گھر گھر رقص کرتی موت اور عیاشیوں میں غرق حکمران، ذمہ دار کون ؟؟؟

 

گرمی سے تڑپتے بلکتے، بے ہوش ہوتے، پانی کو ترستے عوام اور سسک سسک کر دم توڑتے روزہ داروں کی تعداد میں منٹوں کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز میں بھی اب کسی مریض کو لینے کی جگہ نہیں بچی اور قبرستانوں میں دفنانے کے لیے جگہ ختم ہوچکی ہے مگر بے حسی کی انتہا یہ ہے کہ کیا حکمران اور کیا عوام ، کوئی بھی ان حالات میں خود کو بدلنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
من حیث القوم ہم ایک بے حس اور مردہ قوم بن چکے ہیں۔
گورکنوں نے ایک قبر کی قیمت پندرہ سے چالیس ہزار کردی ہیں اور اتنی اموات کے باوجود حکومتی بے حسی اور عیاشیوں میں کوئی خلل نہیں پڑا، حکمران آج بھی اپنے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے ہیں اور مرکز و صوبے اور کے الیکٹرک کے ٹھنڈے دفاتر سے یہ آواز آ رہی ہے کہ کہیں بجلی کا بحران نہیں ہوا، کہیں کوئی کہہ رہا ہے کہ آئندہ دو دن تک ہلاکتوں پر غور کیا جائے گا، اور کوئی بے حسی و بے شرمی میں ڈوب کر کہتا ہے کہ گرمی سے کوئی مرے گا تو اس کی ذمہ دار حکومت کیسے ہو سکتی ہے؟
ایٹمی قوت کے حامل پاکستان کے سب سے بڑے اور جدید ترین سہولتوں سے مالا مال شہر کی آج یہ حالت ہے کہ 1100 سے زیادہ افراد گرمی کی وجہ سے موت کے منہ میں جا چکے ہیں اور حکومتوں اور اداروں میں بیٹھے لوگ زخموں پر مرہم رکھنے اور اس کا مداوا کرنے کے بجائے کمال بےنیازی سے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں۔
آفات کا آ جانا یا ہنگامی صورتحال کا پیدا ہو جانا کوئی انہونی بات نہیں مگر آج کے دور میں جب آپ ایک سال پہلے یہ جان سکتے ہیں کہ اگلے سال اس ماہ میں کیا موسم ہوگا اور عوام پر اس کے کیا اثرات ہوں گے تو یہ غفلت کیوں برتی گئی، کوئی حکومت کہیں تھی تو اس نے اس کی پیش بندی کیوں نہ کی، اور اچانک بھی ایسی صورتحال پیدا ہو جائے تو اس سے نمٹنے کے لیے ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ریکوری پلاننگ، کچھ تو ہونا چاہیے تھا؟
ایسی صورتحال میں  کیا حکومت کی جانب سے بڑے بڑے ہالز کا انتظام نہیں کیا جاسکتا تھا جن میں چوبیس گھنٹے جنریٹر مہیا کیے جاتے آجکل اسکولوں کی چھٹیاں ہے کیا اسکولوں میں ہنگامی میڈیکل کیمپ نہیں کھولے جانے چاہیے تھے جہاں گرمی سے دم توڑتے مریضوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جاسکے  اسی طرح مردہ خانوں کا انتظام تاکہ جان سے جانے والوں کی میتوں کو گرمی سے خراب ہونے سے بچایا جاسکے ۔۔
مگر یہ سب کون کرتا یہاں تو یہ حال ہیکہ ایک طرف تھر مین سیکڑوں بچے دم توڑ رہے تھے تو عین اسی اسی وقت دوسری جانب موئنجو داڑو میں ایک ثقافت کی عبرت گاہوں پر دوسری ثقافت ناچ رہی تھی  جنہوں نے عوام کو کمی کمین رعایا سمجھا ہوا ہو ان کے لیے یہ اموات کوئی بڑی بات نہیں انہیں یہ پتا ہے کہ اس عوام کا جتنا بھی خون چوس لیں اگلی بار یہ  شاہ دولہ کے چوہے پھر انہیں کو منتخب کرینگے 
اور یہاں میڈیا کا کردار بھی شرمناک ہے جسے مفاد عامہ کے کاموں اور خبروں سے کوئی دلچسپی نہیں رہی۔
بقول شخصے پریانکا چوپڑا کی سالگرہ اور سونگ ایٹم ہر نیوز بلیٹن میں دکھانے والے نیوز چینلز نے موسم کا حال دکھانا کیوں بند کردیا ہے۔ ہیٹ وارننگ اور احتیاطی تدابیر پر مبنی خبروں کو میڈیا نے کتنا وقت دیا؟ پیمرا نے کوئی فارمولہ نہیں دیا کہ مفاد عامہ کے لیے صرف بھارتی فلموں کے ٹریلیر اور ان کے اداکاروں کی شادی سے لے کر میت تک کی ساری رسومات براہ راست دکھانے کے علاوہ بھی کوئی کام ہوتے ہیں۔
غرض کس کس کی نا اہلی کا رونا رویا جائے کہ یہاں چوروں اور قاتلوں کے ٹولے بیٹھے ہیں جو عوام کا خون چوس کر اپنی توندیں اور بنک بینلنس بڑھا رہے ہیں اور عوام کا کمال یہ ہے کہ ایسے  حالات میں جنھیں گالیاں اور بد دعائیں دیتی ہے، اگلے انتخابات میں جانتے بوجھتے متقی پرہیزگار اور درویش صفت لوگوں کے مقابلے پر پھر انھی بھیڑیوں کو چن کر دوبارہ لے آتی ہے جو انکے جسم کی کھالوں  سے لیکر  رگوں میں خون کا اک قطرہ تک نہیں چھوڑنے کے روادار  ۔۔۔۔۔
حکمرانوں کے ساتھ ان آزمائشوں کی کچھ نہ کچھ ذمہ داری تو خود عوام پر بھی عائد ہوتی ہے۔سوچیے

کہ آج آپکی باری ہے کل آپکی نسلوں کی ۔۔۔کہ جب انہی حکمرانوں کی نسلیں ہونگی اور آپکی آنے والی نسلوں کا خون ۔۔۔

 

۔۔۔!!

1 تبصرہ
  1. 23 June, 2015
    محمد اسد

    حکومت کا انتظار اب چھوڑ دینا چاہیے اور اپنی مدد آپ کے تحت اقدامات اٹھانے چاہیئں۔ ان جیسے لاپرواہ اور بے حس لوگ آج تک نہیں دیکھے۔

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *