1

ابے جلدی آجا

وہ میسج پڑھتے ہی کھانا چھوڑ کر بھاگنے لگا تھا میں نے اسے روکا تو کہنے لگا باجی چھوڑ دے بس ابھی آتا ہوں میں نے اسے کہا کہ مجھے بتاو کس کا میسج ہے اور کیا لکھا ہے کہ تم ایسے کھانا چھوڑ کر بھاگ رہے ہو مگر وہ کسی طرح بھی نا ہی رکنے پر تیار تھا اور نہ ہی بتانے میں نے اسکے ہاتھ پکڑ لیا کہ مجھے موبائل دکھاو اس نے موبائل پھینکا اور یہ کہتے ہوئے باہر کی طرف دوڑا لو خود ہی پڑھ لینا میں ے جب موبائل پر میسج دیکھا تو سر چکرا گیا میسج اسکے دوست کاتھا جس میں لکھا تھا
” ابے جلدی آجا فلاں اسٹاپ پر بڑی آفت لڑکی کھڑی ہے جلدی آ ” کتنی دیر میں اپنے ہاتھ میں موبائل پکڑے دکھ اور افسوس کی کیفیت میں پیٹھی رہی کہ اب یہ وقت بھی آنا تھا کہ خود جو گناہ کررہے ہی اس میں دوسرے کو بھی بلا بلا کر شریک کیا جائے ۔
یہ کہانی تھی آج دورہ قرآن میں سورہ النور کی ان آیات کی تفسیر بیان کرتے ہوئے درمیان میں ایک خاتون نے سنائی
“اے نبیﷺ مومن مردوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ”
پردے کا پہلا حکم جو کہ مردوں کو دیا گیا اپنی نگاہوں کو نیچا رکھنے کا مگر آج عورت کی بے حیائی پر تو ہر ایک انگلی اٹھانے کے لیے تیار نظر آتا ہے مگر کیا کوئی ایسا بھی ہے جو اس دنیا میں چند ایک ہی سہی اس آیت پر پورے اترتے مومن مرد دکھا سکے ؟؟؟
سرا راہ گزرتی کوئی عورت ہو یا ٹی وی سکرین پر ہزاروں لوگوں کو ریجھاتی کوئی اداکارہ کتنے مرد ہیں جو ان سے اپنی نگاہیں بچا پاتے ہیں ؟
عام لوگوں کو تو چھوڑئے صاحب کہ اللہ نے بھی عام لوگوں کو تو مخاطب ہی نہیں کیا بلکہ اس آیت مبارکہ میں تو مخاطب ہی مومن مرد لوگ ہیں
مگر عام لوگ ہی کیا اچھے اچھے دیندار لوگ بھی یہاں ڈھیر ہوتے نظر آتے ہیں ۔
اور تو اور ہمارے ہاں تو کوئی حیا باختہ عورت اگر جرم بھی کر لے تو وہ اسکی مزید مشہوری کا باعث بن جاتا جیسا پچھلے تین ماہ سے ہاٹ ٹاپک بنی ماڈل گرل جو جتنے حوالوں سے بھی مشہور ہوئیں وہ سب ہی اس قابل نہیں کہ اسے ڈسکس کیا جائے مگر کیا کہیے ہمارے بے غیرت میڈیا کو کہ کس پل آیان علی نے کیا کھایا، جیل میں کیا کیا، کس کس سے ملیں ،کس رنگ کے کپڑے پہنے، کس کس نے انکے ساتھ سیلفیاں بنائیں اور وہ سب جو کسی طرح بھی کوئی شریف مرد یا عورت سننا برداشت نہ کریں
مگر کیا کیجیے کہ یہی تو میڈیا کی خوراک اسکا راشن ہے وہ اسی غلاظتوں کے ڈھیر سے اپنا پیٹ بھرتا ہے مگر بات اس میڈیا کی بھی نہیں کہ ایک جانور جس کی خوراک ہی گندگی ہے آپ لاکھ اسکے سامنے پاکیزہ خوراک رکھیے وہ کبھی اس سے پیٹ نہیں بھر سکتا مگر دکھ تو یہاں مومن مردوں کا ہے جو اپنی نگاہوں کو ایسی غلاظتوں سے نہ صرف خود گندا کرتے ہیں بلکہ ایسی جیزیں اپنی وال سے شئیر کرکے نجانے اور کتنوں تک اس گندگی کو پہنچاتے ہیں چاہے آپ سے کتنے ہی چاندی کی برتوں میں لپیٹ دیں مگر گندگی گندگی ہی رہے گی اور برائی کی تشہیر مزید برائیوں کو بڑھانے کا باعث تو بن سکتی ہے مگر کبھی بھی خیر کا باعث نہین بن سکتی ۔۔۔۔!!اللہ پاک ارشاد فرماتے ہیں
{وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا}
کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو، یقینا آنکھ، کان اور دل سب ہی کی باز پرس ہونی ہے
[الإسراء : 36]

یاد رکھیے اللہ کی وہ تنبیہ جو اسی سورۃ النور میں کی گئی کہ

{إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ}

جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں میں بے حیائی کی اشاعت ہو ان کے لئے دنیا میں بھی دردناک عذاب ہے اور آخرت میں بھی۔ اور (اس کے نتائج کو) اللہ ہی بہتر جانتا ہے تم نہیں جانتے۔
[النور : 19]

سوچیے کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم بھی اسی آیت کی زد میں آرہے ہوں اور ہمیں خبر بھی نہ ہو ۔۔۔!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

7 تبصرے “ابے جلدی آجا

اپنا تبصرہ بھیجیں