” جماعت اسلامی کا انتخابی نظام اور طریق انتخاب”

تحریر: شمس الدین امجد

جماعت اسلامی منفرد خصوصیات کی حامل ہے اور حالیہ دنوں میں امرائے صوبہ کے انتخاب سے اس کی ایک انفرادیت کھل کر سامنے آئی ہے اور سوشل میڈیا اور روایتی میڈیا کی وسعت سے عوام الناس کی ایک بڑی تعداد اس سے آگاہ ہوئی ہے۔ یہ انفرادیت بجا طور پر اس بات کی مستحق تھی کہ اسے ٹاک شوز اور کالموں میں موضوع بحث بننا چاہیے تھا کہ جماعتوں میں عدم جمہوریت کے حوالے سے ایک عرصے سے ” چیخ و پکار” سننے کو مل رہی ہے مگر شاید ایک ‘اسلامی’ جماعت میں ہونے کی وجہ سے یہ انفرادیت نظر التفات کی مستحق قرار نہیں پائی ہے۔ 21 اکتوبر کو ان شاء اللہ نئے امرائے صوبہ اپنی ذمہ داری کا حلف منصورہ میں اٹھائیں گے۔ ضروری ہے کہ موقع کی مناسبت سے جماعت اسلامی کے انتخابی نظام اور طریق انتخاب کے حوالے سے بنیادی معلومات سامنے لائی جائیں تاکہ زیادہ بہتر انداز میں اس کی تفہیم ہوسکے۔

جماعت اسلامی کی منظم اور مئوثر تنظیم اس کی خصوصیت ہے اور حوادث زمانہ اس پر اثرانداز نہیں ہوسکے۔ ملک میں جمہوریت ہو یا آمریت، جماعت کو پابندی کا شکار ہونا پڑا ہو یا ریاستی تشدد اور جکڑبندیوں کی صورت میں ناروا سلوک کا، یا خود جماعت سے بعض بڑے ناموں کی علیحدگی کا مرحلہ پیش آیا ہو، اس کی تنظیم ہر حال میں قائم رہی ہے اور آگے بڑھتی رہی ہے۔ بنیادی وجہ اس کی یہ ہے جماعت اسلامی ایک لکھے ہوئے دستور کے مطابق چلتی ہے اور امیر جماعت، ہر سطح کے ذمہ داران اور اس کے ارکان و متعلقین اس کے پابند ہیں۔ اسی دستور کے مطابق تنظیم کے ہر سطح کے امیر ، شوری اور عاملہ کا انتخاب ضروری ہے اور یہ عمل گزشتہ پون صدی میں کسی طرح کے حالات میں تعطل کا شکار نہیں ہوا ہے۔ نہ صرف یہ کہ مرکزی، صوبائی، ضلعی امیر کا ارکان جماعت اپنے ووٹوں سے انتخاب کرتے ہیں بلکہ اگر کسی جگہ تین ارکان جمع ہوجائیں تو ان میں کسی ایک کو اپنا امیر منتخب کرکے تنظیم بناتے اور دعوت کا کام کرتے ہیں۔

جماعت کے نظام انتخاب کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں کوئی بھی شخص کسی بھی عہدے کا امیدوار نہیں ہو سکتا، اگر کسی میں یہ خواہش پائی جائے یا کوئی کسی بھی عہدے کے لیے کسی طرح کی کنونسنگ یا مہم میں ملوث پایا جائے تو وہ دستوری طور پر نااہل ہوجاتا ہے۔ نظام انتخاب کی یہ بنیادی خوبی ہے جس کی وجہ سے جماعت اب تک اپنی اصل پر قائم ہے اور کسی ٹوٹ پھوٹ یا گروہ بندی کا شکار نہیں ہوئی، دستوری طور پر اس پابندی نے ہر سطح پر موروثی، علاقائی یا گروہ بندی کی بنیاد پر انتخاب کا راستہ ہمیشہ کےلیے روک دیا ہے۔ اسی وجہ سے آپ دیکھتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے بانی اور پہلے امیر سید ابوالاعلی مودودی علیہ الرحمہ کا تعلق حیدرآباد دکن سے ہے اور اردو زبان بولنے والے تھے۔ دوسرے امیر میاں طفیل محمد پنجاب سے، تیسرے امیر قاضی حسین احمد علیہ الرحمہ خیبرپختونخوا، چوتھے امیر سید منور حسن کراچی اور موجودہ امیر سراج الحق خیبرپختونخوا سے ہے۔ ان میں سے کوئی بھی اپنے سے پہلے امیر کا رشتہ دار تو کیا ہم علاقہ و ہم زبان بھی نہیں ہے۔ موجودہ امرائے صوبہ کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اس پابندی کی وجہ سے کوئی بھی رکن جماعت اپنی صلاحیت و صالحیت کی بنیاد پر آگے آ سکتا ہے اور ضلع سے مرکزی امیر تک منتخب ہو سکتا ہے۔ جماعت اسلامی کے موجودہ امیر سراج الحق کے انتخاب سے یہ خصوصیت کھل کر سامنے آئی ہے اور اسے زیادہ بہتر انداز میں سمجھا گیا ہے۔

نظام انتخاب کی ایک خصوصیت مدت انتخاب ہے۔ جماعت اسلامی کے مرکزی امیر کی مدت 5 سال مقرر ہے اور ہر 5 سال کے بعد انتخابی عمل کے ذریعے ارکان جماعت کے ووٹوں سے امیرجماعت کا انتخاب ہوتا ہے اگرچہ مرکزی امیر کو باربار منتخب کیا جا سکتا ہے، البتہ صوبائی امیر کی مدت 3 سال ہے اور اسے صرف 2 میعاد کےلیے منتخب کیا جا سکتا ہے، یعنی زیادہ سے زیادہ وہ 6 سال تک اس عہدے پر رہ سکتا ہے۔ ضلعی امیر کی مدت 2 سال ہے اور ضلعی امیر کو بھی زیادہ زیادہ سے 2 میعاد کےلیے منتخب کیا جا سکتا ہے یعنی وہ 4 سال تک اپنے عہدے پر رہ سکتا ہے۔ اس طرح نئی قیادت کے سامنے آنے کا دروازہ کھلا ہے، جو تنظیم کے ساتھ وابستگی اور کام کے حوالے سے مثال بنے گا، وہ اس انتخابی عمل کے ذریعے قیادت کے منصب پر آ سکے گا اور اسے کوئی روکنا چاہے بھی تو نہیں روک سکے گا۔ ارکان جماعت اگر کسی بھی سطح کے امیر سے مطمئن نہیں ہیں تو وہ ایک مدت کے بعد اسے تبدیل کر سکتے ہیں، اطمینان و کارکردگی کی مدت بھی مقرر ہے اور اس کے بعد نئے امیر کا انتخاب لازمی ہے۔

طریق انتخاب یہ ہے کہ مرکزی یا صوبائی و ضلعی امیر کی مدت مکمل ہونے سے 3 ماہ قبل متعلقہ مجلس شوری اپنے میں سے تین نام تجویز کرتی ہے کہ شوری کی نظر میں یہ تین افراد امیر بننے کے اہل ہیں، مگر ارکان جماعت کے لیے ضروری نہیں ہے کہ وہ ان 3 میں سے ہی کسی ایک کو ووٹ دیں، اگر کسی رکن کی نظر میں کوئی اور رکن جماعت اس منصب کے لیے زیادہ اہل ہے تو وہ اسے ووٹ دے سکتا ہے۔ یاد رہے کہ امیر بننے کےلیے ہر رکن اہل ہے اور اس کے لیے کسی بھی رکن جماعت کو ووٹ دیا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر متعلقہ شوری ایک ناظم انتخاب یعنی چیف الیکشن کمشنر اور اس کے معاونین کا تقرر بھی کرتی ہے۔ مرکزی ناظم انتخاب اس عرصے میں ارکان جماعت کو بیلٹ پیپر بھجواتا ہے اور بیلٹ پیپر کی واپسی کے بعد ناظم انتخاب کی نگرانی میں انتخابی کمیٹی ووٹوں کی گنتی کرتی ہے اور نئے امیر کا اعلان کیا جاتا ہے۔ صوبائی امرا کے لیے ووٹنگ کے مراحل طے ہونے کے بعد صوبائی ناظمین بیلٹ باکس کے ساتھ مرکزجماعت آتے ہیں اور یہاں مرکزی ٹیم اور چاروں صوبائی ناظمین انتخاب کی موجودگی میں بیلٹ باکسز کھولے جاتے ہیں، ووٹوں کی گنتی ہوتی ہے اور صوبائی امیر کا انتخاب عمل میں آتا ہے۔ یوں ایک شفاف عمل کے ذریعے ہر سطح کا امیر جماعت منتخب ہوتا ہے اور اس میں کسی قسم کی ہیرا پھیری یا پسند نا پسند کی کوئی گنجائش نہیں ہے

جماعت اسلامی میں مرکزی امیر کے لیے انتخاب اور صوبائی و ضلعی امرا کے لیے استصواب کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ انتخاب کا مطلب یہ ہے کہ ارکان جماعت کی رائے حتمی ہے اور مرکزی امیر سادہ اکثریت کے ساتھ منتخب ہو جاتا ہے۔ صوبائی امرا کے لیے بھی ارکان جماعت ووٹ ڈالتے ہیں اور انتخابی عمل ہوتا ہے مگر اس میں امیر جماعت کو دستوری طور پر یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جماعتی مصالح کی بنیاد پر دوسرے نمبر پر آنے والے کو بھی امیر صوبہ مقرر کر سکتا ہے مگر ایسا شاذ ہی ہوتا ہے اور وہ بھی اس صورت میں جب ووٹوں میں فرق بہت کم یعنی انیس بیس کا ہو، اس صورت میں امیر جماعت مرکزی ذمہ داران اور بعض اوقات متعلقہ صوبے کی شوری سے مشورہ کرتا ہے۔ مرکز جماعت میں گزشتہ 10 سالوں میں میں نے دیکھا ہے کہ امیر جماعت نے اپنے اس اختیار کو استعمال نہیں کیا اور ارکان جماعت کی رائے کو ہی مقدم رکھا گیا ہے۔ دستور جماعت میں استصواب کی اصطلاح اس لیے رکھی گئی ہے کہ دستوری طور پر صوبائی امیر صوبے میں اصلا امیر جماعت کا نمائندہ ہوتا ہے اور اسے مرکزی امیر کی ہدایات کے مطابق تنظیم کو چلانا اور پالیسیوں پر عمل کرنا ہوتا ہے، اور اس حوالے سے دستوری طور پر وہ امیر جماعت کے سامنے جوابدہ ہے۔

دستوری قواعد و ضوابط کے پابند اس شفاف انتخابی عمل کے بعد یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی فرد یا گروپ یا پھر علاقائی و لسانی بنیادوں پر کسی من پسند فرد کو آگے لایا جا سکے۔ اس بنیادی اور منفرد خصوصیت کی وجہ سے ہر سطح پر جماعت اسلامی میں حقیقی قیادت سامنے آتی ہے اور مدت کی پابندی نے نئی قیادت کے سامنے آنے کا راستہ بھی کھول دیا ہے۔ مرکز سے صوبے اور پھر ضلع و تحصیل اور یونین کونسل تک قیادت کو سامنے لانے کا یہ نظام آپ کو کسی دوسری جماعت میں دور دور تک نظر نہیں آئے گا۔ اسی خصوصیت کے پیش نظر پلڈاٹ نے جماعت اسلامی کو پاکستان میں پہلے نمبر کی جمہوری جماعت قرار دیا ہے۔ الحمدللہ علی ذالک

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *