رحمتوں کے مہینے کی رحمتیں کہاں ؟

ماہ رمضان تو رحمتوں اور برکتوں مہینہ قرار پایا پھر کیا ہمارے گناہ اس قدر ہوگئے کہ ہم اس کی رحمتوں اور برکتوں کو سمیٹنے کے لیے ناہل قرار دے دیے گیے ۔۔۔؟
رمضان کی آمد کیساتھ ہی ایسی بہت سی ہیڈلائن نیوز بریکنگ نیوز بن بن کر ٹی وہ اسکرین پر نظر آتی رہیں
گرمی نے قیامت ڈھا دی، درجنوں ہلاک
سورج آگ برسانے لگا ، گرمی سے ہلاکتوں کی تعداد …
کراچی میں شدید گرمی، ہلاکتوں کی تعداد 120 ہوگئی
قیامت خیز گرمی میں 24گھنٹوں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 129ہوگئی
کراچی میں گرمی کی شدت سے 256 لوگ اپنی جانیں کھو بیٹھے ۔۔

اور حقیقتا کراچی میں قیامت خیز گرمی لوڈشیڈنگ اور پانی کے بحران نے گھروں میں صف ماتم بچھادی ہسپتالوں میں لائے گئے لاغر ، بے ہوش، نوجوان ،بزرگ اور بچے ایمبولینسوں کی قطاریں مریض اتنے کہ شہر کراچی کے سب سے بڑے استپال میں سہولیات کم پڑگئیں لوگ اسٹریچر کے لیے مارے مارے پھرتے رہے کسی طرح مریض کو ایمرجنسی میں پہنچایا تو بیڈز کی کمی آڑے آگئی ، اسپتال کے اندر لواحقین کی کثرت کی وجہ سے حبس ہوا تو مریضوں کی حالت مزید بگڑنے لگی غرض کہیں بھی سکون نہیں مل سکا شہر کے دیگر اسپتالوں میں صورت حال مختلف نہ تھی ۔ لواحقین اپنے پیاروں کو لے کر سول ،عباسی شہید ، لیاری جنرل اسپتال اور کے پی ٹی اسپتال بھی پہنچے ،بیشتر افراد، ہارٹ اٹیک ،ہائی بلڈ پریشر اور لو لگنے سے اپنے پیاروں کے ہاتھوں میں اپنی جانیں دیتے رہے مگر ہر اک بے بس ۔۔۔۔

گرمی کی وجہ سے ایدھی سرد خانے میں بھی لاشیں رکھنے کے لیے جگہ کم پڑگئی
ماہ رمضان میں ایک طرف سورج اپنی تمام تر حشر سامانیوں کیساتھ جلوہ گر ہے برسات جیسے روٹھ ہی گئی ہے تو دوسری جانب لوڈ شیڈنگ اور پانی کا بحران اک عذاب کے کوڑے کی مانند جن پر پڑ رہا ہے اس کی مار بس وہی جان سکتے ہیں جو اسے سہتے سہتے اپنی جانیں کھو رہے ہیں تو کہیں اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھا رہے ہیں مگر کیا اب بھی ہم اس عذاب کا سبب جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ
یہ سب کیوں ؟؟؟

حضرت عبد اللہ بن عمرؐ راوی ہیں، کہا: حضورِ اکرم ﷺ ہماری جانب تشریف لائے اور فرمایا:
اے جماعت ِ مہاجرین! پانچ چیزیں ہیں جو اگر تمہیں آلیں، اور اللہ کی پناہ کہ تم وہ زمانہ پاؤ:
جب کسی قوم میں بے حیائی اور بدکاری کا چلن ہوجائے اِس حد تک کہ وہ ان کے ہاں سرعام ہونے لگے تو ان میں ایسی ایسی وبائیں اور ایسے ایسے روگ پھوٹ پڑتے ہیں جو ان کے پرانے لوگوں میں کبھی نہ پائے گئے تھے،

– جب کوئی قوم ناپ تول میں کمی کرنے لگے تو وہ قحط سالی اور خرچے کی تنگی کی پکڑ میں آجاتی ہے اور برسراقتدار طبقوں کے ستم کا نشانہ بنتی ہے،

– جب وہ اپنے مالوں کی زکات دینے سے گریز کریں تو اُن کو آسمان سے باران ملنا بند ہوجاتا ہے، اگر بے زبان مخلوقات نہ ہوں تو انکو بارش سرے سے نہ ملے،

– اور جب وہ قوم اللہ کا عہد اور اس کے رسول کا عہد توڑے تو اللہ اُن پر کسی پرائے دشمن کو مسلط کردیتا ہے، جو اُن سے اُن کے ہاتھ کی چیز چھین لے جاتا ہے۔

– اور جب تک ان کے سربراہ کتاب اللہ کے مطابق فیصلے نہ کرنے لگیں، اور کتاب اللہ سے (احکام) اخذ نہ کرنے لگیں، اللہ تعالیٰ انکے مابین خانہ جنگی کروا ڈالتا ہے۔

رواہ ابن ماجۃ فی کتاب الفتن، باب العقوبات رقم 4155، وحسنہ الألبانی فی ”صحیح ابن ماجۃ”، کما حسنہ الوادعی فی ”صحیح دلائل النبوۃ

ان میں سے کونسا ایسا عذاب ہے جو آج ہم پر مسلط نہیں ؟؟؟

مگر کیا اب بھی ہم اپنی آنکھیں کھولنے کے لیے تیار ہیں ؟

کیا اب بھی ہم یہ ماننے کے لیے تیار ہیں کہ یہ سب ہمارے ہی ہاتھوں کی کمائی ہے  جوہم نے بویا تھا  آج  ہم وہی فصل کاٹ رہے ہیں ۔

اللہ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اس وقت اجتماعی توبہ کی ضرورت ہے یہ مہینہ رحمت ، مغفرت اور نجات کا مہینہ خدا کرے کہ ہم اس میں یہ سب پاسکیں اپنے رب کو مناسکیں ہماری خطاوں سے در گزر کرنے والا رب ہماری توبہ کو ضرور سنے گا
اس کے ہاں قبولیت کی بس ایک شرط طے پائی ہے اور وہ ہے ” اخلاص” تو آئیے اپنے آپ کو ٹٹولیں اپنے اخلاص کو کہ ابھی مہلت عمل باقی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *