“حادثے سے بڑا سانحہ”

تحریر: اسریٰ غوری

حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا
لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر

کیا بچے کیا بڑے سب ہی کےسب تماشائی ۔۔۔
کچھ کے ہاتھ میں ذنڈے تھے جو وہ ان جلے ہوئے جسموں پر برسا رہے تھے اور کچھ کے ہاتھ میں موبائل کیمرے جو ان جلے ہوئے لوگوں کی تصاویر بنا رہے تھے ۔۔۔۔یااللہ کیا یہ انسانوں کی بستی ہے ۔۔!!
وہ ان زندہ انسانوں کے جلے ہوئے جسم تھے جو ابھی کچھ دیر پہلے ہی اپنے گھروں سے خوشی خوشی نکلے ہونگے نجانے کیا کیا پلاننگ کرتے واپسی پر کیا کچھ لیکر آنے کی فرمائیشں لیے انہیں تو یہ بھی خبر نہ تھی کہ وہ کس جرم کی پاداش میں یوں جنگل نما بستی کے انسان نما درندوں کی درندگی کا شکار ہورہے ہیں ۔۔۔۔۔
مارنے والوں نے یونہی تو نہیں مارا پہلے ان کی گھڑیاں پیسے بٹوہ سب چھینا گیا یعنی اشتعال ایسا تھا کہ جس میں یہ سب لینا نہیں بھولا گیا ۔۔۔۔۔
اور پھر ان کو مار مار کر لہو لہان کردیا گیا چیختے چلاتے منتیں کرتے اپنا جرم پوچھتے جب زخموں سے نڈھا ل ہوگئے تب بھی ان درندوں کی آگ ٹھنڈی نہ ہوئی بلکہ سر عام سڑک پر گھسیٹتے رہنے کے بعد انہیں برہنہ کر کے انہیں میں سے ایک نعیم نامی آدمی کے موٹر بائیک سے پٹرول نکالا گیا اور ان لہو لہان ہوتے ادھ موئے جسموں پر چھڑک کر آگ لگادی گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
مگر ابھی آسمان نے ان کی درندگی کا مزید نمونہ دیکھنا باقی تھا۔۔۔۔ زندہ انسان جو اب جلے ہوئے ڈھانچوں میں تبدیل ہوچکے تھے اور اب ان پر ڈنڈے برسائے جارہے تھے ۔۔۔۔۔!
یا اللہ یہ تیری دنیا کیسے خونخوار درندوں سے بھر گئی مولا ۔۔۔۔!!!
اس پورے مجمع میں کیا کوئی ایک بھی انسان نہیں تھا؟؟
کیا کسی ایک کےبھی سینے میں دل نہیں تھا ۔۔۔۔ ؟؟
یہ کیسی انسانیت تھی جس کا یوں سر عام جنازہ نکل رہا تھا اور کوئی اس پر رونے والا بھی نہیں ۔۔۔۔۔!!!
کہاں کا بم دھماکے کا غم کہاں اسمیں مرنے والوں کا دکھ ہوتا تو کیا اس میں زخمی ہونے والوں کی مدد کی جاتی کہ انکی خبر گیری کی جاتی یہاں تو امدادی کاروائیاں کرنے والوں کو ہی روکا جارہا تھا پولیس موبائلز پر پتھراو کیا جارہا تھا یہاں تو کھلے عام انسانیت کوپیروں تلے روندھا جارہا تھا ۔۔اور اس سب کے بعد دکانیں لوٹی گئیں اور بوتلیں پی گئی یعنی کس خوشی کا جشن تھا جو منایا جارہا تھا ۔۔؟؟؟؟
کیا یہ بم دھماکے کا سوگ تھا یا کچھ اور ؟؟؟
قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش اب تک تماشائی بنے رہے ۔۔۔۔کیوں ؟؟؟

ابھی کچھ دن ماہ پہلے ہی ایک عیسائی جوڑے کو توہین قرآن کے جرم میں جب زندہ جلایا گیا تو پوری پاک میں اور انٹرنیشنل میڈیا سمیت ہر طرف اک طوفان کھڑا کردیا گیا تھا ہم نے اس وقت اس کی بھی مذمت کی تھی کسی کو یوں زندہ جلادینا انسانیت کے منافی ہے جرم کے کیے جانے کا فیصلہ کرنا عدالت کا کام ہے اسی کو کرنے دیا جائے ۔۔
مگر کیا کوئی جواب دینے والا ہے ؟

کہ آج وہ سب انسانیت کے حقوق کے علمبردار کہاں موت کی نیند سوئے ہوئے آج کیوں کسی کو یہ ظلم نظر نہیں آیا  صرف اس لیے کہ جلائے جانے والے باریش مسلمان تھے ؟؟؟
کوئی ان جلنے والوں پر نہیں ۔۔۔۔۔ انسانیت کے دفن ہوجانے پر ہی سہی کیا کوئی رونے والا ہے ؟؟؟
کوئی ان درندوں کو پکڑنے والا ہے جنہوں نے کھلے عام یہ قتل کیا ؟؟؟؟
کیا کوئی ہے جو آج انسانیت کے وہ سب درس دہرائے ؟؟؟
کیا آج وہ سارے موت کے نیند سے بیدار ہونے کو تیار ہیں جو کتے بلی کے حقوق کیلیے بھی سڑکوں پر آجاتے ہیں ۔؟؟؟
زرا اک لمحے کو سوچیے کہ یہی کام اگر کسی مدرسے یا مسجد کے لوگوں نے کیا ہوتا تو اس وقت بھی منظر نامہ یہی ہوتا ؟؟؟
یا آج پوری دنیا کا میڈیا اسکو بریکنگ نیوز کے طور پر دکھاتا نا تھکتا اور ہمارا اپنا میڈیا اور اس پر بیٹھے نا نہام انسانیت کے عملبردار کیا سارے ملک کے مدرسوں کو منہدم کروادینے پر نہ تلے ہوتے ؟؟؟؟؟
یہ برما نہیں جہاں بدھ نومولود بچوں سے لیکر عورتوں اور مردوں تک کو صرف مسلمان ہونے کے جرم میں زندہ جلا رہے ہیں ۔۔۔
یہ فلسطین بھی نہیں جہاں اسرائیلی درندوں نے بارہ سالہ بچے کو سحری کے بعد روزے کی حالت میں منہ میں پٹرول ڈال کر زندہ جلا دیا گیا ۔۔۔۔
پوری دنیا میں تو جو کچھ مسلمانوں کیساتھ ہو رہا وہ سب صرف انسانی حقوق کی تنظیموں کیلیے اس لیے جائز کے جلنے والے مسلمان ، بہنے ولا لہو کسی کتے بلی کا نہین بلکہ مسلم کا ہے اسلیے انکی زبانیں بھی بند ہیں تو انکے دلائل بھی ختم ۔۔۔۔
مگر آج اگر اسلامی مملکت خداد پاکستان میں بھی کیوں اک مسلمان کی جان محفوظ نہیں رہی ۔۔۔۔۔!!
سوچیے یہ ہم کس طرف جارہے ہیں۔۔۔۔!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *