1

باچاخانی بیانیے کی ایک بھیانک جھلک

تحریر : شمس الدین امجد

جمعہ خان صوفی کی کتاب ” فریب ناتمام ” رات ایک ہی نشست میں پڑھ ڈالی۔ صوفی صاحب وہ شخصیت ہیں جنھوں نے اجمل خٹک کے ساتھ کابل میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کی، سردار دائود سے نجیب تک تمام افغان صدور کے قریب رہے، اے این پی قیادت اور افغان، بھارت اور سوویت حکومت کے درمیان رابطہ کار اور پیغام رسانی انھی کے ذمہ تھی۔ اس عرصے میں اے این پی نے تینوں ممالک کے ساتھ مل پاکستان میں تباہی و بربادی کا جو کھیل کھیلا یہ اس کے عینی شاہد بلکہ کابل میں بیٹھ کر اس کو منظم کرنے والے تھے۔ افغان حکومتوں نے بھی ان کی خدمات سے استفادہ کیا اور سوویت یونین کی نظروں میں بھی وہ خاص آدمی اور کمیونسٹ پارٹی کی طرف سے باقاعدہ تربیت یافتہ تھے۔ اس پس منظر میں اس کتاب کی اہمیت کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔
” فریب نا تمام ” ایک عینی شاہد اور بذات خود ایک اہم کردار کی گواہی ہے۔ واقعی اتنی دلچسپ ہے اور تاریخ کے غلاف میں لپٹے بھیانک کرداروں سے پردے ایسے ہٹاتی ہے کہ آدمی حیران ہوتا اور پڑھتا چلا جاتا ہے۔ افغانستان اور پاکستان کی موجودہ صورتحال میں کتنی ڈھٹائی سے پاکستان اور اس کے عسکری اداروں کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے اور سیکولر بیانیے کے حاملین کی پوٹلی میں وہ کون سی گالی ہے جو جنرل ضیاء الحق کے نام نہ کی گئی ہو مگر آپ اس کتاب کو پڑھیں گے تو اس باب میں پاکستان بالکل معصوم نظر آئے گا۔ ان معنوں میں کہ اس کھیل اور تباہی کا آغاز ولی خان نے سردار دائود خان (افغان صدر) کے ساتھ مل کر اس وقت کیا جب باچاخان جلال آباد اور کابل میں مقیم تھے اور افغان حکومت انھیں پیر و مرشد کا درجہ دیتی تھی۔ آزاد پختونستان کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کےلیے خیبرپختونخوا، فاٹا اور بلوچستان میں بیک وقت تخریب کاری اور دہشت گردی کا بازار گرم کیا گیا، شہر شہر بم دھماکے، سیاسی رہنمائوں کا قتل اور سرکاری املاک پر حملے کیے گئے۔ پختون زلمی (اے این پی کا دہشت گرد ونگ) کے لیے افغانستان میں ٹریننگ کیمپس قائم ہوئے، پختون و بلوچ سرداروں اور قوم پرستوں کو وہاں بلایا گیا، نتیجتا بعض پورے کے پورے قبیلے افغانستان چلے گئے۔ افغانستان کے ساتھ بھارت اور سوویت یونین کی مالی و عملی مدد حاصل کی گئی۔ بھارت کا خواب یہ تھا درہ خیبر اور گوادر و مکران تک اس کی سرحدیں پھیل جائیں اور اکھنڈ بھارت کا خواب پورا ہو اور باچا خانی پیروکار بھی افغانستان اور پاکستان کے پختون علاقوں پر مشتمل آزاد پختونستان کی سرحدیں بھارت سے ملی ہوئی دیکھ رہے تھے۔ یہ وہ پس منظر تھا جس کے جواب میں ذوالفقار علی بھٹو جیسا آدمی افغانستان میں اسلامزم کو ابھارنے اور افغانستان اور اے این پی کی دہشت گردی کے جواب میں اقدامات پر مجبور ہوا۔
یاد رہے کہ اس وقت سوویت یونین کے افغانستان میں داخلے کا دور دور تک کوئی نشان تھا اور نہ پاکستان میں ضیاء الحق کی فوج میں کوئی خاص حیثیت تھی۔ بھٹو نے نہ صرف بلوچستان حکومت ختم کرکے وہاں فوجی آپریشن کیا ( خیبرپختونخوا میں بھی مولانا مفتی محمود اور اے این پی کی اتحادی حکومت نے استعفی دے دیا ) بلکہ افغانستان سے بھی افغان مجاہدین (گلبدین حکمتیار، احمد شاہ مسعود، برہان الدین ربانی وغیرہ ) کو بلایا، مہمان نوازی کی، نصیراللہ بابر کی سرکردگی میں ٹریننگ کیمپس قائم ہوئے اور افغانستان میں دائود حکومت کو اس کی زبان میں جواب ملنے لگا۔ اس دوران افغانستان میں دائود سے نجیب تک کئی حکومتیں تبدیل ہوئیں مگر پاکستان کے حوالے سے سب کی پالیسی یکساں رہی۔ اسی تناظر میں جمعہ خان صوفی لکھتے ہیں کہ خطے کی تباہی کا اصل ذمہ دار باچا خان کا گھرانہ ہے جو پورے پختون خطے پر حکمرانی کا خواب دیکھ رہا تھا اور باچا خان نے ایک سوال کے جواب میں جس کا اظہار کیا تھا کہ حکمرانی کےلیے ولی خان ہے نا۔
اس دوران سوویت یونین نے افغانستان پر قبضہ کیا اور سرخ افواج کابل میں داخل ہوئیں، اس کے دیگر عوامل بھی رہے ہوں گے مگر جمعہ خان صوفی کہتے ہیں کہ افغانستان میں حکومتوں کی مسلسل ناکامیوں کے بعد اپنے خواب کو چکنا چور ہوتے دیکھا گیا تو افغانستان میں اے این پی کی جلاوطن قیادت نے بھی سوویت یونین کو گرم پانیوں تک پہنچنے کا خواب اور راستہ دکھایا۔ اس کے جواب میں ضیاء الحق نے پاکستان کی بقا کی جنگ لڑی اور پوری دنیا نے اس جنگ میں ساتھ دیا مگر اے این پی اور اس کی قیادت اس سارے عرصے میں افغانستان اور سوویت فوجوں کے ساتھ کھڑی رہی اور پاکستان میں تخریب و دہشت گردی کا بازار گرم کیے رکھا، بدلے میں سوویت یونین، بھارت اور افغانستان سے خوب رقم وصول کی۔ اس کے بعد جو ہوا وہ تاریخ ہے اور سب کو معلوم ہے۔
ایک دلچسپ نکتہ یہاں بیان کرنا مفید رہے گا کہ تاریخ کے اس دور میں دونوں طرف سوشلسٹ بیانیہ کھڑا تھا مگر نیشنلزم دونوں طرف اس پر حاوی تھا۔ پاکستان میں بھٹو سوشلزم کا نعرہ لگا رہے تھے اور دوسری طرف اے این پی بھی انھی نظریات کی حامل بلکہ براستہ کابل سوویت یونین سے براہ راست رابطے میں تھی مگر ایک طرف پختون نیشنلزم حاوی ہو گیا اور دوسری طرف پاکستانی نیشنلزم تھا۔ دونوں طرف اسلامزم کا کوئی وجود نہیں تھا اگرچہ بھٹو نے پختون نیشنلزم کے جواب میں افغانستان میں اسلامزم کو ایک حکمت عملی کے طور پر اپنایا۔ مگر جھوٹ کو اتنی دفعہ دہرایا گیا ہے کہ اس میں اے این پی قیادت کی جلاوطنی، افغانستان کے ساتھ مل کر پاکستان توڑنے کا منصوبہ اور یہاں دہشت گردی، بھٹو کا جوابی وار اور حکمت عملی غائب ہو گئی ہے بلکہ اے این کے لیڈر تو پوری ڈھٹائی اور دیدہ دلیری سے ٹی وی چینلز پر کہتے سنے جاتے ہیں کہ ہم نہ کہتے تھے ایسا نہ کرو۔ اور سیکولر بیانیے کے حاملین اور خود بھٹو کی پارٹی ضیاء دشمنی میں بیانیے اور تاریخ کا آغاز ہی سوویت یونین کے افغانستان پر قبضے اور بعد کی صورتحال سے کرتے ہیں اور اسے اسلامزم سے جوڑ دیتے ہیں۔ جمعہ خان صوفی نے تاریخ کو سامنے لا کر اس جھوٹ کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ افسوس کہ ہمارے سیکولر دوست اس بیانیے کو پاکستان میں رائج کرنے کے لیے دلائل فراہم کر رہے ہیں۔ گویا پاکستانی ریاست اپنے وجود سے دستبردار ہو جائے اور پاکستان و افغانستان کے پختون علاقوں پر آزاد پختونستان بنا کر ولی باغ کے حوالے کر دے یا پھر اس بیانیے کے حاملین افغانستان ، روس اور بھارت کی مدد سے اس جدوجہد کو جاری رکھیں۔ کیا باچا خانی بیانیہ اور جدوجہد اس کے سوا بھی کچھ ہے؟؟
جو لوگ بیانیے سے دلچسپی رکھتے ہیں ، انھیں اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

3 تبصرے “باچاخانی بیانیے کی ایک بھیانک جھلک

  1. السلام و علیکم

    ازراہ نوازش کتاب کے پبلشر کے نام سے مطلع فرمائیں ۔

    خیرخواہ

  2. زبردست . پراپیگنڈا وار کس طرح ازھوں کو معصوم بنا کر الزام کسی کے بھی سر دے دیتی ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں