1

“پھندہ”

تحریر : محمد اسمعیل بدایونی
 ایکسکیوزمی ! میں آپ سے کچھ کہنا چاہتی ہوں ،برقعے میں ملبوس خاتون نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا جی فرمائیے ! میں نے نہایت شائستگی سے کہا میرے پاس وقت بہت کم ہے وہ لوگ مجھے مار دینا چاہتے ہیں ، کون لوگ آپ کو مار دینا چاہتے ہیں ؟ میں نے نہایت نرمی سے پوچھا اب اس کا وقت گزر چکا وہ بہت جلد مجھ تک پہنچ جائیں گے میں آپ کو کچھ اہم باتیں بتانا چاہتی ہو ں براہ مہربانی ان باتوں کو غور سے سنیں اور اسے امانت سمجھ کر آگے بڑھا دیجیے گا ۔
جی ! فرمائیے میں نے اُن سے کہا یہ میری زندگی کی داستان ہے میں نے صوم و صلوۃ کے ایک پاکیزہ خاندان میں آنکھ کھولی تھی میری تربیت مکمل ایک مشرقی ماحول میں ہوئی وقت گزرتا یہاں تک کہ میں جوان ہوگئی ،عام مسلم گھرانوں کی طرح ہی ہمارا خاندان تھا نہ زیادہ مذہبی اور نہ زیادہ ماڈرن میٹرک کے امتحان کے بعد کالج جانے لگی تو گھر میں انٹر نیٹ کی سہولت موجود تھی جلد ہی فیس بک پر دانش نامی ایک لڑکے سے محبت ہوگئی کالج کے بہانے ریسٹورینٹس میں ملاقاتیں طویل سے طویل تر ہوتی چلی گئیں دانش بلاشبہ ان وجیہ لڑکوں میں شمار ہوتا تھا جن پر کوئی بھی لڑکی مر مٹے ۔
آہستہ آہستہ دانش مجھے اپنے دوستوں جن میں مرد و خواتین دونوں شامل تھا ملوانے لگا گاڑی بنگلہ اور اونچے خواب جو میں نے دیکھے تھے دانش کے پاس میرے ہر خواب کی تعبیر تھی اونچے اسٹیٹس کا بخار مجھے بھی چڑھ چکا تھا اپنے گھر کا ماحول مجھے دقیانوسی سا لگنے لگا تھا نقاب سے مجھے الجھن ہوتی تھی جب میں پہلی دفعہ عبایا میں دانش کے دوستوں سے ملی تو مجھے اپنا آپ بہت میلا سا دکھائی دیا اس کے بعد میں گھر سے تو عبایا پہن کر جاتی لیکن نقاب لینا چھوڑ دیا تھا اور امی نے پوچھا تو میں نے کہا مجھے سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے اور امی میرے اس بہانے سے مطمئن ہو گئیں ۔
دانش کے دوستوں سے جب میں ملنے جاتی تو عبایا دانش ہی کی گاڑی میں اتار پھینکتی تھی وقت کی گاڑی گزرتی رہی ، میں دانش سے شادی کے لیے کہنا چاہتی تھی مگر اس کا طرزِ عمل بہت عجیب تھا وہ مجھے ایک دوست کی حیثیت سے ٹریٹ کررہا تھا میرا حلقہ احباب دانش کے توسط سے وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا اور پھر اسی سول سوسائیٹی میں میری ملاقات نوید سے ہوئی اور آہستہ آہستہ میں دانش سے دور اور نوید سے قریب ہوتی چلی گئی اور پھر یہ ماڈرن صحبت رنگ لائی اور میں نے حدود و قیود کو توڑ ڈالا میں نے اپنے اللہ کو ناراض کر دیا لیکن اس وقت مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں تھی میں خدا کا انکار کر چکی تھی اس دنیا میں کوئی خدا نہیں یہ کیسا خدا ہے جو لوگوں کو امیر غریب میں تقسیم کرتا ہے (معاذاللہ ) اور ملحدین کے تمام افکار میرے دل و دماغ میں بس چکے تھے لبرل ازم کا نشہ سر پر سوار تھا اس مصنوعی آزادی کی فضا میں سانس لینا بہت اچھا لگ رہا تھا نوید کے بعد پھر کوئی گنتی نہیں رہی میں مکمل ملحدہ ہو چکی تھی گھر بار کو خیر باد کہہ کر ایک اور دوست کے ساتھ اس کا کمرہ شئیر کر لیا تھا ان کی ایک آرگنائزیشن تھی جس کا کام الحاد کی نشرو اشاعت تھی انہوں نے مجھے اس آرگنائزیشن میں ایک اچھا عہدہ دیا اچھی تنخواہ دی اور میں نے اس آرگنائزیشن میں رہتے ہوئے تقریبا تمام ہی دنیا کی سیر کی کبھی ہالینڈ ، کبھی انگلیڈ ، سنگا پور ، ترکی وہ کون سا ملک ہوگا جو میں نے نہیں دیکھا ہو اس آرگنائزیشن کے تحت ہی میں نے متعدد حقوقِ نسواں کانفرنسز کرائیں اور خود بھی شرکت کی ان خواتین کو ہم اس بات پر بر انگیختہ کرتے تھے کہ مرد کی غلامی سے نکلو تم زندگی بھر بچے ہی پالو گی ، اپنے ٹیلنٹ کو آزماؤدنیا بہت وسیع ہے ۔
کسی کے گھر میں اگر کوئی معمولی خانگی مسئلہ ہوتا تو ایسی عورت تو ہمارا اولین شکار ہوتی بجائےاس کو سمجھانے کے ہم اس کو خوب ورغلاتے اور پھر طلاق کے بعد وہ ہماری اس بے حیا سوسائٹی کی ایک روشن خیال ممبر بن جاتی تھی ناجائز پیسہ اور عیاشی کی راہ میں ہمارا سب سے بڑا مخالف مذہب اور وہ بھی بالخصوص اسلام ہے ہم نے اپنے اس راستے کے کانٹے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دور کر دیا نہ ہم خدا کو مانتے اور نہ ہی کسی اخلاقی شرم کو محسوس کرتے ہیں۔
 مولویوں ،ڈاڑھی ، برقع اور اسلام پر تنقید میرا پسندیدہ موضوع تھا ،اخلاقیات کو مجھ سے رخصت ہوئے زمانہ ہو چکا تھا اب تو میں یہ سوچتی تھی کہ ایک  لڑکی ہوتی تھی جو صبح فجر کی نماز باقاعدگی سے ادا کرتی تھی رمضان کے روزے چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کرسکتی تھی ،میں آزاد تھی اب ،اور چاہتی تھی دنیا کی ہرلڑکی اس آزاد فضا میں سانس لے میں کسی لڑکی کو جینز اور شرٹ میں دیکھتی تو بہت خوش ہوتی اور اس کو اپنی فتح قرار دیتی اور بر ملا کہتی تھی آج کی لڑکی بیدار ہو رہی ہے یہ اس دنیا کی خوبصورتی ہے اس چمن کی رونق اسی سے ہے میں دن بدن ان الحادیوں میں رہتے رہتے اخلاقیات کا ہر سبق بھول چکی تھی خواہشاتِ نفس میری زندگی کا اولین مقصد تھا سائنس میرا خدا اور آزادی میرا ایمان تھا
گروپ ڈسکشن میں بے حیائی کی تمام حدود کو میں نے توڑا تھا مجھے یاد ہے پہلی دفعہ جب گروپ میں ایک بے حیائی کے عنوان پر بات ہورہی تھی میں نے چاہا کہ اس عنوان پر ان باکس میں بات ہو تو میرے سینیئر نے مجھ سے کہا : تم مکمل atheist ہو تمہیں شرمانا نہیں چاہیے اگر تم ایسا کرو گی تو اور عام لوگ کیا کہیں گے اور پھر اس دن رہی سہی جھجھک بھی ختم ہو گئی میں اس آرگنائزیشن کی سب سے زیادہ فعال ممبر تھی میں نے کئی لڑکیوں کو اس آرگنائزیشن کا ممبر بنایا تھا گھروں سے بھاگ کر آنے والی لڑکیوں کے لیے ہماری آرگنائزیشن خصوصی سہولت فراہم کرتی تھی جب بھی کسی ایسی لڑکی کا ذکر ہوتا آرگنائزیشن کے صدر خصوصی دلچسپی لے کر اس معاملے کو ہینڈل کرتے تھے اور یہ مجھے ہی معلوم تھا کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں وقت تیز رفتار طائر کی طرح اڑتا رہا اور پھر مجھے محسوس ہونے لگا کہ اب میری جانب توجہ کم ہو گئی ہے آرگنائزیشن میں کئی عہدے اور نکل گئے جہاں کئی اور خوبصورت لڑکیاں آچکی تھی میری جوانی کی رعنائیاں ختم ہو رہی تھی لیکن میں اس آرگنائزیشن کے تمام رازوں سے واقف تھی پھر اب تو ویسے بھی حقوقِ نسواں کی بڑی بڑی کانفرنسز میں میری شرکت لازم و ملزوم کی تھی میرا ایک نام تھا روشن خیال ، لبرل سوسائیٹیز میں لوگ میری مثالیں دیا کرتے تھے ۔
پھر میری ملاقات ایک دن ائیر پورٹ کے لاؤنج میں ایسی لڑکی سے ہوئی جو نقاب میں موجود تھی میں اسے اپنا اگلا شکار قرار دے کر اس سے بہت محبت سے ملی اس نے مجھے ایک نظر دیکھا اور کہا : زندگی کی ہر چیز تمہاری تھی تمہارے لیے ہی بنی تھی یہ خوشیاں جن کی تلاش میں تم یہاں تک پہنچی ہو تمہارا نصیب تھیں ۔بہت جلدی کی تم نے ،دنیا تو تباہ کی ہی اور آخرت بھی برباد کر لی واٹ نان سینس ؟ میں نے غصے میں کہا تم ہو کون ؟ اگلے ہی لمحے میرے دماغ نے اس کی آواز کو پہچان لیا تم (ر) تو نہیں ہو؟ ہاں، (م) ! میں (ر) ہی ہوں تم نے درست پہچانا میرے سامنے میری بچپن کی سہیلی تھی میری پڑوسن ہمارا بچپن ساتھ ساتھ گزرا تھا میں اسے اس طرح اپنے سامنے دیکھ کر بہت خوش ہوئی یہاں کیسے آنا ہوا ؟ میں نے اس سے پوچھا تو معلوم ہ ا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ واپس پاکستان جا رہی تھی ۔ امی کیسی ہیں تمہاری میں نے پوچھا ! سب لوگ کیسے ہیں میں نے اپنے گھر کے ایک ایک فرد کا نام لے لے کر پوچھا میری آنکھوں نے چھلکنا شروع کر دیا تھا (م) تمہارے والد تمہارے غم میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے بہنوں کی شادی ہوگئی وہ تمہیں ایسے بھول گئے جیسے کہ تم کبھی تھی ہی نہیں اور خدارا ! اب ان کی پر سکون زندگی کو جا کر دوبارہ کسی طوفان سے آشنا نہ کر دینا اُن کے لیے تم مر چکی ہو بس ایک تمہاری ماں ہے جو ایک اُمید سی رکھتی ہے تم سے کہ تم ضرور پلٹو گی وہ کہتی ہیں میں نے نعتوں کی لوری دے کر اسے پالا ہے اسے میں جب دودھ پلاتی تھی تو درود شریف کا ورد میری زبان پر ہوتا تھا میری بیٹی ملحدہ کیسے ہو سکتی ہے بس ان کی بوڑھی آنکھوں میں آج بھی اُمید کی کرن ہے ۔
وش (م) ! یہ جو تمہارے ساتھ ہیں یہ سب درندے ہیں یہ عورت کی آزادی کے نام پر عورت تک پہنچنا چاہتے ہیں یہ عزت اور غیرت کو الحاد کی شراب پلا کر مدہوش کردیتے ہیں ۔وش (م) ! ایک عام عورت تک پہنچنا کسی بھی لبرل درندے کے لیے مشکل کام ہے لیکن تم تک یہ باآسانی پہنچ سکتے ہیں آزادی کے نام پر میں جانتی ہوں (ر) ! مجھ سے بہتر انہیں کون جانتا ہوگا یہ یہودیوں کے لیے کام کرتے ہیں ان کا کام بس اسلام کے خلاف بکواس کرنا ہوتا ہے ان کے فیس بک پیج پر مذہب کی مخالفت سب سے زیادہ اسلام کی ہوتی ہے یہودیت کی تو صرف دکھاوے کے طور پر مخالفت ہوتی ہے اصل ہدف ان کا اسلام اور پیغمبرِ اسلام ﷺ ہیں ۔ یہاں آنے والی لڑکیوں کو دوسرے ممالک میں وزٹ ایسے ہی نہیں کرائے جاتے ان سے بزنس کرایا جاتا ہے اور الحاد کی شراب انہیں مدہوش رکھتی ہے پیسہ ،سیرو تفریح ان کی بنیادی ضروریات سے لے کر عیش و عشرت کے تمام سامان انہیں مہیا کیے جاتے ہیں اور پھر انہی لڑ کیوں کو مسلم لڑکوں کے لیے کانٹے کا چارہ بنا یا جاتا ہے ۔ ابھی یہ گفتگو ہو ہی رہی تھی کہ (ر) کے شوہر علم الدین بھی آگئے آج تک مجھے ڈاڑھی سے سخت نفرت تھی ہمیشہ ہی ڈاڑھی پر شدید تنقید کی آج اس باوقار انسان کو دیکھ کراپنی رائے تبدیل کر لی علم الدین نے مجھے ایک دفعہ بھی نظر اٹھا کر نہیں دیکھا تھا میں مردوں کی فطرت سے بخوبی آگاہ تھی علم الدین کو عورت کی عزت کرنا آتی تھی اور عورتوں کی عزت کرنا اسلام نے ہی تو سکھایا تھا ورنہ ان روشن خیالوں نے تو عورت کو مال تجارت بنا دیا ہے
وش (م) ! دیر نہیں ہوئی واپس پلٹ جاؤ! سچی توبہ کرلو وہ بہت پیارا ہے وہ اپنے بندوں سے بہت محبت کرتا ہے تمہارے لیے راہیں کھول دے گا تم واپس آجاؤ کہیں بہت دیر نہ ہو جائے اور میں اس دن اس کے کندھے سے لگ کربہت روئی ۔ میرے اندر آنے والی تبدیلی کو جلد ہی میری آرگنائزیشن نے نوٹ کر لیا اور ایک دن میں نے جذبات میں آکر ان کو خوب سُنائی میں نے ان سے کہا تم ہی وہ ظالم ہو جنہوں نے میرے بچپن کو پامال کیا تم ساری زندگی میری قیمت وصول کرتے رہے ،تم وحشی ہو درندے ہو انسانیت کے دشمن تم ہو اسلام نہیں ،میں بہت برے طریقے سے چیخ رہی تھی وش (م) ! تمہیں کیا ہو گیا ہے تم پاگل تو نہیں ہو گئیں پھر مجھے بے ہوشی کا انجیکشن لگا کر ایک کمرے میں قید کر دیا گیا آج وہاں سے جان بچا کر نکلی ہوں خدارا ! آپ یہ میسیج ہر لڑکی تک پہنچا دیجیے گا ہر گھر تک پہنچا دیجیے گا تمہاری عزت کا سائبان تمہارا اسلام ہے تم جس آزادی کو دیکھتی ہو وہ آزادی نہیں ایک قید ہے دنیا کی بھی قید اور آخرت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کی قید وہ باپ جو تمہارے لیے کماتا ہے وہ بھائی جو تمہاری عزت کا رکھوالا ہے وہ شوہر جس کی مملکت کی تم ملکہ ہو تمہاری جنت تمہارے بچے ہیں تم آزاد ہو خدارا ! اس قید کا شکار نہ ہونا یہ باہر سے بہت خوب صورت ہے لیکن اندر سے بہت گندی ،گھناؤنی ہے
یہ پیغام آپ کے پاس ایک امانت ہے اس کو دوسروں تک پہنچا دیجیے گا اور وش (م) چلی گئی # وش (م) کی اس امانت کو آگے بڑھا دیجیے #

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں