاتی مگر کل سے پھر اک بار لگتا تھا وہ سارے منظر آنکھوں میں گھوم رہے تھے ۔۔۔ جو بھیانک حقیقتیں وہاں آشکار ہوئیں وہ بیان کرتے ہوئے کئی بار میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں سن سکتے ہیں تو سنیے اس فیکٹری کے اندرونی مناظر کی کچھ روداد ۔۔۔۔
ایک ماں کہتی ہے جس دن آگ لگی وہ تنخواہ لینے کا دن تھا اور غریب آدمی عام دنوں میں تو چھٹی کرسکتا ہے مگر تنخواہ والے دن نہیں کرسکتا اس لیے اس دن حاضری عام دنوں سے زیادہ تھی اور ایک شفٹ ختم ہونے اور ایک شفٹ شروع ہونے کا وقت تھا اس لیے دونوں شفٹوں کے مزدور وہاں بڑی تعداد میں موجود تھے ۔۔ جب آگ لگنے کا شور ہوا تو کچھ لوگ باہر کی جانب بھاگے مگر خونی درندوں نے الیکڑک ڈور سب بند کردیے اور بجلی بند کردی گئی جنہیں نہ توڑنا ممکن نا کھولنا
اب وہ فیکٹری ایک ایسی آتش دزہ جیل کا منظر پیش کر رہی تھی کہ اندر سے دل پھاڑدینے والی چیخوں کو سن کر کچھ لوگوں نے مدد کرنے کی کوشش کی تو انہیں اس سے بھی سختی سے روک دیا گیا ۔۔۔ وہاں سے گزرنے والا ایک فل لوڈڈ ٹرالا یہ خوفناک منظر دیکھ کر رک گیا اور اس نے کہا میں اپنے ٹرالے سے اس فیکٹری کی ایک دیوار کو توڑ دیتا ہوں تاکہ لوگوں کی جان بچ سکے مگر ساتھ ہی کھڑے رینجرز کی وردیوں میں ملبوس (نامعلوم ) درندوں نے ایسا کرنے سے روک دیا گیا ۔۔
پیچھے کھڑے غم سے نڈھال آدمیوں میں سے ایک کی آواز آئی میں باہر تھا میرا بھائی اندر تھا اس کا فون آیا کہ اوپر آگ لگی ہے دروازے بند ہیں ہم نیچے تہہ خانے میں آگئے بہت سارے لوگ مگر یہاں جینز کے کپڑے کو گرم پانی میں ڈالا جاتا تھا جس کے لیے بڑے بڑے بوائلر لگے ہوئے ہیں اب اوپر آگ ہے اور نیچے بوائلر کا کھولتا پانی اور اسکی اسٹیم ہم سب ایک دوسرے کیساتھ چمٹے دیواروں سے چمٹے کھڑے ہیں ہمیں بچا لو خدا کیلیے ہمیں بچالو ۔۔۔!!!!
وہ جوان مرد بچوں کیطرح سسک رہا تھا اور بہت دیر بعد بولا جب سب جل گیا اور میں سب کیساتھ اندر گیا تو میں دیکھا کہ وہ سب لوگ اس تہہ خانے کے دیواروں سے ویسے ہی چمٹے ہوئے مر چکے ہیں اور ہم ان کے جسم کے جس حصے کو ہاتھ لگاتے وہی ہاتھ میں آجاتا کہ اس آگ اور بوائلر کی اسٹیم سے گل چکے تھے کسی کی پوری لاش سلامت نہیں اٹھا پائے ۔۔۔۔۔
یا اللہ !!! یارب کیسی درندوں کی بستی ہے یہ ۔۔۔۔
اب جبکہ سب کچھ عیاں ہوچکا ہے ۔۔ اور عیاں تو روز اول سے ہی تھا مگر اب تو کوئی شک کوئی قانون نہیں جو ان درندوں کو پناہ دینے کا اختیار رکھتا ہو ۔۔۔ پھر کیا اب بھی ان کو مزید تازہ خون دینے کا انتظار کیا جائے گا ؟؟؟ْ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *