1

سیکولر بیانیہ اور تبلیغی جماعت پر پابندی، اصل ہدف ہے کیا؟

تحریر : شمس الدین امجد
پنجاب حکومت نے تبلیغی جماعت کے یونیورسٹیوں سمیت تعلیمی اداروں میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ تو گویا اب اللہ رسول اور نماز کی بات سے بھی خوف اور خطرہ پیدا ہو گیا ہے، اور نظریات کی یہی وہ تبدیلی ہے جس کا شور مچایا جا رہا ہے۔ اسلام کے نام پر بنے اسلامی ملک اور اسلامی آئین کے ساتھ یہ صورتحال ہے تو سوچیے مکمل سیکولرزم میں کیا کیا نہیں ہوگا۔ تاجکستان کی تو چلو بات سمجھ میں آتی ہے کہ وہاں روسی باقیات برسراقتدار ہیں جن کا اسلام سے کوئی لینا دینا نہیں مگر یہاں یہ ” مسلم لیگی ” دور اقتدار میں ہو رہا ہے۔

تبلیغی جماعت کے طریق کار سے مجھ سمیت کئی لوگوں کو اختلاف ہو سکتا ہے مگر کیا اس بات میں کوئی شک ہے کہ وہ دنیا میں اسلام کا نرم ترین چہرہ ہے۔ عبادات اور اخلاقیات ان کا اصل موضوع ہے، سیاست کے وہ سرے سے قائل نہیں، الٹا اس کے مخالف ہیں کجا کہ بزور قوت ریاست پر قبضے کا خیال ہی دل میں لائیں یا ان کی صفوں سے ایسے لوگ سامنے آئیں۔ ان پر تو اپنے الزام لگاتے اور خفا ہوتے ہیں کہ افغانستان میں ملا عمر کی حکومت ختم کی جا رہی تھی اور رائیونڈ میں لاکھوں کے اجتماع ایک جملہ کیا کوئی دعائیہ کلمہ تک نہ نکلا کسی مقرر کے منہ سے۔ ایک طے شدہ طریق کار ہے جس پر تبلیغی جماعت والے چلتے ہیں اور اس کا ریاست اور اس کے امور سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگر یہ بھی قابل قبول نہیں ہے تو باقیوں کا کیا کہیے گا۔ یاد آیا یہ وہی نرم چہرہ ہے جس کی پرویز مشرف دور میں خود سیکولر بیانیے والوں کی طرف سے نشاندہی کی گئی تھی کہ بھائی اسلام تو وہ ہے جو تبلیغی جماعت والے پیش کرتے ہیں یا اب یہ صوفی اسلام کی صورت میں ہم پیش کر رہے ہیں۔ تو اب کیا ہوا کہ جس کو آپ حقیقی اسلام کے طور پر پیش کر رہے تھے، وہی زیرعتاب آ گیا ہے۔
جب آپ چیزوں کو گڈ مڈ کر دیتے ہیں اور اس طرح کے سطحی اقدمات کرتے ہیں تو اس سے وہ نظریہ اور بیانیہ کمزور ہونے کے بجائے مضبوط ہوتا ہے جس کا آپ مقابلہ کرنا چاہ رہے ہیں۔ سیکولر شبیہ والے دوست جب یہ کہتے ہیں اور چینلز سے لے کر سوشل میڈیا تک آپ انھیں دیکھتے اور سنتے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر اس وقت تک عمل نہیں ہو سکتا اور دہشت گردی کا اس وقت تک مقابلہ نہیں کیا جا سکتا جب تک آپ اس فکر کا مقابلہ نہ کریں اور ریاست اس کا متبادل بیانیہ نہ دے جس کی وجہ سے دہشت گرد پیدا ہو رہے ہیں۔ ایسی صورت میں اشارہ مدارس کی طرف ہوتا ہے جن کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں اور جو ہر وقت اس حوالے سے حکومت کے ساتھ تعاون کو تیار ہیں۔ دوسرا اشارہ ان دینی سیاسی جماعتوں کی طرف ہوتا ہے جو نہ صرف جمہوری جدوجہد کر رہی ہیں، اسمبلیوں میں موجود ہیں، ریاست کے ساتھ کھڑی ہیں، پرامن جمہوری جدوجہد کا متبادل بیانیہ دے رہی ہیں اور اس وجہ سے مسلح تنظیموں کے بھی نشانے پر ہیں اور خلافت کی دعویدار غیرمسلح تنظیموں کے بھی۔ جب آپ نماز روزے کی بات پر بھی پابندی لگانا چاہیں گے تو آپ کس کا بیانیہ مضبوط کریں گے اور ایک عام پاکستانی کو اس سے کیا پیغام دیں گے؟ جو لوگ (مسلح و غیر مسلح دونوں) پہلے ہی کہتے ہیں کہ جمہوریت اور آئین کفر ہیں، ان کے ہاتھ یہ دلیل نہ لگے گی کہ دیکھا ہم نہ کہتے تھے کہ یہ کفریہ ریاست ہے، نماز روزے کی تبلیغ پر پابندی کے بعد بھی اس میں شک کی کوئی گنجائش باقی ہے؟ ہم نہ کہتے تھے کہ اصل ہدف اسلام ہے؟ صرف ایک دو سوال نما دلائل سے ہی ان کے نظریات کیسے نہیں پھیلیں گے اور جو لوگ پہلے سے متاثر ہیں وہ مزید پختہ کیوں نہیں ہوں گے؟
دہشت گردی کا مقابلہ کیجیے، نیشنل ایکشن پلان پر عمل کیجیے جس کی دینی سیاسی جماعتوں اور دینی مدارس سمیت پوری قوم حمایت کر رہی ہے مگر اس طرح کے سطحی اقدامات سے گریز کیجیے۔ اس سے آپ کے ہاتھ اور بیانیہ دونوں کمزور ہوں گے۔ اور ہاں بیانیہ بیانیہ کھیلنے اور آزادی اظہار کی رٹ لگانے والے سیکولر و لبرل بھائیوں سے گزارش ہے کہ وہ میدان میں آئیں اور اس پرامن کردار اور بنیادی حق کا دفاع کریں۔ ہمیں انتظار رہے گا کہ ذرا ذرا سی بات .پر ماتم کی کیفیت پیدا کرنے والے ” ہم سب ” قبیلے کی تمام ویب سائٹس اور لکھاریوں کی طرف سے اس پر کیا ردعمل سامنے آتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

سیکولر بیانیہ اور تبلیغی جماعت پر پابندی، اصل ہدف ہے کیا؟” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں