1

“ترک انتخابات، الحمد للہ”

عبد الغفار عزیز

ترکی میں جسٹس پارٹی نے ایک بار پھر شاندار کامیابی حاصل کرلی۔ یکم نومبر کو ہونے والے انتخابات میں اسے توقع سے بھی زیادہ کامیابی ملی۔ سب تجزیہ نگاروں کے لیے حیران کن امر یہ تھا کہ ۷ جون کو ہونے والے انتخابات کے صرف چار ماہ بعد اس نے اپنے ووٹوں میں چالیس لاکھ اور نشستوں میں ۵۹ کا اضافہ کرلیا۔ حالیہ انتخابات سے چند روز قبل ۸ مختلف سروے رپورٹیں یہ بتا رہی تھیں کہ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی(AKP) ۳۹ سے ۴۵ فیصد تک ووٹ حاصل کرسکے گی۔اور اسی طرح ایک بار پھر مخلوط حکومت تشکیل دینے پر مجبور ہوگی۔ سروے یہ تو بتا رہے تھے کہ بعض جماعتوں کے ووٹر تردد کا شکار ہیں لیکن وہ سب کے سب جسٹس پارٹی کی طرف چلے جائیں گے، اس کی توقع نہیں کی جارہی تھی۔
چار ماہ قبل ہونے والے انتخابات میں اس کی نشستیں باقی تینوں جماعتوں سے دُگنی ۲۵۸ ہونے کے باوجود تنہا حکومت سازی کے لیے ناکافی تھیں۔ ۱۸ مزید ارکان کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے اس نے تینوں جماعتوں کو بڑی بڑی پیشکشیں کیں لیکن کوئی آمادہ نہ ہوا۔ مجبوراً دوبارہ انتخاب کروانا پڑے۔ اللہ کے فرمان نے اپنی ابدی سچائی منوالی: ’’عَسٰی أنْ تَکْرَھُوا شَیْئاً وَ ھُوَ خَیْرٌ لَکُمْ۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کسی چیز کو ناپسند کررہے ہوں اور وہی تمہارے لیے خیر کا باعث ہو‘‘۔ اب جسٹس پارٹی کو ۳۶.۴۹ فیصد ووٹ اور ۵۵۰ میں سے ۳۱۶ نشستیں مل گئیں۔ گویا ہر دوسرے ترک شہری نے جسٹس پارٹی کو ووٹ دیا۔
پارلیمنٹ میں آنے والی باقی تینوں جماعتوں میں سے دو نے چار ماہ میں اپنی تقریباً آدھی نشستیں کھودیں۔ ۱۹۶۹ سے قائم ترک قوم پرست جماعت (MHP) کو جون میں ۸۰ نشستیں ملی تھیں اور اب ۴۱۔ اسی طرح کرد قوم پرست جماعت(HDP) کو بھی گزشتہ انتخاب میں ۸۰ جب کہ حالیہ انتخاب میں ۵۸ نشستیں ملیں۔ اس کی قوت کے اصل مرکز ’’دیار بکر‘‘ میں اسے ۷۳% ووٹ ملے اور گیارہ میں سے نو نشستیں۔ جسٹس پارٹی کو وہاں کے ۲۳ فیصد ووٹ اور دو سیٹیں ملیں۔ البتہ ۱۹۲۳ میں کمال اتاترک کے ہاتھوں تشکیل پانے والی ری پبلیکن پیپلز پارٹی(CHP) نے اپنی سیٹیں تقریباً بحال رکھیں۔ اسے جون میں ۱۳۴ جب کہ حالیہ انتخاب میں ۴۳. ۲۵ % ووٹ اور ۱۳۱ نشستیں ملیں۔
حالیہ انتخابی مہم کا جائزہ لیں تو تقریباً تمام جماعتوں نے ملک میں اقتصادی ترقی اور عوام کی معاشی صورتحال بہتر بنانے پر زور دیا۔ کم از کم تنخواہ میں اضافہ، بے روزگاری کا خاتمہ، نوجوانوں کی فلاح اور بزرگ شہریوں کے لیے مراعات جیسے اُمور انتخابی مہم کا حصہ رہے۔ جسٹس پارٹی نے البتہ ان اعلانات کے ساتھ ساتھ اپنی گزشتہ شاندار کارکردگی، ملک سے کرپشن کا خاتمہ کرنے جیسے اپنے کارناموں اور ۲۰۲۴ تک ترکی کو دنیا کی قابل فخر خوشحال ریاست بنادینے کے عزائم پر مبنی مہم چلائی۔
جون سے نومبر تک ترک شہریوں نے یہ مشاہدہ بھی کرلیا کہ اگر ملک میں مستحکم حکومت نہ تو حالات کیسے روز بروز دگرگوں ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ان چار ماہ میں جسٹس پارٹی ہی نہیں پورے ملک کا مستقبل مسلسل مخدوش ہوتا چلا گیا۔ کرنسی کا ریٹ گرنے لگا، اپوزیشن جماعتوں نے جسٹس پارٹی پر جھوٹے الزامات کے طومار باندھنا شروع کردیے۔ صہیونی اور بعض عرب ہی نہیں، مغربی بالخصوص امریکی ذرائع ابلاغ میں بھی صدر رجب طیب اردوان اور جسٹس پارٹی کے خلاف پراپیگنڈا مہم تیز تر ہوگئی۔ دارالحکومت انقرہ سمیت پورے ملک میں دہشت گردی کی بڑی بڑی کاروائیاں ہونے لگیں۔ یوں لگا ترکی کا حال قرآن کریم میں مذکور اس بڑھیا کی طرح ہونے جارہا ہے، جس نے دن بھر سوت کاتا، اور شام کو اسے تار تار کردیا۔ لیکن ترک عوام نے باشعور ہونے کا ثبوت دیا۔ جسٹس پارٹی کی کامیابی کے اعلان کے اگلے ہی روز کرنسی مستحکم اور بازار حصص میں بہتری آنا شروع ہونے لگی۔
حالیہ ترک انتخابات کو صرف ترکی نہیں پورے مشرق وسطیٰ کے انتخابات قرار دیا جارہا تھا۔ اس کے نتائج کا انتظار بھی ترک عوام ہی نہیں پوری مسلم دنیا نے بے تابی سے کیا۔جسٹس پارٹی کی کامیابی اور ملک میں استحکام کی جانب دوبارہ آغاز کی مسرت صرف ترک عوام ہی نے نہیں، دنیا کے ہر غیورمسلمان نے محسوس کی۔ دوسری جانب دیکھیں تو صہیونی وزیراعظم نتین یاہو، شامی صدر بشارالاسد، مصری جنرل سیسی، یمنی سابق ڈکٹیٹر علی صالح، باغی حوثی قبائل اور ان کے ہمنواؤں کے ہاں صف ماتم بچھ گئی۔ ان کے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا نے پوری انتخابی مہم کے دوران میں بھی صدر اردوان کے خلاف پراپیگنڈے کا بازار گرم کیے رکھا۔ انتخاب کے دن یعنی یکم نومبر ہی کے عرب اور ایران یاخبارات کا جائزہ لیں تو زہر افشانی عروج پر دکھائی دیتی ہے۔ مثال کے طور پر لندن سے شائع ہونے والا نمایاں ترین روزنامہ الشرق الاوسط سرخی جماتا ہے’’الاتراک یختارون بین العدالۃ و الاستقرار‘‘ آج ترک عوام جسٹس پارٹی اور ملکی استحکام میں سے ایک کا انتخاب کریں گے‘‘۔ اس رویے پر احتجاج ہوا اور نتائج بھی اپنی خواہش کے برعکس آئے تو اخبار کو اپنے رویے پر نظر ثانی کرنا پڑی اور اس نے لکھا: ’’ترک عوام نے مخلوط حکومت کے بجائے استحکام کا انتخاب کیا۔ جسٹس ہاؤس میں واپس آگئے۔ قوم پرست سب سے زیادہ نقصان میں رہے‘‘۔ بعض اخبارات اور بڑی حد تک خود پاکستانی الیکٹرانک میڈیا نے بھی اس ترک جمہوری انقلاب کی خبر ہی گول کردی۔ خبر دی بھی تو نتائج کے آغاز پر کرد اکثریتی علاقے میں ہونے والے چند احتجاجی مظاہروں کو نمایاں کرتے ہوئے۔ متحدہ عرب امارات کے اہم روزنامہ ’’البیان‘‘ کو ذرا دیکھیں۔جسٹس پارٹی کی کامیابی کی چھوٹی سی خبر اس کے صفحہ۳۵ پر شائع کی گئی اور وہ بھی کرد مظاہروں کے ذکر کے ساتھ۔ دبی سیکورٹی اداروں کے ایک اہم ذمہ داران ضاحی خلفان جو ہمیشہ اخوان مخالف شدید جذبات کا اظہار کرتے رہتے ہیں، نے بھی جسٹس پارٹی کی جیت مشرق وسطیٰ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی ایک سازش قرار دی۔ اب ’’سبحان اللہ‘‘ کے علاوہ اس پر کیا تبصرہ کیا جائے۔
ترک انتخابات کا مرحلہ تو الحمد للہ بعافیت طے ہوگیا چند روز میں شاید حکومت سازی کا عمل مکمل ہوجائے، لیکن آئندہ مراحل بھی آسان نہیں۔ جسٹس پارٹی ملک میں بنیادی دستوری اصلاحات کرنا چاہتی ہے۔ ان اصلاحات میں ملک کے جمہوری نظام کے بجائے صدارتی نظام لانے کی ترامیم بھی شامل ہیں اور ملک کی سیکولر شناخت کے بارے میں بھی۔ یہ ترامیم کرنے کی دو ہی راستے ہیں، دو تہائی کی اکثریت سے ترمیم یا پھر ۳۳۰ ارکان اسمبلی کی حمایت سے ترمیم اور پھر اس پر عوامی ریفرنڈم۔ دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے لیے اتاترک کی جماعت (CHP) کا ساتھ دینا ضروری ہے۔ اس کے بغیر اگر دیگر دونوں جماعتوں کے تمام ارکان بھی ساتھ ہوں، تب بھی دوتہائی یعنی ۳۷۶ کا ہدف پورا نہیں ہوتا۔ یہ امر بھی طے شدہ ہے کہ CHP کسی صورت ساتھ نہیں دے گی۔ اس نے اپنی انتخابی مہم میں صدارتی نظام کو ڈکٹیٹر شپ قرار دیتے ہوئے خود جسٹس پارٹی ہی کو کالعدم قرار دینے کا اعلان کیا تھا۔ اب ایک ہی راستہ ہے کہ اسمبلی میں ۱۸ ووٹ مزید لیے جائیں اور پھر ریفرنڈم کی طرف بڑھا جائے۔ اس کے لیے باقی دونوں جماعتوں سے بات چیت کا نتیجہ جلد سامنے آجائے گا۔
عین ممکن ہے کہ جسٹس پارٹی کو کسی ترمیم کے بغیر اسی دستور کے تحت رہتے ہوئے تعمیر و ترقی کے خواب کو حقیقت بنانے کی طرف بڑھنا پڑے۔ اس وقت ملک میں ۱۰۰ بڑے منصوبے زیر تکمیل ہیں۔ ان میں ’’فاتح‘‘ کے نام سے ایک تعلیمی انقلاب کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ ترک مصنوعی سیارے کا فضا میں بھیجا جانا بھی اور ’’اٹیک‘‘ نامی جنگی ہیلی کاپٹر بنانے کا ہدف بھی۔ باقی جماعتوں نے تو انتخابی مہم گردی ہی کے لیے کم از کم تنخواہوں میں اضافے میں بات کی ہوگی۔ کسی نے ۱۸۰۰، کسی نے ۱۶۰۰ اور کسی نے ۱۴۰۰ لیرے ماہانہ تنخواہ کی بات کی۔ لیکن جسٹس پارٹی نے کم از کم تنخواہ ۹۰۰ لیرے سے بڑھا کر ۱۵۰۰ لیرے کرنے کا اعلان کیا ہے، اسے اپنا یہ وعدہ بھی پورا کرنا ہوگا۔ جسٹس پارٹی نے اب تک ملکی وسائل اور قومی خزانے میں اتنا اضافہ کرلیا ہے کہ وہ یہ اضافہ اور قومی ترقی کے منصوبے بآسانی مکمل کرسکتی ہے۔
اصل چیلنج سرمائے کی کمی یا حوصلے اور صلاحیت کا فقدان نہیں، اصل خطرہ ان تخریبی قوتوں سے ہے جو جسٹس پارٹی کی دشمنی میں قوم و ملک کا مستقبل ہی خطرے میں ڈالنا چاہتی ہیں۔ صدر اردوان نے اپنے ایک حالیہ خطاب میں کہا ہے کہ ’’ترکی کو کئی اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے خطرات لاحق ہیں۔ جو ترک سا لمیت و یکجہتی کو ختم کرنا چاہتے ہیں‘‘۔ حالیہ انتخابات میں جسٹس پارٹی کو شکست دینے میں ناکام رہنے کے بعد خدشہ ہے کہ یہ سب اندرونی و بیرونی عناصر مزید دہشت گردی پر اتر آئیں۔ انقرہ میں اپوزیشن کی ریلی پر خوفناک حملے کی تحقیقات کرنے پر اس کے پیچھے ’’داعش‘‘ کا انکشاف ہوا تھا۔ دھماکہ کرنے والے ایک نوجوان کی شناخت ہونے اور اس کے کئی ساتھیوں کی گرفتاری اور نشان دہی پر ۲ ٹن امونیم نائٹریٹ اور ۶۰ کلوگرام دھماکہ خیز TNT برآمد ہوچکا ہے۔ ادھر شام پر فوج کشی کرنے والے روس نے بھی متعدد بار ترک سرحدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ شامی مہاجرین کی تعداد میں بھی لاکھوں کا اضافہ ہورہا ہے۔ غزہ کا ساتھ دینے پر صہیونی قابض انتظامیہ مسلسل دھمکیاں دے رہی ہے۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود اب تک تمام آزمائشوں میں سرخرو رہنے والی ترک قیادت پرعزم اور پریقین ہے کہ اللہ کی توفیق سے وہ ان خطرات کا مقابلہ بھی کرلیں گے۔ دوسروں کی مدد اور اپنے حصے کا کام بطریق احسن کرنے والوں کو اللہ کی مدد و نصرت بھی حاصل ہوتی ہے۔ ترک قیادت اپنے عوام ہی کی نہیں، دنیا کے ہر مظلوم کی مدد کے لیے برسرپیکار ہے، اور اسے اپنے خالق کی مکمل نصرت پر ہی اصل بھروسا ہے۔ انتخابی نتائج آئے، بھرپور کامیابی ملی تو وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے اس پر یک لفظی تبصرہ کیا: ’’الحمد للہ‘‘ یہی تبصرہ ترک قیادت کا تعارف اور قوت کا اصل راز ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں