1

“پیدائشی کارکن کی ڈائری”

تحریر: اسریٰ غوری
NA 246 کا الیکشن جو نائن زیرو لیاقت آباد اوراسکے ارد گرد کے علاقے میں ہی ہورہا تھا..
جس کے لیے ہم پہلے ہی یہ کہہ چکے تھے کہ سب سے مشکل جگہ جہاں کوئی پولنگ ایجنٹ نہ ملے وہاں ہمارا نام لکھ لیاجائے
سو ہمیں پہلے پتا چلا کہ لیاقت آباد میں پولنگ ایجنٹ بننا ہے کہ وہ گڑھ ہے ایم کیو ایم کا… مگر آخر وقت,میں پتا چلا کہ میڈیا سیل بھی اہم محاذ ہے تو میڈیا سیل کے لیے نام لکھ لیا گیا۔
صو بائی دفتر قبا میں میڈیا سیل بنایا گیا اور ہمیں ذمہ داری دے دی گئی ۔ خیر ہم اپنی ٹیم کی ساتھی بہنوں کے ہمراہ آدھا دن وہ سنبھالے بیٹھے تھے کہ فون آیا کہ فوری کسی پولنگ ایجنٹ کو “کمپری ہینسیو اسکول ” (جو نائن زیرو کے ساتھ ہی ہے ) بھیجیے .
سو وہ قرعہ بھی ہمارے نام نکلا… جب وہاں پہنچے تو اپنے آس پاس والیوں سے سلام دعا ہوئی جہاں ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کی ایجنٹ تھیں اور آزاد امیدواروں کے نام پر بھی سب ایم کیو ایم کی ہی ایجنٹس تھیں…
کچھ ہی دیر میں گپ شپ کے دوران اندازہ ہوگیا کہ یہ سب پہلی بار ایجنٹ بنیں سیدھے ہاتھ پر پی ٹی آئی اور الٹے پر ایم کیو ایم والی بار بار مدد لیتیں یہ بتادیں کیسے کرنا ہے اسکو کیسے فل کریں…
پی ٹی آئی والی نے تو اپنا فارم تک ہی ہمیں دے دیا کہ آپ ہی فل کردیں بہت دیر تک جب ہمیں ایک تربیت یافتہ ایجنٹ کی طرح کام کرتے دیکھتی رہیں تو رہ نہ سکیں اور کہنے لگیں… آپ کب سے پولنگ ایجنٹ بن رہی ہیں…؟؟
ہم نے بمشکل ہنسی دبائی اور کہا: پیدائشی ہیں.. (ہم نے کچھ غلط بھی نہیں کہا تھا کہ پیدائشی جماعتی بچے جو اماں انگلی پکڑ کر اعانتیں جمع کرتے اور پروگرامات، تربیت گاہوں میں دریاں بچھاتے اور دوڑ دوڑ کر پانی پلاتے الیکشن کی پرچیاں تقسیم کرتے ، جلسوں میں ترانے پڑھتے کی بڑوں کے ساتھ چاکنگ کرتے، بینر لگاتے بڑا ہوتا ہے وہ پیدائشی سب کچھ ہوتے ہیں )
وہ حیران پریشان سی ہمیں دیکھنے لگیں اور ہم دو عشروں پیچھے جاپہنچے تھے….
نومبر ہی کا مہینہ صبح سات بجے ہم جو رات گئے تک بھائیوں کے ہمراہ الیکشن کیمپین میں لگے رہے تھے اور اب لحاف میں گھسے اسکول کی چھٹی منارہے تھے کہ اچانک تایا ابو کی آوازیں…
ہم حیران کہ اس وقت تایا ابو کہاں سے آگئے…
پتا چلا وہ بڑی باجی کو پولنگ ایجنٹ کے لیے لینے آئے اور وہ بیچاری سہمی ہوئی کھڑی منمنارہی تھی ( کہ اس نے تو کبھی کسی مہمان کو سلام بھی نہیں کیا تھا).. کہ میں کیا کرونگی اور مجھے نہیں پتا کیا کرنا ہوتا ہے…
اور۔۔۔۔( ہمارے اس وقت کے صاحب ) اور تب کے تایازاداسے سمجھانے اور تیار کی ناکام کوشش میں لگے ہوئے تھے کہ کیسے پولنگ ایجنٹ بنتے ہیں۔ کافی دیراسی سچویشن کو دیکھ کر ہم سے چپ رہا نا گیا..
اور لحاف سے منہ نکال کر بولے چلی جائیں ۔۔۔ بندہ نہیں مارنا ہوتا بس ووٹ دینے کے لیے آنے والوں کے ناموں پر ٹک لگانا ہوتا اور تھوڑا بہت پھڈا شڈا کرنا ہوتا ہے ..
ہماری آواز پر تایاابو اور تایازاد دونوں پلٹے اور بولے تم یہاں کیا کررہی ہو، اٹھو اور تیار ہو تم نے بننا ہے پولنگ ایجنٹ …
امی سن کر پریشان سی کہنے لگیں: یہ کیسے بن سکتی ہے! بہت چھوٹی ہے بس!! زبان چلتی ہے اسکی اتنی دیر میں ہم لحاف سے باہر چھلانگ لگا چکے تھے۔ تایا بولے: یہ اس سے بھی بڑی ہے… بس تیار کرو دونوں جائیں گی.. یہ اس کو بھی سنبھال لے گی…
سو ہم صرف گیارہ سال اور چند ماہ کی عمر میں پولنگ ایجنٹ میں باقاعدہ انٹری مار چکنے پر ایک فاتح کی مانند تیار ہوئے اور اپنے ساتھ کی ہم عمر کزنز کو گھر چھوڑ کے بڑے اعزاز سے پولنگ بوتھ لے جائے جا رہے تھے ۔۔
اب جب پولنگ ایجنٹ بنے تو ایسے کہ کچھ ہی دیر میں پریزایڈنگ آفیسر تک سے دوستی کرلی اور کہیں بھی کسی بوتھ پر شام تک سب (حسب توقع ) بھوکے تھے جبکہ ہمیں ہماری مخالف سہیلیاں اپنے لیے آئی ہوئی بریانی اور لوازمات کھلا چکی تھیں کہ ہماری دوستی جو اتنی پکی ہوچکی تھی کہ وہ ہمارے بغیر کھانے پر کسی طرح راضی نہیں تھیں
مگر جہاں کہیں کچھ گڑ بڑ ہونے لگتی تو ہم اپنی ہی کلاس ٹیچرز (جو پیپلز پارٹی کی تھیں ) انکو بھی نہیں بخشتے.. جس کا خمیازہ پھر ہمیں پورا,سال ہاتھ پر ڈنڈوں کی صورت میں بھگتنا پڑا…
بس اس کے بعد کوئی الیکشن ہوتا تو پولنگ ایجنٹ بننے کے علاوہ ایجنٹوں کو کیسے کام کرنا یہ سکھانا ہماری ڈیوٹی میں شامل ہوتااورآج تک ہے ۔ الحمدللہ ہم اسی سوچ میں مزید غرق رہتے اگر وہ ہم سے پی ٹی آئی والی ساتھی یہ نا پوچھتی کہ آپ یہ لائنیں کیوں ڈرا کررہی ہیں… ہم مسکرادیے اور کہا ووٹوں کی گنتی جو ہونی ہے تو ہر پارٹی کے الگ الگ لکھنے ہیں اس لیے..۔۔
اتنے برسوں کی ریاضت کا نچوڑ ان کے لیے جو ایک دن بعد پولنگ ایجنٹ بننے جارہیں ہیں ۔۔۔
پریذائڈنگ آفیسر سے تو بہت اچھی طرح عزت کیساتھ پیش آئیں
کسی بھی مخالف پارٹی کی ایجنٹ سے بلاوجہ پنگا نا لیں ۔۔
بہت محبت کیساتھ وقت گزاریں مدد بھی کریں مگر نگاہ بھی رکھیں ۔۔
اور جہاں کوئی گڑ بڑ کرنے کی کوشش کرے وہاں کسی کو نہ بخشیں ۔۔
کس ووٹ کو چیلنج کرنا ہے کس کو کینسل کروانا یہ سب آپکو معلوم ہونا چاہیے ۔
ووٹ کے لیے آنے والوں کی تصاویر اور عمریں ان کے شاختی کارڈ سے میچ کرتی ہے یا نہیں ۔
ان کے انگوٹھے پر سیاہی لگائی جارہی ہے یا نہیں ۔۔
ان سب باتوں پر کڑی نگاہ رکھنے کی ضرور ت ہوتی ہے ۔
اللہ پر بھروسہ کریں اور دعا مستقل زبان پر رکھیں ۔۔۔
اللہ آپ سب کا حامی و ناصرہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے ““پیدائشی کارکن کی ڈائری”

  1. اس سے ملتا جلتا مضمون بھیج رہا ہوں۔آپ اور ہم سب پر اللہ کا کرم ہو۔اللہ آپ لی حفاظت کرے۔اللہ آپ کو ہر میدان میں کامیاب کرے۔آہن ثم آمین

    1. السلام علیکم ، محترم برادر جزاک اللہ خیرا ، آپکی دعائیں رب قبول فرمائیں آمین، آپکے بلاگ کا انتظار رہے گا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں