اہلیانِ کراچی کا سوال

داعیش نے پائلیٹ کو جلایا یہ بھی دہشتگردی ہے۔ طالبان نے معصوم بچوں کو شہید کیا یہ بھی دہشتگردی ہے۔ امریکہ ڈرون حملے کرئے یا اسرائیل غزہ میں قتل عام کرئے یہ بھی دہشتگردی ہے مگر ایک سیاسی گروہ ایم کیو ایم انسانوں کو زندہ جلا دے، تاجروں سے بھتہ وصول کرئے، الیکشن میں دھاندلی کرئے، مخالفین کو مٹا دے تو اس کی مذمت کیوں نہیں کی جاتی؟؟؟
خون کا بدلہ اور قاتلوں کی گرفتاری کےلیے دھرنا دینے والے طاہرالقادری صاحب تین سو انسانوں کو زندہ جلا دینے والوں کو سزا دلوانے کےلیے کب دھرنا دے رہے ہیں؟؟؟
دھاندلی کے خلاف آواز بلند کرنے والے خان صاحب سے بھی سوال کہ ایم کیو ایم کے کارکن نے خود جعلی ووٹ ڈالنے کا اعتراف کیا اب اس دھاندلی کی تحقیات کا مطالبہ کب کررہے ہیں؟؟؟
طالبان کی قتل و غارت پر رونے، موم بتیاں جلانے اور مظاہرے کرنے والی سول سوسائٹی کب تین سو غریب مزدوروں کو انصاف دلانے کا مطالبہ کرئے گئی اور ان کی یاد میں موم بتیاں روشن کرئے گئی؟؟؟
صبح شام دوسروں کی عزت کو خاک میں ملانے والا بہادر میڈیا کب جرات سے ان دہشتگردوں کا نام لے کر قوم کو سچ بتانے کا اپنا فرض پورا کرئے گا؟؟؟
ہر مخالفت اور اختلاف کے باوجود ملکی ایشوز پر ایک ہونے والے سارے سیاستدان شہرِ کراچی کو پرامن، دہشتگردی اور بھتہ خوری سے پاک اور پھر سے روشنوں کا شہر بنانے کےلیے کب سرجوڑ کر بیٹھے گئے؟؟؟
دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کرنے والی پاک فوج کب کراچی میں موجود تحریک طالبان لندن کے خلاف بھی کب آپریشن کرئے گئی؟؟؟
سراج الحق صاحب کے الفاظ بار بار میرے ذہن میں آتے ہیں دہشتگرد کا کوئی مذہب، مسلک و قوم نہیں۔ لہذا دہشتگردوں کو تقیسم نہ کیا جائے سب دہشتگردوں کو ایک سا جواب دیا جائے اور ہر دہشتگرد کی دہشتگردی سے نفرت کی جائے۔
یاد رکھیں وہ مظلوم مائیں ضرور ہمارا گریبان پکڑے گئی جن کے لخت جگر کراچی میں مخالفین کے انتقام کا نشانہ بنے۔

ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف
گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی
ظالم کو جو نہ روکے وہ شامل ہے ظلم میں
قاتل کو جو نہ ٹوکے’وہ قاتل کے ساتھ ہے
ہم سر بکف اٹھے ہیں کہ حق فتح یاب ہو
کہہ دو اسے جو لشکرِ باطل کے ساتھ ہے
اس ڈھنگ پر ہے زور’ تو یہ ڈھنگ ہی سہی
ظالم کی کوئی ذات’نہ مذہب نہ کوئی قوم
ظالم کے لب پہ ذکر بھی ان کا گناہ ہے
پھیلتی نہیں ہے شاخِ تبسم اس زمیں پر
تاریخ جانتی ہے زمانہ گواہ ہے
کچھ کور باطنوں کی نظر تنگ ہی سہی
یہ زر کی جنگ ہے نہ زمینوں کی جنگ ہے

یہ جنگ ہے بقا کے اصولوں کے واسطے
جو خون ہم نے نذر دیا ہے زمین کو
وہ خون ہے گلاب کے پھولوں کے واسطے
پُھوٹے گی صبحِ امن ‘ لہو رنگ ہی سہی

#شرجیل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *