پاکستانی ریاست کا بیانیہ، سید مودودی اور باچاخان

عقل پرستی کا لبادہ اوڑھے متجددین اور ساتھ میں پرانے سرخ پوشوں اور ان کے ساتھ میں پرانے اور تازہ تازہ جہاد و مذہب پلٹ سیکولرسٹوں کا بیانیہ یہ ہے کہ جنرل ضیاء الحق کے دور سے ریاست پاکستان نے سید مودودی کا تشدد پر مبنی بیانیہ اوڑھ رکھا ہے، افغان جہاد ، جہاد نہیں فساد تھا جس نے اب دہشت گردی کی شکل اختیار کر لی ہے اور تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔ افغانستان اور فاٹا کے مخصوص حالات اور اس کے پاکستان پر پڑنے والے اثرات کو سامنے رکھتے ہوئے جب عام قاری جسے بیانیے کے بارے میں کچھ معلوم ہے اور نہ وہ سید مودودی کی شخصیت و فکر کے بارے میں کچھ جانتا ہے، اپنے ذہن میں تصویر یہ بناتا ہے کہ شاید سید مودودی بھی پہاڑوں اور غاروں میں رہنے والے کوئی صاحب تھے جو کلاشنکوف ہاتھ میں پکڑے زبردستی لوگوں کو ڈراتے دھمکاتے رہتے تھے اور ان کے حواری ہاتھ میں خنجر پکڑے گردنیں مارتے تھے۔ اور یہ دہشت گردی تب سے ایک تسلسل ہے جو اب تک چلا آتا ہے۔

کیا یہ بیانیہ حقائق پر مبنی ہے یا اس میں عمدا بد دیانتی سے کام لیا جا رہا ہے؟ فکر مودودی پر یہ تہمت انجانے میں لگائی جا رہی ہے یا باقاعدہ کسی منصوبے کا حصہ ہے؟ مقصد صرف فکری مباحثہ اور غلبہ ہے یا بین الاقومی بیانیے کے تناظر میں خود اسلام ہی ہدف ہے اور اسے دیس نکالا دینا ہے؟ اس سے جنم لیتا ایک اہم سوال یہ ہے کیا دلائل کے میدان جس فکر کا مقابلہ سرخ پوش کر سکے ہیں نہ سیکولر ، بیانیہ بدلنے کے خواہش مند متجددین اس کے سامنے ٹھہر سکتے ہیں یا اس کا رخ موڑ سکتے ہیں؟ اس کا تفصیلی جائزہ آگے چل کر لیتے ہیں مگر آگے بڑھنے سے پہلے ایک بات کہ جس دلیل کی بنیاد پر سب دانشوری اور لفاظی ہے، سید مودودی کے فکری غلبے اور مخالفین کی ناکامی کی وہی اصل وجہ ہے کہ سید مودودی فکرا اور عملا عدم تشدد اور برسرزمین سرگرمی کے راستے پر چلے جبکہ مخالفین نے الٹ راستہ اختیار کیا اور فکری و عملی میدان میں شکست فاش سے دوچار ہوئے۔ وہ درد ہے کہ جاتا نہیں ہے اور رونا دھونا اور ماتم ہے کہ ختم نہیں ہوتا۔

سید مودودی نے خود 100 کے قریب چھوٹی بڑی کتابیں لکھی ہیں، ان کتابوں کے کئی درجن زبانوں میں ترجمے ہوئے ہیں، خود ان پر اور ان کی فکر پر کئی کتابیں لکھی گئی ہیں، پی ایچ ڈی کے مقالے ضبط تحریر میں آئے ہیں۔ سید مودودی کی تحریروں میں تشدد کے راستے پر جانے کا کوئی اشارہ ملتا ہے اور نہ ان پر کسی تحقیق کرنے والے نے یہ بات ان کے فکر و عمل سے اخذ کی ہے۔ خود جہاد پر سید مودودی کی شاہکار کتاب الجہاد فی الاسلام کی نظیر گزشتہ صدی میں نہیں ملتی، یہ وہ کتاب ہے جس کی علامہ اقبال اور مولانا محمد علی جوہر جیسے اکابرین نے تعریف کی اور اس موضوع پر سید مودودی کی فکر بھی کھل کر سامنے آئی۔ اپنے فکر و فلسفے کی بنیاد پر سید مودودیؒ نے ایک جماعت کھڑی کی جو لکھے دستور اور ضابطے پر چلتی ہے اور اس کے دستور اور لٹریچر میں یہ بات بصراحت موجود ہے کہ وہ نہ کسی زیر زمین سرگرمی پر یقین رکھتی ہے اور نہ اس کے ذریعے آنے والے کسی انقلاب پر، سید مودودی کا ایک شاہکار جملہ اسی تناظر میں ہے کہ رات کی تاریکی میں آنے والا انقلاب رات کی تاریکی میں ہی واپس ہو جاتا ہے۔ پائیدار اور مستقل انقلاب عوام الناس کے ذہنوں کی تبدیلی اور ان کی حمایت سے آتا ہے اور تطہیر و تعمیر افکار وہ بنیادی نکتہ ہے جس پر چلتے ہوئے انقلاب اور تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جسے سید مودودی نے اختیار کیا اور جس پر گزشتہ پون صدی سے جماعت اسلامی چل رہی ہے۔

اس کے مقابل سید مودودی کے کمیونسٹ اور سیکولر حریفوں نے زیرزمین سرگرمیوں کا راستہ اختیار کیا، ریاستی پابندیوں کا شکار ہوئے اور بدلے میں تخریب کے راستے پر چلے، اور اس کے لیے بیرونی قوتوں کا ایجنٹ ہونا بھی قبول کیا۔ پچاس کی دہائی میں کیمونسٹوں پر پابندی، ساٹھ کی دہائی میں اگرتلہ سازش کیس اور گرفتاریاں، بلوچستان میں زیرزمین کارروائیاں اور آپریشنز، الذولفقار کی ریاست مخالف تخریبی سرگرمیاں اور باچا خان کے فکری وارثوں کے کابل میں بیٹھ کر پاکستان میں حملے اور دہشت گردی کی کارروائیاں سامنے کی مثالیں ہیں۔ جماعت اسلامی اور سید مودودی بھی ایوب خان کے دور میں ریاستی پابندی کا شکار ہوئے، جماعت اسلامی پر نہ صرف پابندی لگائی گئی بلکہ سید مودودی سمیت تمام مرکزی ، صوبائی اور ضلعی قیادت کو ان کی شورائوں سمیت گرفتار کر لیا گیا، اثاثہ جات ضبط کر لیے گئے اور دفاتر پر تالہ بندی کر دی گئی مگر سید مودودی نے اپنے فکری مخالفین کے برعکس اور اپنی فکر کے عین مطابق طرز عمل اختیار کیا اور تشدد کے راستے پر جانے کے بجائے پورے مشرقی و مغربی پاکستان میں اس کی مزاحمت میں ایک گملا تک نہیں ٹوٹا، ایجنٹی کیا انھوں نے کسی بیرونی عنصر کو مدد کےلیے پکارا نہ عالمی قوتوں یا اداروں کو اس کی دہائی دی بلکہ پرامن طریقے سے عدالت میں جنگ لڑی اور سپریم کورٹ کے ذریعے جماعت بحال ہوئی۔ یہ مثال سیکولر عناصر کیا خود معاصر اسلامی تحریکیں بھی پیش نہیں کر سکتیں۔

جہاد ، پھر اس کے نام پر پراکسی جنگوں اور اس سے جنم لینے والی دہشت گردی کی گرد میں جس خود ساختہ بیانیے کو لپیٹنے کی بات کی جا رہی ہے اور اسے جس شخصیت کی فکر کا شاخاسانہ قرار دیا جا رہا ہے، کیا واقعتا وہ اس کے حق میں تھی یا اس کی تحریروں سے کوئی ایک ایسا جملہ دکھایا جا سکتا ہے جس سے اس کا شائبہ بھی ملتا ہو۔ پورا لٹریچر کھنگال ڈالیں، ایسا ایک جملہ بھی پیش نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے الٹ دلیل اور عمل سامنے آئے گا۔ آج جس پس منظر میں گرد اڑائی جا رہی ہے، اس شخصیت نے نصف صدی قبل اس کے مضمرات کو محسوس کرتے ہوئے اس طرز عمل کی مخالفت کی تھی اور قیام پاکستان کے فوری بعد کشمیر جیسے حساس معاملے میں پرائیویٹ جہاد کے بجائے سرکاری جہاد کا راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ آج ارد گرد کی صورتحال پر نظر دوڑائی جائے تو اس بصیرت و بصارت کو سلام پیش کرنے کو دل کرتا ہے۔ مگر ہوا کیا؟ جب یہ بات کی گئی تو ریاست اور آج جیسے اس وقت کے جملہ حواری پل پڑے اور سید مودودی کو جہاد مخالف ثابت کرنے پر پورا زور لگا دیا حالانکہ ان کے نامہ اعمال میں الجہاد فی الاسلام ایک سنہری کارنامے کے طور پر جگمگا رہی تھی۔

بیانیے کی تبدیلی کے خواہشمندوں کا ایک المیہ یہ ہے کہ ان کی تاریخ ضیاء الحق سے شروع ہو کر انھی پر ختم ہو جاتی ہے اور اس میں بھی وہ عمدا بددیانتی سے کام لیتے ہیں ورنہ ان کا بیانیہ اور اس کے دلائل خود بخود ہوائوں میں تحلیل ہو جائیں۔ ان کے خیال میں افغان جہاد اصلا فساد کی جڑ ہے اور اس زمانے میں ریاست نے فکرمودودی کو اوڑھ لیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ بات تاریخی طور پر درست ہے؟ اور کیا اس کشمکش کا آغاز ضیا دور میں ہوا تھا؟ اب تو یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ باچاخان (جن کے بیانیے کو اپنانے کی بات کی جا رہی ہے) کے افکار پر مبنی پختون نیشنلزم اور خاد اور کے جے بی کے گٹھ جوڑ کے جواب میں افغان مجاہدین کی سرپرستی ، ان کی تیاری اور اپنے ہاں بلانے، مہمان بنانے اور ٹریننگ دینے کا آغاز سوویت یونین کے افغانستان میں آنے سے کم و بیش 5 سال پہلے 1974 میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ہوا تھا۔ مگر اس دور کو درمیان سے گول کر دیا جاتا ہے۔ اگر یہ افغان جہاد غلط یا فساد تھا تو اس کا الزام بھٹو اور ان کے نیشنلزم کے سر ہے، مگر اس صورت میں بیانیے کا کیا ہوگا؟ وہ دھڑام سے خود زمین پر نہیں آ گرے گا؟

چلیے آپ کہتے ہیں تو تاریخ ضیا دور سے ہی شروع کر لیتے ہیں مگر کیا اس کے لیے کوئی دلیل موجود ہے کہ ضیا دور میں ریاست نے فکر مودودی کو اوڑھ لیا جبکہ وہ اس وقت دنیا سے رحلت فرما چکے تھے۔ کیا ان کی تحریروں سے دلیل کیا کوئی شائبہ بھی فراہم کیا جا سکتا ہے؟ کیا ان کے عمل سے کوئی اس طرح کی بات دکھائی جا سکتی ہے کہ انھوں نے بھٹو سے افغانوں کی سرپرستی کا کہا یا پختون نیشنلزم کے جواب میں افغانستان کے اسلامزم کو ابھارنے کا مطالبہ کیا۔ مجاہدین کی سرپرستی 1974 میں شروع ہوئی، اس کے بعد 5 سال تک سید مودودی حیات رہے، افغان جہاد سے پہلے بھٹو دور میں ہی کیمپس تک قائم ہوئے مگر کیا سید مودودی نے اس عمل کی حوصلہ افزائی کی یا کسی افغان رہنما سے ملاقات کی؟ ان تمام سوالات کا جواب نفی میں ہے۔ تو پھر ذوالفقار علی بھٹو کا بیانیہ کیا تھا اور انھوں نے ایسا کیوں کیا اور وہ اس کے اصل ذمہ دار کیوں نہیں ہیں؟ بیانیے والے مفکرین کی تاریخ اس پر خاموش ہے۔ پھر اگر ضیاء الحق نے بھی بھٹو پالیسی کو آگے بڑھایا تو اس میں فکر مودودی کہاں سے آ گئی اور ریاست نے اسے کہاں سے اوڑھ لیا؟

طرفہ تماشا یہ ہے کہ فکر مودودی کے مقابل جس بیانیے کو اختیار کرنے کی بات کی جا رہی ہے، اس سے صرف نظر کر لیا جاتا ہے کہ اسی ضیاء الحق کے دور میں اس بیانیے کے پیروکاروں کا کیا حال تھا؟ اور اس وقت ان کا بیانیہ اصل میں تھا کیا؟ اگر کسی کو نہیں معلوم تو اسے چاہیے کہ اجمل خٹک اور دیگر باچا خانی پیروکاروں کے ساتھ کابل میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنے والے جمعہ خان صوفی کی کتاب ” فریب ناتمام ” کا مطالعہ کرلے، ان شاء اللہ چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔ جمعہ خان صوفی جو عینی شاہد تھے، لکھتے ہیں کہ باچاخانی پیروکار پختونستان کے باچاخانی خواب کو عملی جامہ پہنانے کےلیے بھارت، روس اور افغانستان سے نہ صرف پیسہ وصول کر رہے تھے بلکہ پاکستان میں حیات شیرپائو کے قتل سمیت دوسری بڑی تخریب کاریوں اور دہشت گردی کے پیچھے انھی کا ہاتھ تھا اور کابل میں موجود تمام سرخ پوش لیڈر حضرات روسی ٹینکوں پر بیٹھ کر پشاور اور اسلام آباد فتح کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ اس سے بھی ایک ہاتھ آگے تماشا یہ ہے کہ اس فرد کا بیانیہ اختیار کرنے کی دیدہ دلیری سے بات کی جا رہی ہے جس نے پاکستان میں دفن ہونا ہی پسند نہ کیا، اور پسند کیسے کرتے کہ قیام پاکستان کے دل و جان اور عمل سے مخالف تھے، پاکستان کے ساتھ الحاق کی صوبائی اسمبلی سے ریفرنڈم تک مخالفت کی، گاندھی و نہرو کے ساتھ مل کر مہم چلائی اور پاکستان بنا تو پختونستان کا جھنڈا لے کر کھڑے ہو گئے اور اٹک سے دریائے آمو تک پختونستان کا خواب دیکھنے لگے، اور پھر مرے تو جلال آباد جا دفن ہوئے حالانکہ آبائی وطن پاکستان تھا اور لوگ بیرون ملک ہوں تو اپنے ملک میں دفن ہونے کی خواہش کرتے ہیں۔ یہ شاید واحد مثال رہی ہوگی۔ تو کیا پاکستان کے وجود کی مخالفت، پختونستان کی حمایت اور روس بھارت اور افغانستان کے پیسوں سے اپنے ملک میں تخریب کاری کے بیانیے کو قبول کیا جائے؟ اور اسے ریاست اوڑھ بھی لے۔ سبحان اللہ کیا کہنے کیا کہنے

اس کے مقابل سید مودودی کا بیانیہ کیا ہے؟ اگرچہ ریاست نے اسے بھی نہیں اوڑھا مگر جائزہ لینے میں کیا حرج ہے؟ سید مودودی نے دو قومی نظریے کے حق میں لٹریچر فراہم کیا، مسلم لیگی ان کے پمفلٹ تقسیم کرتے تھے۔ یوپی مسلم لیگ کی دستورساز کمیٹی میں وہ شامل رہے، سرحدی گاندھی یعنی کہ باچا خان جب ریفرنڈم میں الحاق پاکستان کی مخالفت میں مہم چلا رہے تھے تو سید مودودی نے کہا کہ میرا ووٹ سرحد میں ہوتا تو پاکستان کی حمایت میں ڈالتا اور اپنے پیروکاروں سے پاکستان کی حمایت کا کہا، لاہور منتقل ہوئے تو ان کی جماعت کے کارکنان مہاجرین کی دیکھ بھال اور خدمت میں سب سے آگے تھے، خدمت کا وہ تسلسل آج تک قائم ہے۔ سید مودودی نے پاکستان کو دل و جان سے قبول کیا اور قیام کے فوری بعد ان وعدوں کو پورا کرنے کے لیے مہم چلائی جن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ سید مودودی جنھیں تحریک پاکستان کا بیانیہ بیان کرنے کے لیے ریڈیو پاکستان پر دعوت دی گئی اور اسلامی نظام پر انھوں نے پانچ تقریریں کیں، سید مودودی جنھوں نے نصف صدی قبل پرائیویٹ جہاد کے بجائے سرکاری جہاد کی بات کی، سید مودودی جنھوں نے اپنی سزائے موت اور 1964 میں اپنی جماعت پر پابندی کے باوجود ریاست کے خلاف کوئی بات، کوئی زیرزمین سرگرمی نہیں کی۔ بلکہ اس کے ایک سال بعد ہی 65 کی جنگ میں ایوب خان جیسے اپنے بدترین مخالف اور اپنی جان کے درپے آمر کا ریاست کی خاطر ساتھ دیا۔ سید مودودی جس کے پیروکاروں نے ریاست کے ظلم اور عتاب کا شکار ہونے کے باوجود 1971 میں اس کے بقا کی جنگ لڑی، اپنے جوانوں کا لہو پیش کیا اور اس کے بزرگ اسی جرم کی پاداش میں اب تک پھانسیوں پر لٹکائے جا رہے ہیں۔ کیا کوئی عقل و خرد رکھنے والا ان دو بیانیوں کے ادلے بدلے کیا، ان کے تقابل کی ہمت بھی کر سکتا ہے؟

پھر ریاست کے کسی بیانیہ کو اوڑھنے کی بات بھی گمراہ کن اور حقیقت کے بالکل برخلاف ہے۔ جیسا کہ عرض کیا کہ افغان پالیسی کے اصل معمار ذوالفقار علی بھٹو تھے جو سید مودودی اور ان کے بیانیے کے سخت مخالف تھے اور جن کے دور میں اس وقت کے امیر میاں طفیل محمد علیہ الرحمہ سخت ریاستی تشدد کا شکار ہوئے، یہاں تک ان کی شلوار بند کرکے اس میں چوہے چھوڑ دیے جاتے تھے، ایسا بدترین مخالف کیا سید مودودی کا بیانیہ اپنائے گا؟ تو پھر کیا ضیا دور میں ریاست نے فکرمودودی کو اوڑھا؟ جائزہ لیا جائے تو حقائق یہاں بھی ساتھ نہیں دیتے؟ ضیا دور میں سوات ملاکنڈ اور دیر سے کراچی تک اور طلبہ یونین سے مزدور یونین تک فکر مودودی کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی گئی اور ریاستی سرپرستی میں اس کے مخالف گروہ کھڑے کیے گئے جس کے ثمرات آج ریاست اور عوام بھگت رہے ہیں اور ہر دو جگہوں پر جن کے خلاف آپریشن کا چرچا ہے۔ یہ صورتحال تو عملا فکر مودودی سے انحراف اور اسے دبانے کا نتیجہ ہے جسے بددیانتی سے کام لیتے ہوئے ان کی فکر کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ضیاء الحق کے دور میں ریاست نے بیانیہ کے بجائے اپنے بچائو کی ایک پالیسی اختیار کی، بین الاقوامی طور پر اسے مددگار ملے، پاکستانی قوم، حکومت اور اس کے اداروں نے اس میں شرکت کی سوائے سیکولر اور سرخ پوش عناصر کے۔ وہ بیانیہ اور وہ پالیسی اب تک جاری ہے۔ ایک اور باریک نکتہ یہاں بیان کرنا ضروری ہے کہ اس عرصے میں پاکستان میں اکا دکا دینی مدارس کے علاوہ جہاد کا کوئی ماحول تھا نہ اس حوالے سے مدارس میں کوئی مہم، بنیادی وجہ اس کی یہ تھی افغان جہاد کی باگ ڈور گلبدین حکمتیار اور احمد شاہ مسعود جیسی کالجیٹ قیادت کے ہاتھ میں تھی اور اس میں شرکت کرنے والے بھی وہی یا عام پاکستانی تھے یا کالجیٹ عرب اور دیگر قوموں کے لوگ۔ مدارس میں وہ ماحول اب بھی نہیں ہے کہ بڑی تعداد مخالف مکاتب فکر کے مدارس کی ہے۔ افغانستان میں طالبان کا دور حکومت آیا تو یہاں ایک مکتب فکر کے بعض مدارس اور طلبہ میں ضرور ہلچل پیدا ہوئی. مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ اس عرصے میں وہ افغانستان سے پاکستان تک وہ کالجیٹ قیادت زیرعتاب آئی جو افغان جہاد کی سرخیل تھی۔ تاریخ کے اس موڑ پر ایک اور ڈنڈی ماری جاتی ہے۔ یہ بات اب سب کو معلوم ہے کہ طالبان کا ظہور فکر مودودی کے بجائے فکر ریاست و فکر بابر و بےنظیر پر ہوا تھا اور اس ظہور کی وجہ سے عملا افغانستان میں فکر مودودی اور اس کی تبلیغ اور نشرواشاعت پر پابندی تھی۔ مگر آپ نے کبھی نہیں سنا ہوگا کہ اس ظہور میں بھول کر بھی بےنظیربھٹو اور نصیر اللہ بابر اور ریاستی بیانیے کے کردار کی بات کی جاتی ہو بلکہ کمال مہارت سے اسے اس فکر پر ڈال دیا جاتا ہے جس کی ترویج پر اس دور میں پابندی تھی اور اب بھی فکر دور کی بات ہے، سید مودودی کا نام بھی ان کے ہاں پسندیدہ نہیں ہے۔ جس شخصیت کا نام لینا معیوب ہے ، اس کو ذمہ دار قرار دینے اور اس کے نام سب کچھ ڈال دینے کو جھوٹ کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے۔ اتنی بڑی علمی بددیانتی کے اظہار کےلیے بے شرمی شاید سخت لفظ ہو مگر واقعی بڑا دل گردہ چاہیے

ایک اور اہم بات یہ ہے بیانیہ بدلنے کے خواہشمندوں کو خبر نہیں ہو سکی کہ افغانستان میں طالبان کے ظہور اور پالیسی شفٹ کے بعد رہا سہا کوئی بیانیہ تھا بھی تو قبلہ پرویزمشرف کے دور میں اس پر بھی فاتحہ پڑھ لی گئی تھی جب کمالزم کے اس پیروکار نے ہاتھوں میں کتے پکڑ کر سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگایا اور سیکولر بیانیے کو رائج کرنے کے عملی اقدامات کیے، تمام ٹی وی چینلز کو بیانیہ بدلنے کے خواہش مند ایک مخصوص فکری پس منظر رکھنے والے لوگوں کے حوالے کر دیا گیا، حضرت خود تو طبلہ ساز کے طور پر مشہور ہیں مگر ریاست میں بھی اس کی ترویج پر انھوں نے خصوصی توجہ کی اور اچھے بھلے شرفا کو بھی طبلہ بجانے اور ساتھ ناچنے پر لگا لیا، اس دور کی ویڈیوز کو یوٹیوب پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ چیزیں تو اور بھی گنوائی جا سکتی ہیں مگر تب سے لے کر اب تک ریاست کا بیانیہ پرویزمشرف کے دور میں اختیار کیا جانے والا بیانیہ ہی ہے، تقریبا ڈیڑھ دہائی سے حکومت، اداروں اور میڈیا کے ذریعے وہی بیانیہ پوری شدت کے ساتھ سامنے آ رہا ہے یہاں تک کہ پرویزمشرف کے مخالف سمجھے جانے والے اور پاکستان بنانے کی دعویدار مسلم لیگ کے قائد بھی مسلسل لبرل پاکستان کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ ریاست نے فکر مودودی اوڑھ رکھی ہے اور ساتھ میں لبرلزم کے نعرے بھی لگا رہی ہے۔ کیا کہنے کیا کہنے۔

ریاست کی طرف سے کسی بیانیے کے اوڑھنے کی بات نظر کے دھوکے سوا کچھ نہیں ہے۔ اپنا بچائو اور برتری کسی بھی ریاست کا واحد بیانیہ ہوتا ہے جسے دیگر ریاستوں کی طرح پاکستان نے بھی اوڑھ رکھا ہے، اس میں اسلام بھی نظر آتا ہے اور کمالزم بھی، اس میں حکمتیار بھی نظر آتا ہے اور ملا محمد عمر بھی، اس میں کشمیر بھی نظر آتا ہے (اگرچہ نوعیت مختلف ہے) اور خالصتان بھی۔ اس کا تعلق ریاست کے اپنے وجود کے ساتھ ہے، کسی بیانیے کے ساتھ نہیں۔ اس کا تعلق ریاست کی مجبوری کے ساتھ ہے اور اسی کے گرد اس کی نظر آنے والی اور پس پردہ دونوں قسم کی پالیسیاں بنتی ہیں۔ پاکستان نے اپنا جغرافیہ اوڑھ رکھا ہے جس کے ایک طرف اس کا ازلی دشمن بھارت ہے جس نے ایک دفعہ ملک توڑا ہے اور مزید ٹکڑے کرنے اور بالاخر اپنے اندر ضم کرنے کی دھکمی دیتا ہے، اور دوسرے ہمسائے اس کے ہمنوا نظر آتے ہیں اور ان کی سرزمین بھارتی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ پاکستان نے نیشنلزم اوڑھ رکھا ہے اور اپنے آپ کو بچانے کےلیے پراکسیز میں الجھا ہوا ہے یا الجھا دیا گیا ہے اور اس کے دشمن اسے نکلنے کا موقع نہیں دے رہے۔ جس ریاست کو بیانیہ بدلنے کا کہا جا رہا ہے وہ بتا رہی ہے کہ باچاخان یونیورسٹی پر حملے کی منصوبہ بندی بھارتی قونصل خانے میں ہوئی اور وہیں سے رقم فراہم کی گئی۔ یاد آیا جی ہاں وہی بھارت جس کے سب سے بڑے اعزاز سے باچا خان کو نوازا گیا۔ افسوس کہ کسی اور پاکستانی کو یہ اعزاز نصیب نہیں ہو سکا ہے۔ اور کوئی بعید نہیں کہ اس آپا دھاپی میں کل کو بھارتی بیانیہ اوڑھنے کی بات زور پکڑ جائے اور اس کی وجہ بھی ریاست کا فکر مودودی کو اوڑھنا قرار دیا جائے۔ اس سارے تاریخی پس منظر میں’ میں ذاتی طور پر اس بات کا قائل ہوں کہ ریاست نے 71 کے سانحے سے سبق سیکھا اور حالات کے مطابق پالیسی اختیار کی، اگر نائن الیون کے بعد اپنے ملک میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کو نکال لیا جائے تو ریاست کے نکتہ نظر سے دستیاب حالات میں ایک بہترین پالیسی اختیار کی گئی۔ اگرچہ مجھے نظریاتی و اصولی طور اس سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر بات ریاست کی ہو رہی ہے۔

جاتے جاتے ایک سوال ذہن میں آیا ہے کہ جو حضرات کسی فکر کو دہشت گردی و قتل عام کا سبب بتاتے ہیں اور ساتھ میں یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ فکر ریاست نے بھی اوڑھ رکھی ہے تو گویا ان کے خیال میں ریاست خود اس قتل عام اور فساد کی ذمہ دار ہے، اپنے وطن میں دہشت گردی کی مرتکب ہے، معصوم جانوں سے کھیل رہی ہے، خدانخواستہ باچا خان یونیورسٹی پر حملے کی ذمہ دار بھی وہی ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ یہ راستہ چھوڑ دیا جائے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ اس صورت میں بیانیہ تبدیل کرنے کے خواہشمندوں میں اتنی اخلاقی جرات ہونی چاہیے کہ اگر مگر اور کسی فکر پر ملبہ ڈالنے کے بجائے سیدھا ریاست اور اس کے ذامہ داران کو ہی مخاطب کریں اور انھیں ذمہ دار قرار دیں، کٹہرے میں لانے کی بات کریں۔

اس سلسلے کی دوسری بات یہ ہے کہ کیسے کیسے دریدہ دہن وطن عزیز میں موجود ہیں کہ جس ریاست کا کھاتے ہیں اور جس سے مطالبہ کرتے ہیں، اسی پر سارا گند بھی ڈال دیتے ہیں، اور ریاست کی بھی کیا فراخ دلی ہے کہ خود کو خونی فسادی اور قاتل قرار دینے والوں اور ان کے بیانیے کو برداشت کر رہی ہے؟

آخری بات یہ کہ ریاست نے فکر مودودی اوڑھ رکھی ہوتی تو یہاں اسلام غریب اور مظلوم ہونے کے بجائے عملا نافذ ہوتا اور ریاست کے امور سے فرد کے معاملات تک عملا چلتا پھرتا نظر آتا۔ لٹیروں کے بجائے یہاں سید مودودی کی جماعت اقتدار میں ہوتی۔ خون خرابے، فساد فی الارض، دہشت گردی اور پراکسی جنگوں کا اسلام سے کوئی تعلق ہے نہ فکر مودودی سے۔
و ما علینا الا البلاغ

4 تبصرے
  1. 25 January, 2016
    mir afsar aman

    bot acha awr melwmati mzmoon hay

    Reply
  2. 25 January, 2016
    محمد بشیر چوہدری

    بہت ہی خوبصورت اور اعلیٰ پیراۓ میں تحریر :-
    صد قابلِ ستائیس

    Reply
  3. 26 January, 2016
    Attique ur Rahman

    good effort

    Reply
  4. 27 January, 2016
    Nadeem

    ﻟﻤﺒﮯ ﭼﻮﮌﮮ ﺑﯿﺎﻧﺌِﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ، ﺑﺲ ﯾﮧ
    ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﺠﺌﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ
    ﺳﮯ ﻣﺘﺼﺎﺩﻡ ﮨﺮ ﻧﻈﺮﯾﮧ ، ﺭﺳﻢ ، ﺭﻭﺍﺝ ، ﺛﻘﺎﻓﺖ ،
    ﺗﻔﺮﯾﺢ ، ﮐﮭﯿﻞ ، ﻣﻌﯿﺸﺖ ، ﻣﻌﺎﺷﺮﺕ، ﺍﺻﻮﻝ ،
    ﺿﺎﺑﻄﮧ ﺍﻭﺭ ﻓﻠﺴﻔﮧ ﻧﺎﻗﺎﺑﻞ ﻗﺒﻮﻝ ﮬﮯ ۔۔۔۔۔ ﺟﺴﮑﯽ
    ﻣﺰﺍﺣﻤﺖ ﮨﺮﺳﻄﺢ ﭘﺮ ﮐﯽ ﮐﯿﺠﺎﺋﮯ ﮔﯽ

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *