1

مجھے سراج الحق صاحب سے ملنا ہے؟

 

مجھے سراج الحق صاحب سے ملنا ہے؟
جواب ملا آپ بیٹھیں اور حکم کریں، کیا کام ہے ؟
مجھے عجیب لگا کہ جماعت اسلامی میں اس نوع کا وی آئی پی کلچر نہیں ہونا چاہیے ۔سراج الحق صاحب کو لوگوں سے ملاقات کے لیے سیکرٹری نہیں رکھنا چاہیے۔ ”کلرک بادشاہ” کا جواب سن کر میں دوبارہ گویا ہوا ’’بھائی مجھے سراج الحق صاحب سے جو بھی کام ہے میں انہیں ہی بتاؤں گا، آپ برائے مہربانی میری ان سے ملاقات کروا دیں ‘‘۔ کلرک صاحب جو کہ آستینیں چڑھائے ہاتھ میں پنسل پکڑے کاغذات میں کھوئے ہوئے تھے۔ ایک بار پھر کہنے لگے ’’میں نے کہا نا، آپ حکم کریں، آپ کو کیا کہنا ہے ؟‘‘۔ بس یہیں سے بدمزگی کا آغاز ہوا اور میں نے کلرک کو دو چار سنادیں۔ میں نے کہا آپ ایک ہی بات پر اصرار کیے جارہے ہو کہ میں آپ کو بتا دوں کہ مجھے سراج بھائی کو کیا کہنا ہے جبکہ میں متعدد بار عرض کر چکاہوں کہ آپ مجھے ان سے ملوا دیں۔ مجھے قطعاََ امید نہیں تھی کہ جماعت اسلامی میں بھی شاہانہ کلچر گھس گیا ہے اور سراج الحق جیسے لوگ بھی اس کلچر کا شکار ہو گئے ہیں۔ ممکن ہے میری تقریر طوالت اختیار کر جاتی کہ کلرک صاحب نے مجھے ٹوکا اور مخاطب ہوئے ’’آپ بلاوجہ خفا ہو رہے ہو، میں آپ کو اس لیے بار بار کہہ رہا تھا کہ حکم کریں کیونکہ میرا نام ہی سراج الحق ہے اور میں جماعت اسلامی صوبہ سرحد کا سیکرٹری جنرل ہوں‘‘۔
حیرتِ ساغر میرے مقابل تھا اور میں اس میں غوطہ زن ہونے کو پابہ رکاب۔ حیرت اور خوشی کے ملے جلے احساسات کے مرکب کو پس منظر میں رکھتے ہوئے عرض کیا ’’وہ تقریروں والے سراج الحق؟‘‘جواب ملا ’’جی ہاں! تقریروں والا سراج الحق‘‘۔ میں اپنی نشست سے اٹھا اور میز سے گھوم کر سراج بھائی کے سامنے آن کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ کھڑے ہوجائیں کیونکہ یہ کارکن آپ کو گلے ملنا چاہتا ہے۔ جی ہاں ! جماعت اسلامی کے موجود امیر جناب سراج الحق صاحب سے یہ میرا پہلا تعارف تھا۔ آج سوشل میڈیا پر سراج الحق صاحب کی اکثر ایسی تصاویر دکھائی دیتی ہیں جو ان کی سادگی اور عجز و انکساری کی غماز ی کرتی ہیں۔ مگر درست بات یہ ہے کہ مجھے یہ تصاویر دیکھ کر قطعاََ حیرت نہیں ہوتی کیونکہ میں جس سراج الحق کو آج سے انیس سال قبل مل چکا ہوں وہ تب بھی ایسا ہی تھا۔ تکبر و زعم تو بہت دور کی کوڑی ہے وہ تو ڈھنگ کا لباس بھی زیب تن نہ کرتے تھے۔ سادگی و عاجزی کا امتزاج بنے ہوئے وہ تب بھی زمین پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ جاتے اور اس میں کوئی جھجک یا عار محسوس نہیں کرتے تھے۔!
ایک کارکن کی ڈائری سے
 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں