1

“مغربی تہذیب کی یلغار”

تحریر : ثمینہ عباسی

نصف صدی سے دنیا کو اپنا فکری غلام بنانے والی استعماری طاقتوں نے امت مسلمہ کی تبائی کی جو سازشیں تیار کی ان کے نتائج پوری دنیا دیکھ رہی ھے فحاشی اور عریانی کو فروغ دے کر نسلوں کی تبائی ان کا پہلا ہدف ھے جس میں ان کی کامیابی صاف نظر آ رہی ھے وہ مسلم تہذیب اور امت مسلمہ کو اخلاقی برتری سے محروم کرنا چاہتے ہیں جو اسے تمام اقوام عالم میں حاصل ھے مغرب اور لا دینی قوتیں آذاد ثقافت اوربے حیا تہذیب کی بدولت اس وقت ہلاکت و بربادی کی دلدل میں گر چکی ہیں یہی وجہ ھے کہ مسلم عورت اس وقت ان کے نشانے پر ھے بے پردگی عریانی اور فحاشی کے ذریعے مغرب عورت کے تقدس کو ملیا میٹ کرنا چاہتا ھےعورت تو ہر دور میں شرم و حیا کا پیکر نظر آتی رہی مگر موجودہ دور میں عورت کیوں پردہ کو مشکل اور بارگراں جاننے لگی پردہ سے نظر چرا کر سب کی نظروں میں آنا قبول کر لیا اس کی ایک بڑی وجہ قران سے دوری اور مغربی تہزیب سے گہرا لگاؤ ھے جس نے چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کیا بے پردگی پر جدیدیت کا لیبل لگا کر گمراہی کے مواقع پیدا کرنے والی ان لادینی قوتوں نے عورت کی کامیابی معاشرے کی زینت بننے کو قرار دیا گمراہی کے وسع نیٹ ورک جب لوگوں کی جیبوں میں مچلنے لگے اور شیطان ہر گھر کی دہلیز پر پڑاؤ ڈال لے تو نسوانیت تو متاثر ھو گی ہی غور و فکر کی ذمہ داری سے آذاد مائیں اپنی آسانی کے لیئے بچیوں کو ٹی،وی کے آگے بٹھا کر ریموٹ ان کے ہاتھ میں تھما دیتی ہیں اور بچیاں دنیا جہاں کی غلاظت کا طواف کرتی رہتی ہیںگھرآئے مہمانوں سے بچیوں کا تعارف بھی لازمی جانا جاتا ھے زمانے کے ساتھ چلنے کا درس دیا جاتا ھے اور سر پہ ڈوپٹہ لینے پر جب بچی کو ماں یہ کہے کہ یہ کیا ماسی کی طرح لپیٹ رکھا ھے توقصور کس کا نکلتا ھے ماں کو ایک عورت کی حثیت سے سوچنا چایئے کہ تربیت کے وہ کون سے لوازمات ہیں جو اس کے بچوں کو ایک سچا مسلمان بنانے میں اس کی رہنمائی کر سکتے ہیں وہ عورت جسے قران نے خود کو ڈھانپ کر رکھنے کا حکم دیا اور یہی ڈھانپ یعنی پردہ معاشرے میں عورت کو تحفظ و وقار دیتا ھے جس کی وہ حقدار ھے پردہ تو غلیظ نظروں کی وہ ڈھال جو عورت تک اس غلاظت کو پونچنے ہی نہں دیتا آج کے اس بیمار معاشرے میں ایسی عورتیں بھی ہیں جنکو فیشن کی ہوس نےنڈھال کر رکھا ھے کہ لباس پہنے ھوئے بھی بے لباس نظر آتی ہیںبقول شاعر نئی تہذیب نے وہ پراہن بخشا ھے جسموں کو کہ چھپ کر لاکھ پردوں میں بھی عریانی نہیں جاتی شطان کی پہلی چال ہی عورت کی شرم وحیا پر غرب لگانا ھے صنف نازک کو فولادی پیکر بنا کر ہر چوراھے میں کھڑا کرے عورت کی تخلیق چوراھوں اور سائن بورڈوں کے لیے نہیں ھوئی وہ تو گھر کی زینت اور نسلوں کی تیاری جیسے عظیم منصب پے فائز ھے چودہ سو سال پہلے جب پردے کے احکامات نازل ھوئے تو اس وقت مسلم خواتین نے اپنے گھر کے دروازوں کے پردے اکھاڑ کر اپنی اڑنیاں بنا لی تھی اور آج اڑنیاں ہیں پر سر نہیں قران جہاں یہ حکم دے رہا ھے کہ اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی مت چلوککہ جس سے تماری زینت ظاہر ھو وہ یہ کیسے برداشت کر سکتا ھے عورت کی بے حجابی دنیا پر حکمرانی کرے عورت جس کے معنی ہی چھپی ھوئی چیز کے ہیں اسلام کا درد رکھنے والی خواتین کی یہ ذمہ داری بنتی ھے کہ حکومت پاکستان کی توجہ اس طرف مبزول کروائی جائے سکول کالجز کے اندر حجاب کو لازمی قرار دیا جائے ہم ایسے مسلم معاشرے کا حصہ ہیں جس کی بنیاد قرانی اصولوںپر رکھی گئی مگر معاشرہ اس کے منافی اصولوں پر رواں دواں ھے بےحجابی موجودہ وقت کی سب سے بڑی خرابی ھے جس نے نوجوانوں کو متاثر کیا تعلیمی اور تربیتی ادارے اگر دینے ہتھیاروں سے لیس ھوں گے تو ہم مغرب کے خلاف یہ جنگ آسانی سے جیت سکتے ہیں پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ ہر دین کا ایک اخلاق ھے اور دین اسلام کا اخلاق حیا ھے ، پردہ حیاہ کی علامت ھے احکام حجاب کے اہم ترین اغراض بدکاری کا راستہ روکنا ھے عورت کے ۔۔تقدس کی بحالی اور وقار کو برقرار رکھنے کے لیئے لازمی ھے کہ حجاب کے فروغ کے لیئے بھر پور کوششیں کی جائیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

3 تبصرے ““مغربی تہذیب کی یلغار”

اپنا تبصرہ بھیجیں