1

راجہ داہر و انند پال اور رینالڈ و رچرڈ شیردل کے وارث

نیا نیا سیکولرزم قبول کرنے والے فرنود عالم صاحب لگتا ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور سے چلے آتے ہیں۔ تخاطب ایسا ہے جیسے خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے ہم جولی رہے ہوں اور زمانہ جاہلیت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ بنٹیاں کھیلتے رہے ہوں۔ شاید دیکھا دیکھی میں مشرف بہ اسلام بھی ہو گئے ہوں۔ گمان ہوتا ہے کہ شاید کزن وزن بھی رہے ہوں گے کسی کے ورنہ ایسی بےتکلفی اور ایسا تخاطب۔

ان تین چار لائنوں کے بعد آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کیا خرافات ہے؟ 14 سو سال سے کوئی کیسے زندہ رہ سکتا ہے؟ آپ درست سمجھ رہے ہیں۔ میری اپنی کیفیت بھی ایسی ہی تھی اور یقین مجھے بھی نہیں آ رہا تھا مگر ان صاحب کی تازہ قلمی موشگافی سے مجھے تو یہی گمان گزرا کہ شاید ہم زمانہ و ہمجولی ہی رہے ہوں گے جو اس قدر بےتکلفانہ لہجہ ہے اور انداز تخاطب ایسا ہے جیسے زید بکر کو بلا رہے ہوں۔ خلفائے راشدین سے آخری عثمانی خلیفہ تک اگرچہ انھوں نے تمام مسلم حکمرانوں اور مسلم تاریخ کا مثلہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی مگر جیسے حضرت عثمان غنی اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کو مخاطب کیا ہے اور جیسے ان کے مقابلے میں کھڑے ہونے والے خوارج کو افضل ثابت کیا ہے، اس کو دیکھتے ہوئے توہین صحابہ میں خوارج بھی ان کے سامنے دم بھرتے نظر آئیں اور آج کے زمانے میں آجائیں تو بلامقابلہ مرشد مان لیں۔

مغرب سے محبت اور مسلمانوں اور ان کی تاریخ سے نفرت میں مبتلا کیمپ میں آج جشن کا سماں ضرور ہو گا، صاحب بہادر بھی آج بہت خوش ہوں گے، شاید اکیس توپوں کی سلامی کا اہتمام بھی ہو اور گھر میں بھی کچھ مزید گھی چراغ روشن ہوجائیں۔ آج انہیں وہ گوہر نایاب مل گیا جو گزشتہ کچھ عرصے سے وہ اپنی کوکھ سے نہ نکال سکے تھے۔ مستشرقین اور سیکولر اسلاف کی اتباع میں مسلم تاریخ پر زبردستی کی کالک ملنے کی اس سے اچھی کاوش فی زمانہ نہیں ہو سکتی۔ ایک دینی پس منظر رکھنے والے کے لیے اگرچہ یہ واقعی بڑے دل گردے کا کام ہے، مگر دین فروشی کو مذہب بنا لیا جائے تو پھر یہ ایسے ہی آسان ہو جاتا ہے جیسا کہ اس وقت ہو رہا ہے۔
البتہ مذہبی لبادے اور شکل و شباہت والے نیو سیکولرز اپنے اسلاف کی طرح یہ بات سمجھنے سے قاصر رہے ہیں کہ کسی قوم، مذہب اور اس کے مشاہیر کا مذاق اڑا کر اس قوم میں وہ کوئی بیانیہ نہیں بیچ سکتے۔

اگر بزعم خود یہ کوشش کسی قسم کی اصلاح کے لیے ہے تو اب تک بے نتیجہ ہی رہی ہے اور آئندہ بھی اس کے ثمربار ہونے کی کوئی امید نہیں ہے۔ اگر صرف مذاق اڑانے تک بات رہے تو اس خوش گمانی میں مبتلا ہوا جا سکتا ہے کہ شاید مذاق کے پردے میں اصلاح ہی مقصود ہے مگر جب آپ کے ہیرو محمد بن قاسم کے مقابلے میں راجہ داہر، صلاح الدین ایوبی کے بجائے رینالڈ اور غزنوی و غوری کی جگہ انند پال ہوں تو ایسی کیفیت میں آپ کے نام اور شکل و شباہت چاہے مسلمانوں جیسے ہوں مگر ایک عام مسلمان کے لیے آپ دوسری صف میں ہی کھڑے ہوتے ہیں۔ سمجھنے والے سمجھتے ہیں کہ ڈاڑھی اور پس منظر قابل فخر مسلمان ہونے کی دلیل نہیں ہوا کرتا، لفظوں کی جگالی سے کسی نئی بوتل میں پرانی شراب تو ڈالی جا سکتی ہے لیکن نیا بیانیہ نہیں دیا جا سکتا۔ لفظوں کی روانی میں بہتی یہ وہی پرانی شراب ہے جس سے مسلمان نوجوان کو یورپ کے کلب میں مدہوش کرنے کی کوشش رہتی ہے، اور یہ وہی پرانا اور گھسا پٹا سیکولر بیانیہ ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان میں ٹکریں مار رہا ہے، جس کے نزدیک محمد بن قاسم ولن اور راجہ داہر ہیرو ہے، انند پال مٹی کا سپوت اور غزنوی و غوری ڈاکو ہیں۔ یہ بیانیہ اپنی اصل میں اتنا غلط ہے کہ آج بھی منہ چھپاتا پھرتا اور اپنے آپ کو اجنبی پاتا ہے، اس اجنبی ماحول میں ٓاگر کوئی ہمت کرلے اور مسلمانوں کو اپنے ماضی اور ہیروز کے حوالے سے اپنے تئیں شرمندہ کرنا چاہے تو مارے خوشی کے پورا قبیلہ جھومنے اور ہمت کرنے والا خود کو رینالڈ اور رچرڈ شیردل کا وارث سمجھنے لگتا ہے، مقدر اس کا اگرچہ وہی ہوتا ہے جو ان دونوں اور تب سے اب تک باقیوں کا ہوتا آیا ہے۔

تفصیلی جواب اور مغرب کا آئینہ بعد میں، ابھی صرف اتنا ہی کہ اہل مغرب کی باہمی جنگوں، مسلمانوں پر مسلط کی جانے والی صلیبی جنگوں اور جنگ عظیم اول و دوم کو تقابل سے نکال بھی لیں تو بھی ”جمہوری” مغرب نے جمہوریت کے لبادے میں جتنے انسانوں کا خون بہایا ہے اور جتنے ملک اور شہر تباہ کیے ہیں ، تمام مسلم حکمران مل کر اس
کا عشر عشیر بھی نہیں ہو سکتے۔ اور یہ ایسی کھلی حقیقت ہے جس کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں