“عشق حقیقی اور عشق مجازی کا تصور”

تحریر : شہزاداسلم مرزا

خوشی کے جزبات سے مزین تصویر ایک ایسی بچی کی ہے جو جرمنی جیسے معاشرے میں پروان چڑھی، جسے سکول میں حجاب پہننے پر پابندی کا سامنا تھا ۔ عدالت سے رجوع کرنے پر اسے حجاب پہننے کی اجازت مل گئی اور اللہ کےشکر سے لبریز قیمتی آنسوں بطور نذرانہ چھلک گئے۔
اذیت سے مزین خون آلوددوسری تصویر ایک ایسی بچی کی ہے جو ایک اسلامی ملک پاکستان میں پروان چڑھی، جسے اتنی آزادیاں حاصل تھیں کہ وہ کھلم کھلا اپنے محلے اور سکول کے لڑکے سے محبت کرنے لگی، اپنے والد کی بندوق تک اتنی آسان رسائی تھی کہ محبت کی ناکامی پر اسی بندوق سے خود کشی کر لی اور اپنے خاندان کے لیئے جدائی سے ذیادہ شرمندگی کے آنسو مقدر کر گئی۔
آج کے دور میں یہ دونوں محبت سے سرشار واقعے “عشق حقیقی اور عشق مجازی” کی مختصر تفسیر بیان کرنے کے لیئے کافی ہیں۔ اگر والدین کی تربیت کا محور اللہ تعالیٰ ہو جائے تو عشق حقیقی کی منازل جرمنی جیسے معاشرے میں بھی طے کی جا سکتی ہیں اور اگر والدین کی تربیت کا محور اللہ تعالیٰ کے علاوہ سب کچھ ہو تو عشق مجازی کا سفر پاکستان جیسے اسلامی ملک میں بھی عبرت ناک انجام سے دوچار کر سکتا ہے۔
کراچی واقعے میں کسے قصوروار ٹھہرایا جائے۔۔۔
٭ان والدین کو جو اپنے بچوں کو سب کچھ بتاتے اور سیکھاتے ہیں بس مقصد زندگی جیسی نعمت قدر اور مقصد زندگی کے حقیقی تصور سے کبھی آشنا نہیں کرتے اور بچے دنیا کی ہی لزتوں کے حصول کو ہی سب سے بڑی حقیقت سمجھ کرزندگیاں برباد کر لیتے ہیں۔
٭ان تعلیمی اداروں کو جو بھاری فیسیں تو وصول کر تے ہیں مگر بچوں کی اخلاقی تربیت پر کوئی توجہ نہیں دیتے بلکہ اخلاق باختہ تقاریب کا انعقاد کر کے باقائدہ مادر پدر ماحول فراہم کرتے ہیں۔
٭ایسی حکومت کو جو ٹی وی چینلز اور انٹر نیٹ پر وبا کی طرح پھیلتی فحاشی و عریانی پر آنکھیں بند کیئے ہوئے ہیں بلکہ کوایجوکیشن کو پروموٹ کرکے خودبچوں کے بچپنے کو چھیننے کا باعث بن رہی ہے۔
٭ان علماء کو جوگلی گلی مساجد و مدارس کھول کر نفرتیں تو عام کرتے ہیں مگر ان کو اسی محلے کے بچوں کی اسلامی تربیت کی کوئی فکر نہیں،
٭یا معاشرے کی عمومی بےحسی پر جو حادثات و سانحات کو دیکھتے ہیں ، افسوس کرتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں ان سانحات کے بنیادی محرکات کو روکنے کے لیے کوئی اجتماعی جدوجہد نہیں کرتے۔
سیلاب اور زلزلے کی تباہی کو تو کچھ عرصے میں بحال کیا جا سکتا ہے مگر ایک نسل کی تباہی سے قوم کے مستقبل کو محفوظ بنانا بہت مشکل ہو جائے گا۔؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *