“اُمتِ مسلمہ ، ابتلاء اور اُمیدِ بہار”

تحریر: عبدالغفار عزیز
عالم اسلام کو ایک بار پھر اپنی تاریخ کی سنگین تر آزمایشوں کا سامنا ہے۔ دشمنوں کی عیارانہ سازشیں بھی انتہا پر ہیں اور اپنوں کی غلطیاں اور جرائم بھی آخری حدوں کو چھورہے ہیں۔ سامراجی چالیں عالم اسلام کو مزید ٹکڑوں میں تقسیم کررہی ہیں اور کئی مسلم حکمرانوں اور گروہوں کے مظالم کے سامنے ہلاکو اور چنگیز بھی بونے نظر آ رہے ہیں۔ رب ذو الجلال کی ذات کا سہارا نہ ہوتا، اس کی طرف سے لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ ط ، وَ لَا تَایْءَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ (اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں) جیسی تلقین اور اِِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا (یقیناًتنگی کے ساتھ ہی آسانی ہے) جیسے مسلمہ اصول نہ ہوتے، تو لگتا کہ پانی سر سے گزر چکا، عالم اسلام کا اختتام قریب آن لگا اور اُمت پھر زوال پذیر ہوگئی۔
مسلم ممالک اور اپنے معاشرے پر نگاہ دوڑائیں تو ہم ان سب نافرمانیوں پر تلے ہوئے ہیں جن کے انجام بد سے خالق کائنات نے خبردار کیا تھا۔ واضح طور پر بتادیا گیا تھا کہ: وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْھَبَ رِیْحُکُمْ (الانفال۸: ۴۶)’’اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمھارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمھاری ہوااکھڑ جائے گی‘‘۔ لیکن ہم ایک نہیں کئی کئی اختلافات و تنازعات میں دھنسے ہوئے ہیں۔ ظلم کرنے سے بار بار منع کرتے ہوئے ہمیں خبردار کردیا گیا تھا کہ: وَمَنْ یَّظْلِمْ مِّنْکُمْ نُذِقْہُ عَذَابًا کَبِیْرًاo (الفرقان۲۵: ۱۹) ’’اور جو بھی تم میں سے ظلم کرے اُسے ہم سخت عذاب کا مزا چکھائیں گے‘‘۔ لیکن آج ہم میں سے کسی فرد کا داؤ چلے یا کسی حکومت کے ذاتی مفادات خطرے میں پڑیں، ہم ظلم کے وہ پہاڑ توڑ دیتے ہیں کہ الأمان الحفیظ!ہمیں کسی بھی ظالم کا ساتھ دینے سے خبردار کرتے ہوئے دو ٹوک انداز میں بتا دیا گیا تھا کہ:وَ لَا تَرْکَنُوْٓا اِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ لا وَ مَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ o (ھود۱۱: ۱۱۳)’’اِن ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آجاؤ گے اور تمھیں کوئی ایسا ولی و سرپرست نہ ملے گا جو خدا سے تمھیں بچا سکے اور کہیں سے تم کو مدد نہ پہنچے گی‘‘۔ لیکن ہم اپنے عارضی اور محدود مفادات کی خاطر، سفاک ترین ظالم کے حق میں بھی دلیلوں کے انبار لگانے لگتے ہیں۔ ہمیں بدکاری کرنے سے ہی نہیں، بدکاری کے قریب بھی پھٹکنے سے منع کرتے ہوئے بتادیا گیا تھا کہ: وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنآی اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً ط وَ سَآءَ سَبِیْلًاo(بنی اسرائیل ۱۷:۳۲)’’اور زنا کے قریب نہ پھٹکو۔ وہ بہت بُرا فعل ہے اور بڑا ہی بُرا راستہ‘‘۔ ہم ضرورت کی ادنیٰ ترین چیز کو بھی فحش اشتہارات کے بغیر بازار میں نہیں لاتے۔
 ایک ایک کرکے خالق کے تمام احکامات کو سامنے رکھ کر دیکھ لیں۔ ہم بحیثیت فرد ہی نہیں بحیثیت اُمت و ملت انھیں پامال کرنے میں جتے ہوئے ہیں۔ ہماری ان تمام نافرمانیوں کو خالق نے ایک لفظ میں سمو کر اور اس سے خبردار کرتے ہوئے، راہ نجات کی طرف بھی نشان دہی کر دی ہے۔ وہ لفظ ہے: ’ظلم‘۔ جو کبھی دشمنوں کی طرف سے ہوتا ہے اور کبھی اپنوں ہی کے ہاتھوں۔ کبھی دوسروں پر کیا جاتا ہے اور کبھی خود اپنی ہی جان پر۔ ظلم کی ان تمام اقسام سے نجات حاصل کرنے کا اولین قدم، ظلم کو ظلم سمجھنا اور اسے ظلم کہنا ہے۔ آدم علیہ السلام کو جیسے ہی احساس ہوا تو وہ فوراً پکار اُٹھے:
رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَo
(اعراف۷:۲۳)’’اے ہمارے پروردگار ہم خود پر ظلم کربیٹھے ہیں، آپ نے معاف نہ فرمایا تو خسارہ پانے والوں میں شمار ہوں گے‘‘
، جب کہ ابلیس سراسر نافرمانی کے بعد بھی بولا:
رَبِّ بِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَھُمْ فِی الْاَرْضِ وَلَاُغْوِیَنَّھُمْ اَجْمَعِیْنَo (الحجر۱۵: ۳۹)
’’اے اللہ جیسا تو نے مجھے بہکایا اسی طرح اب میں بھی (ان بندوں کے سامنے)
گناہوں کو خوش نما بناکر پیش کروں گا اور ان سب کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا‘‘۔ اسی لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ دُعا فرمایا کرتے تھے کہ: و أرنا الباطل باطلاً و ارزقنا اجتنابہ، ’’اور ہمیں باطل کو باطل ہی دکھا اور اس سے اجتناب کی توفیق عطا فرما‘‘۔ پانچ برس گزر گئے جب عالم اسلام میں اُمیدِ بہار دکھائی دی تھی۔ ۳۰،۳۰ ؍ ۴۰،۴۰ سال سے اپنی قوم پر مسلط ظالم ڈکٹیٹر شپ کے بت گرنے لگے۔ صہیونی عزائم اور عالمی نقشہ گروں کو اپنے منصوبے خاک میں ملتے دکھائی دیے، تو پہلے شام پھر مصر، لیبیا اور یمن میں انھی ’اپنوں‘ ہی کو اپنے عوام پر بدترین مظالم ڈھانے کی راہ دکھا دی۔ آج صرف شام میں ۳ لاکھ سے زائد شہید، اور ڈیڑھ کروڑ سے زائد انسان بے گھر ہوچکے ہیں۔ پورا ملک کھنڈرات کا ڈھیر بن چکا ہے۔ منفی ۲۰ درجے کی سردی ہو یا جھلسا دینے والی گرمی، تیزی سے رزق خاک بنتے یہ انسان مہاجر کیمپوں ہی میں مقید رہنے پر مجبور ہیں۔ کیمپوں کی یہ زندگی اس قدر جان لیوا ہے کہ اس سے نجات پانے کے لیے مہاجرین کی بڑی تعداد آئے دن وہاں سے نکلنے کی کوششوں کے دوران موت کے منہ میں چلی جاتی ہے۔
ابھی ۲۱جنوری کو بھی یونان کے قریب ۲۲ بچوں سمیت ۴۵ افراد سمندر کے برفیلے پانیوں میں ڈوب کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ مہاجر کیمپوں میں خوراک ناپید ہونے کا یہ عالم ہے کہ حالت اضطرار میں بلیاں اور کتے تک کھانے کے فتوے جاری ہوجاتے ہیں۔ سفاکی کا عالم یہ ہے کہ حکومت مخالف کسی ایک قصبے کو فتح کرنے کے لیے اس کا مکمل محاصرہ کرلیا جاتا ہے، یہاں تک کہ بڑی تعداد میں بچے اور بوڑھے بھوک کے ہاتھوں موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں لیکن بشارالاسد اور اس کی مددگار افواج کا دل موم نہیں ہوپاتا۔ گذشتہ دسمبر اور جنوری میں شام کے قصبے ’مضایا‘ پر گزرنے والی قیامت نے کئی عالمی اداروں تک کو جھنجھوڑ ڈالا، لیکن ہم مسلمان، ہمارے ذرائع ابلاغ اور حکمران تو شاید اس قصبے کانام تک بھی نہیں جانتے۔ جانتے بھی ہیں تو اسے کسی نہ کسی مذہبی، علاقائی یا قومیتی تعصب کی چادر میں چھپا کر مطمئن ہوجاتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق صرف شام میں ایسے محصور علاقوں کی تعداد ۱۵ ہے جن میں ساڑھے چار لاکھ سے زائد انسان حشرات الارض سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ عراق کے علاقے ’المِقدادیۃ‘ اور یمن کے شہر’تَعِز‘ میں بھی یہی صورت حال ہے۔ عراق کے سابق نائب صدر طارق الہاشمی کے مطابق’المقدادیۃ‘ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ وہاں کی مساجد کئی روز سے اذان کی آواز سے محروم ہیں۔ مذہبی اختلاف و تعصب اور شیعہ و سُنّی کی تقسیم یقیناًوہ زہرِ قاتل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس سے اسلامی تحریکوں کو محفوظ رکھا ہے، اور وہ پوری اُمت کو اس زہر سے محفوظ کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ تاہم، یہاں مرض کی تشخیص و شدت بیان کرنے کے لیے مجبوراً یہ اصطلاحات ہی استعمال کرنا پڑرہی ہیں۔ گذشتہ دو ماہ کے دوران المقدادیۃ میں اہلسنت کی اتنی مساجد شہید کردی گئیں کہ خود عراق کے اعلیٰ ترین شیعہ رہنما آیت اللہ السیستانی نے ۱۵جنوری کو اپنے خطبہء جمعہ میں عراقی حکومت کو اس مجرمانہ غفلت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے یہ سلسلہ رُکوانے کا مطالبہ کیا۔ ضلع ’دیالا‘ ایران کے ساتھ جس کی سرحد ۲۴۰ کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے اور جس کی آبادی کا ۸۵ فی صد اہل سنت پر مشتمل تھا، بھی ایسی ہی بربادی کا شکار ہے۔ چند علاقوں کے یہ نام تو محض ایک مثال ہیں وگرنہ ۲۰۰۳ میں امریکی افواج کی آمد کے بعد سے پورا عراق، اور اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ کرنے والے شامی عوام کے خلاف بشار الاسد کی فوجی کارروائیاں شروع ہونے کے بعد سے پورا شام، خون آشام ہے۔ ان دونوں ملکو ں میں اب تک بلامبالغہ لاکھوں انسان اور ہزاروں مساجد اور امام بارگاہیں شہید کی جاچکی ہیں۔ صد افسوس کہ دونوں ملک اب کبھی شاید پہلے والے ممالک نہ بن سکیں گے۔
عراق تین ملکوں میں تقسیم کیا جاچکا ہے اور شام کئی ٹکڑیوں میں۔ یہ بندگان خدا ان ٹکڑیوں میں بٹ کر ہی کوئی نئی زندگی شروع کرلیتے تو شاید غنیمت ہوتا، لیکن صہیونی ریاست اور عالمی طاقتوں کا ایجنڈا ابھی مکمل نہیں ہوا۔ ابھی ان کا خون مزید بہایا جانا ہے۔ لڑانے اور لڑنے والوں کے خوں ریز جبڑوں سے مسلسل ایک ہی جہنمی آواز سنائی دے رہی ہے: ھل من مزید…؟ ھل من مزید…؟ مذہبی تعصب کے ساتھ ساتھ اب یہ تنازعات ایک مہیب علاقائی جنگ میں بھی بدل گئے ہیں۔ پہلے تو اظہار نہیں ہوتا تھا لیکن اب مسلسل اعتراف و اعلان کیے جارہے ہیں۔شام اور عراق سے آئے روز ایران اور لبنان (حزب اللہ) کے عسکری ذمہ داران اور سپاہیوں کے تابوت و جنازے واپس آتے ہیں۔ ان کے اعلیٰ عسکری منصوبہ ساز وہاں مستقلاً موجود ہیں۔ ایرانی ملیشیا القدس بریگیڈ کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی وہاں کے اصل حکمران قرار دیے جاتے ہیں۔ گذشتہ ماہ شام میں ایرانی پاس داران انقلاب کے ایک اہم ذمہ دار حمید رضا اسد اللہی مارے گئے، تو جنازے کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پاس داران کے سربراہ محمد علی جعفری نے ایک تہلکہ خیز بیان دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم نے گذشتہ عرصے میں شام، عراق، یمن، افغانستان اور پاکستان کے ۲ لاکھ نوجوانوں کو فوجی تربیت دی ہے‘‘۔ سوال یہ ہے کہ ان نوجوانوں کو عسکری تربیت دینے کا مقصد کیا ہے؟ برادر مسلم ممالک کے مابین یہ کھلی جنگ کس حد تک سنگین ہوچکی ہے اس کا اندازہ اسی مثال سے لگا لیجیے کہ گذشتہ مہینے شام میں حزب اللہ کے ایک بڑے کمانڈر سمیر قنطار قتل ہوگئے۔ سَمیرِ قنطار اُمت مسلمہ کے وہ ہیرو تھے کہ ۲۸ سال تک اسرائیل کی قید میں رہے۔ رہائی کی کئی ناکام کوششوں کے بعد بالآخر حماس کے ہاتھوں اغوا ہونے والے صہیونی فوجی کے بدلے میں رہائی پانے والوں میں درجنوں فلسطینی قیدیوں کے علاوہ لبنانی سَمِیْر القنطار بھی شامل تھے۔ ان کی رہائی لبنان میں ایک قومی جشن میں بدل گئی اور دنیا بھر کے ٹی وی سکرینوں پر براہِ راست دکھائی گئی۔ لیکن صہیونی ریاست کے خلاف اتنی طویل جدوجہد کی تاریخ رکھنے والا سَمِیْر مسجد اقصیٰ پر قابض یہودی سے لڑائی میں شہید نہیں ہوا، گذشتہ ماہ بشار الاسد کے فوجیوں کے ساتھ مل کر مظلوم شامی عوام کے خلاف لڑتے ہوئے مارا گیا۔ شام میں ان کا مارا جانا خطے کے عوام میں مزید تنازعے اور اختلافات کا باعث بنا۔ شامی عوام اور ان کے حامیوں نے اس قتل پر مبارک بادوں کا تبادلہ کیا، جب کہ بشارانتظامیہ اور حزب اللہ نے اس پر گہرے صدمے اور دکھ کا اظہا ر کیا۔ یہ اختلاف اتنا بڑھا کہ اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی طویل تاریخ رکھنے کی وجہ سے تحریک حماس نے سمیر کے لیے چند سطری تعزیتی بیان جاری کردیا، تو اس پر شامی اور خلیجی عوام نے سخت احتجاج کرتے ہوئے حماس کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔
 معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا، چند ہی روز بعد بشار الاسد کے خلاف مزاحمت کی ایک بڑی علامت اور ۴۰ مختلف شامی مسلح گروہوں کے اتحاد ’جیش الاسلام‘ کے سربراہ زھران علوش قتل ہوگئے۔ ان پر روسی جہازوں نے بمباری کی تھی۔ ان کی شہادت پر الاخوان المسلمون شام سمیت بشار مخالف تمام اطراف نے سوگ منایا، لیکن ایران و حزب اللہ سمیت بشار کے حامی تمام عناصر نے اس پر خوشی کا جشن منایا۔ اس موقعے پر صرف ایک ملک ایسا تھا جس نے ان دونوں قائدین کے قتل پر سُکھ کا سانس لیا اور وہ تھا اسرائیل۔ تیسری جانب اسی عرصے میں ترکی، عراق، لیبیا، یمن، نائیجیریا اور سعودی عرب میں کئی ایسے خوں ریز بم دھماکے ہوئے، جن میں سیکڑوں بے گناہ شہری شہید و زخمی ہوئے۔ ان دھماکوں میں سے اکثر کی ذمہ داری سرکاری طور پر داعش نے قبول کرتے ہوئے اپنی ان کارروائیوں میں تیزی لانے کا اعلان کیا۔ اب ان جھلکیوں کی مدد سے آج مشرق وسطیٰ کا نقشہ دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ ترکی کا اپنی فضائی حدود میں گھس آنے والا روسی جنگی جہاز مار گرانا، روس کا ترکی کو سنگین دھمکیاں دینا یا سعودی عرب میں سزاے موت پانے والے ۴۷ افراد میں ایک شیعہ رہنما بھی شامل ہونے پر ایران کا شدید مشتعل ہوجانااو رتہران میں سعودی عرب کا سفارت خانہ اور مشہد میں اس کا قونصل خانہ جلاڈالنا، اصل تنازع نہیں، بلکہ یہ خطے میں جاری ایک بڑی جنگ کے چند خوف ناک شعلے ہیں۔ عالم اسلام کے سب دشمن ان شعلوں کو مزید ہوا دینے کے لیے سرگرم ہیں۔ امریکا، اسرائیل اور دیگر مغربی ممالک کے فکری مراکز تجزیے کررہے ہیں کہ
:what would a Saudi – Iran war look like? dont look now, but it is already here
(ایران و سعودی عرب کی جنگ کیسی ہوگی؟ اگرچہ یہ اس وقت دکھائی نہیں دیتی لیکن یہ عملاً جاری ہے)۔
اعداد و شمار شائع کیے جارہے ہیں کہ افواج اور عسکری سازوسامان کے اعتبار سے سعودی عرب ۲۸ ویں، جب کہ ایران ۲۳ ویں نمبر پر ہے۔ سعودی عرب کی افواج ۲ لاکھ ۳۳ ہزار، جب کہ ایران کے ۵لاکھ ۴۵ہزار ہیں۔ سعودی عرب کے پاس ۱۲۱۰ ٹینک ہیں اور ایران کے پاس ۱۶۵۸۔ سعودی عرب کے پاس ۱۵۵ جنگی جہاز ہیں اور ایران کے پاس ۱۳۷ (Globe Fire Power)۔ اس طرح کے اعداد و شمار شائع کرنے کا ایک مقصد یقیناًیہ بھی ہے کہ جنگ کا ماحول اور خوف کی فضا بنا کر مزید اسلحہ بیچا جائے۔ اسی ماحول میں ۱۳ جنوری کو کویتی پارلیمنٹ نے اپنے محفوظ مالی ذخائر میں سے اضافی ۱۰؍ ارب ڈالر منظور کیے تاکہ ان سے مزید اسلحہ خریدا جاسکے۔ یہی عالم خطے کے دیگر کئی ممالک کی طرف سے کیے جانے والے کئی بڑے عسکری معاہدوں کا ہے۔ داعش کے خلاف امریکی جنگ بھی خود اعلیٰ امریکی ذمہ داران کے بقول آیندہ ۳۰ برس تک جاری رہنا اور اس پر ۵۵۰؍ ارب ڈالر کا بجٹ آنا ہے۔ اس بجٹ کا بڑا حصہ بھی خطے کے مسلم ممالک ہی سے لیا جانا ہے۔ یہ دونوں پہلو (۳۰ سالہ جنگ اور ۵۵۰؍ ارب ڈالر کا بجٹ) ذہن میں رکھیں تو پھر یہ راز کوئی راز نہیں رہتا کہ تمام تر فوجی کارروائیوں اور بمباری کے باوجود بھی داعش کیوں کر ایک کے بعد دوسرا میدان سر کرتی جارہی ہے۔ امریکی کونسل براے اُمور خارجہ کے سینئرمحقق میکازنکو (Micah Zenko) ۷جنوری کو اپنی ایک تحریر میں گذشتہ ایک سال میں امریکا کی طرف سے مسلمان ملکوں پر گرائے گئے بموں کے اعداد و شمار بتاتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’اوباما انتظامیہ نے صرف ۲۰۱۵ میں عراق، شام، افغانستان، پاکستان، یمن اور صومالیہ پر ۲۳ہزار ایک سو۴۴ بم برسائے‘‘۔ (حقیقی تعداد یقیناًاس سے زیادہ ہوسکتی ہے کہ اس میں پاکستان پر برسائے گئے بموں کی تعداد صرف ۱۱ لکھی ہے)۔ لیکن خود زنکو اس امر پر تمسخر خیز حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ ’’امریکی وزارت دفاع کے ذمہ داران کے مطابق اس بمباری سے داعش کے ۲۵ ہزار مسلح عناصر مار ے گئے۔ ۲۰۱۴ میں سی آئی اے کا کہنا تھا کہ داعش کے مسلح عناصر کی تعداد ۲۰ سے ۳۱ ہزار تک ہے۔ ان میں سے ۲۵ ہزار مارے جانے کے بعد اب ان سے پوچھیں کہ داعش کے ان عناصر کی تعداد کیا ہے تو اَب بھی جوا ب یہی ملتا ہے: ۳۰ ہزار‘‘۔ زنکو کے بقول اس نئے امریکی حسابی فارمولے کے مطابق اب ۳۰ ہزار منفی ۲۵ ہزار ۳۰ ہزار کے مساوی ہوا کریں گے۔ زنکو نے اس پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ افغانستان میں ۱۶ سالہ جنگ کے بعد بھی فارن پالیسی جیسے وقیع رسالے یہ لکھ رہے ہیں کہ طالبان افغانستان میں پہلے سے کسی بھی وقت سے زیادہ علاقے پر قابض ہیں۔ جملۂ معترضہ کے طور پر یہاں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ داعش کے ساتھ جاملنے والوں کی ایک تعداد مخلص اور دین دار نوجوانوں پر بھی مشتمل ہے۔ یہ لوگ بظاہر اسلامی ریاست اور اسلامی خلافت کا قیام او رجنت کا حصول چاہتے ہیں۔
نیتوں کا حال تو اللہ جانتا ہے لیکن نیک نیتی کے ساتھ ساتھ ظاہری عمل بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل تعلیمات کے مطابق ہونا ضرور ی ہے۔یہ نہ ہو کہ صرف ذرائع ابلاغ اور ظاہری اعلانات سے متاثر ہو کر کوئی ایسی راہ اختیار کرلی جائے کہ یہ قرآنی وصف صادق آنے لگے:
قُلْ ھَلْ نُنَبِّءُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا o اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ ھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا o (الکہف ۱۸:۱۰۳۔
’’اے نبیؐ ان سے کہو، کیا ہم تمھیں بتائیں کہ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام و نامراد لوگ کون ہیں؟ وہ کہ دنیا کی زندگی میں جن کی ساری سعی و جہد راہِ راست سے بھٹکی رہی اور وہ یہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں‘‘۔
جو کچھ وہاں ہورہا ہے اس کے بارے میں خود شام اور عراق کے جلیل القدر اور مخلص علماے کرام کی راے بھی سن لیجیے۔ شام کے معروف عالم دین اور رابطۂ علماے شام کے ذمہ دار علامہ مجد مکی کا کہنا ہے کہ: ما فعلتہ داعش في صد الناس عن دین اللّٰہ لم تفعلہ جیوش جرارۃ قوامہا ملایین الجنود،’’ لوگوں کو اللہ کے دین سے متنفر کرنے کے لیے جو خدمت داعش نے انجام دی ہے وہ لاکھوں سپاہیوں پر مشتمل بڑے بڑے عالمی لشکر بھی نہیں دے سکتے تھے‘‘۔ یہ درست ہے کہ نظریۂ سازش بنیادی طور پر انسان کو مایوس اور بے دست و پا کردیتا ہے، لیکن یہ بھی کسی طورممکن نہیں کہ بندہ اپنے سامنے وقوع پذیر حقائق سے آنکھیں بند کرلے۔ شام میں اپنے پورے لاؤلشکر سمیت آکودنے والے روس ہی کو دیکھ لیجیے کہ اس کی تمام تر کارروائیوں کا نشانہ مظلوم شامی عوام بن رہے ہیں۔ شامی عوام ہی کا ساتھ دینے پر وہ ترکی کو سبق سکھانے اور اسے عبرت کا نشان بنادینے کا اعلان کررہا ہے۔ لیکن بظاہر اعلان اس کا بھی یہی ہے کہ وہ داعش سے جنگ کرنے اور دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے آیا ہے۔ اپنی اس آمد کو سیاسی اور عوامی حمایت دلوانے کے لیے اس نے مصر کے صحراے سینا میں مار گرائے جانے والے روسی مسافر جہاز کو بھی خوب پراپیگنڈے کی بنیاد بنایا۔ اس نے بھی اسے داعش کی کارروائی قرار دیا، اور خود داعش نے بھی ذمہ داری قبول کی۔ روسی مسافر جہاز میں مارے جانے والے بے گناہ شہری یقیناًظلم کا شکار ہوئے۔ لیکن ذرا ایک نظر برطانوی اخبار ڈیلی میل میں ۲۶ دسمبر ۲۰۱۵ء کو شائع شدہ روسی خفیہ ایجنسی کے ایک سابق افسر پورس کارپشکوف کا وہ تفصیلی انٹرویو بھی دیکھ لیجیے جس میں اس نے تہلکہ خیز انکشافات کیے ہیں۔ روس سے اپنے اہل خانہ کے ساتھ فرار ہوکر برطانیہ میں پناہ لینے والے اس سابق روسی افسر کا پُرزور دعویٰ ہے کہ صحراے سینا میں تباہ ہونے والا جہاز روس نے خود گرایا تھا۔ اس کے بقول روسی خفیہ ادارے کے خصوصی شعبے GRU میں یہ منصوبہ خود روسی صدر کی منظوری سے تیار ہوا، تاکہ اس کے نتیجے میں ایک طرف داعش کا ہوّا مزید مستحکم ہو اور دوسری طرف روس خطے میں اپنے اثر و نفوذ کے دیگر منصوبوں کو رُوبہ عمل لاسکے۔ اس روسی افسر نے منصوبے پر عمل در آمد کی جزئیات تک بیان کرتے ہوئے ان تمام افراد کے نام، ان کا منصوبہ، جہاز میں ٹائم بم پہنچانے کا طریق کار، دھوکے سے استعمال ہونے والی روسی سیاح خاتون اور اس کی سیٹ نمبر وغیرہ سمیت سب کچھ تفصیلاً بتادیا ہے۔
اب اگر فرض کرلیا جائے کہ یہ ساری کہانی جھوٹی اور دعویٰ غلط ہے تو روسی ذمہ داران، برطانوی قانون کے مطابق اخبار اور انٹرویو دینے والے پر کروڑوں روپے ہرجانے کا دعویٰ کرسکتے تھے۔ ہرجانے کا کوئی دعویٰ یا کوئی تردید تو نہیں ہوئی، البتہ ۲۱ جنوری کو برطانوی عدالت کے ایک فیصلے سے کارپشکوف کے اس دعوے کو تقویت ضرور ملی۔ عدالت نے ۲۰۰۶ء میں لندن میں ایک روسی جاسوس الگزنڈر لیٹفینکو کے قتل کا فیصلہ سنایا ہے۔ اس فیصلے کے مطابق سابق روسی جاسوس کو روسی خفیہ ایجنسی نے زہر دے کر قتل کیا تھا۔ قصور اس کا یہ تھا کہ اس نے اپنی ایک کتاب میں کئی خوف ناک انکشافات کر دیے تھے۔ ان میں یہ بات بھی شامل تھی کہ چیچنیا میں اپنی فوجیں اُتارنے سے پہلے، راے عامہ ہموار کرنے کے لیے کئی روسی شہری آبادیوں میں چیچن ’باغیوں‘ سے منسوب بم دھماکے، دراصل روس نے خود کروائے تھے، اور پوٹن نے ان کی سرپرستی کی تھی۔ یہ خبریں بھی ساری دنیا جانتی ہے کہ شام میں روسی افواج کی آمد کے موقع پر روسی صدر پوٹن اور صہیونی وزیراعظم نیتن یاہو کے مابین تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ بشار الاسد کی حمایت کے لیے روس کی آمد بظاہر اسرائیل کے اہداف سے متصادم ہے، لیکن دونوں ملکوں نے باہم تعاون اور مفاہمت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ باہم قریبی روابط رکھیں گے تاکہ دونوں کسی غلط فہمی کی بناپر ایک دوسرے کو نقصان نہ پہنچا بیٹھیں۔ شاید اس سے بھی زیادہ حیرت آپ کو امریکی صدر اوباما کے حالیہ سالانہ خطاب سے متصل واشنگٹن کے وڈرو ویلسن ریسرچ سنٹر (Woodrow Wilson International Center for Scholars) میں اسرائیلی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل ڈوری گولڈ کے خطاب سے ہوگی۔ یہ ریسرچ سنٹر واشنگٹن میں ایرانی نفوذ کا اہم ذریعہ، اور ڈوری گولڈ اسرائیل کے حقیقی وزیر خارجہ سمجھے جاتے ہیں۔ شام کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈوری گولڈ نے بعینہٖ وہ بات کہی جو کویت پر حملے کا سبز اشارہ دیتے ہوئے امریکی سفیر نے صدام حسین سے کہی تھی۔ اس نے کہا : ’’اسرائیل شام کے اندرونی معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کرنا چاہتا‘‘۔ دوسری اہم بات جو اس نے کہی، اس کا خلاصہ یہ تھا کہ گولان (مقبوضہ شامی علاقہ) کے گردونواح میں ایرانی اثرونفوذ میں اضافہ اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جائے گا اور اسرائیل کسی صورت اس کی اجازت نہیں دے گا۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ دمشق پر آپ کا قبضہ ہمیں قبول اور گولان پر ہمارے قبضے کو آپ کسی صورت چیلنج نہ کریں۔
 یہ امر بھی ہر شک سے بالاتر ہے کہ اس علانیہ اور خفیہ سفارت کاری، امریکا ایران ایٹمی معاہدے، ایران سے اقتصادی پابندیاں ہٹنے کامطلب ہرگز یہ نہیں لیا جاسکتا کہ اسرائیل اور امریکا ایران، سعودی عرب یا کسی اور مسلم ملک کے حقیقی خیر خواہ اور دوست بن گئے ہیں۔ امریکا اپنے قوانین اور معاہدوں کی روشنی میں اس بات کا پابند ہے کہ مشرق وسطیٰ کے کسی بھی ملک کو فوجی سازوسامان فروخت کرتے ہوئے یہ بات یقینی بنائے کہ اس سے خطے میں اسرائیل کی عسکری بالادستی متاثر نہیں ہوگی۔ امریکی پالیسی ساز اداروں میں صہیونی نفوذ ان سے خود امریکی مفادات کے منافی فیصلے تو کرواسکتا ہے، اسرائیل کو ناگوار محسوس ہونے والے کسی اقدام کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ دہشت گردی کے نام پر اس کی جنگ اور اس کی پالیسیوں کا مرکز و محور، مسلم ممالک کی مشکیں کسنا اور اسرائیلی ریاست کا دفاع یقینی بنانا ہے۔ اسی مقصد کی خاطر تباہ کن اسلحہ رکھنے کا جھوٹا پروپیگنڈا کرکے عراق کو نشان عبرت بنایا گیا تھا اور یہ قتل و غارت ہنوز جاری ہے۔ اسرائیل ہو یا کوئی بھی عالمی سامراجی قوت، اس وقت سب کا مشترک ہدف ایک ہی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اختلافات کی یہ آگ کسی صورت بجھنے نہ دی جائے۔ جو فریق بھی کمزور ہونے لگے گا، وہ اسے کسی نہ کسی طور آکسیجن دیتے رہیں گے۔
اگر کہیں اقتصادی پابندیاں ہٹائیں گے تو بھی تیل کی قیمت میں تاریخی کمی کرتے ہوئے اسے عملاً بے وقعت کردیں گے۔ داعش اور دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر ہزاروں بم برسائے جاتے رہیں گے، لیکن وہ ایک کے بعد دوسرے ملک میں نمودار ہوتی رہے گی۔ پس چہ باید کرد ایسے میں اصل امتحان مسلم ممالک اور ان کی قیادت کا ہے۔ اگر جانتے بوجھتے بھی کسی نہ کسی تعصب، ضد یا نفرت و عداوت کا شکار ہو کر اور صرف اپنے اپنے موقف کو درست قرار دیتے ہوئے دشمن کے بچھائے جال میں پھنستے رہے، تو شاید زیادہ وقت نہ گزرے گا کہ سب ہی ندامت و شکست سے دوچار ہوں گے۔ لیکن اگر اس وقت کھلے ذہن، اعلیٰ ظرفی اور تمام تعصبات سے بالاتر ہوکر فیصلے کیے گئے تو یقیناًدوجہاں کی سرفرازی قدم چومے گی۔ بصورت دیگر ظلم اور ظالموں کے بارے میں قرآن کے اس خطاب کا مخاطب ہر ظالم اور اس کا ہر مددگار ہوگا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’یہ ظالم لوگ جو کچھ کررہے ہیں ، اللہ کو تم اس سے غافل نہ سمجھو۔ اللہ تو انھیں ٹال رہا ہے۔ اس دن کے لیے جب حال یہ ہوگا کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہیں، سر اُٹھائے بھاگے چلے جارہے ہیں، نظریں اُوپر جمی ہیں اور دل اُڑے جاتے ہیں۔ اے نبیؐ، اُس دن سے تم انھیں ڈرادو، جب کہ عذاب انھیں آلے گا۔ اس وقت یہ ظالم کہیں گے کہ ’’اے ہمارے رب، ہمیں تھوڑی سی مہلت اور دے دے، ہم تیری دعوت پر لبیک کہیں گے اور رسولوں کی پیروی کریں گے۔‘‘ (مگر انھیں صاف جواب دیا جائے گا) کہ ’’کیا تم وہی لوگ نہیں ہو جو اس سے پہلے قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ ہم پر تو کبھی زوال آنا ہی نہیں ہے؟ حالانکہ تم ان قوموں کی بستیوں میں رہ بس چکے تھے جنھوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا تھا او ردیکھ چکے تھے کہ ہم نے اُن سے کیا سلوک کیا اور اُن کی مثالیں دے دے کر ہم تمھیں سمجھا بھی چکے تھے۔ انھوں نے اپنی ساری ہی چالیں چل دیکھیں، مگر اُن کی ہر چال کا توڑ اللہ کے پاس تھا اگرچہ اُن کی چالیں ایسی غضب کی تھیں کہ پہاڑ اُن سے ٹل جائیں۔ ’’پس اے نبیؐ، تم ہرگز یہ گمان نہ کرو کہ اللہ کبھی اپنے رسولوں سے کیے ہوئے وعدوں کے خلاف کرے گا۔ اللہ زبردست ہے اور انتقام لینے والا ہے‘‘۔(ابراہیم ۱۴:۴۲۔۴۷)

* آج تمام مسلم ممالک اور پوری اُمت مسلمہ کو اس ایک نکتے پر متفق ہونا ہوگا کہ: ظالم خواہ بشار الاسد ہو، یا جنرل سیسی، حوثی باغی ہوں یا حسینہ واجد، روس و امریکا ہو یا کوئی بھی بے مہار مسلح مسلمان گروہ، ہم کسی صورت اس کا ساتھ نہیں دیں گے۔
* ہر طرح کی منافقت اور دورنگی سے کنارہ کشی کرنا ہوگی۔ اگر ایک طرف اتحاد و یک جہتی کے دعوے ہوں لیکن ساتھ ہی ساتھ اپنے اپنے فرقے اور مسلک کے مفادات کی خاطر اسلحوں کے انبار، پروپیگنڈے کی یلغار، دولت کے ڈھیر اور عسکری تربیت کے خفیہ و علانیہ کیمپ بھی فعال رہیں گے تو ہم کسی دوسرے کو نہیں، خود اپنے آپ ہی کو دھوکا دے رہے ہوں گے۔
* تمام انبیاے کرام، تمام اہل بیت اطہار اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا احترام بجا لانا ہوگا۔ کسی بھی مسلمان کی دل آزاری سے اجتناب یقینی بنانا ہوگا۔ اگر کہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مجوسی قاتل ابو لؤلؤۃ فیروز کی قبر کو باقاعدہ مزار و عبادت گاہ کا درجہ دے کر اس کی شان میں قصیدے پڑھے جاتے رہیں گے، صحابہ کرامؓ پر تبرا بازی کی مجالس بڑے بڑے چینلوں اور ویڈیوز کے ذریعے عام کی جاتی رہیں گی، یا دوسری طرف بنیادی شیعہ عقائد رکھنے والوں کو خارج از ملت قرار دینے کی مہمات کی سرپرستی ہوتی رہے گی، تو اختلافات کی آگ کسی صورت نہیں بجھ پائے گی۔
* افراد، جماعتوں، حکومتوں اور ریاستوں کو تمام تر علاقائی، مذہبی، گروہی، نسلی اور لسانی تعصبات کو بالاے طاق رکھتے ہوئے متحد ہونا ہوگا۔ ان تعصبات کی سنگینی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کردی کہ: دُعوھَا فإنہا مُنْتِنَۃ،’’تعصب کو چھوڑ دو یہ بدبودار مُردار ہے‘‘۔
* مصر کی جیلوں میں قید ۴۰ ہزار سے زائد، بنگلہ دیش میں ۱۰ ہزار سے زائد اور شام و عراق کے تعذیب خانوں میں ہزاروں افراد سمیت دنیا میں کہیں بھی بے گناہ مسلمانوں پر توڑے جانے والے مظالم بند کروانا ہوں گے۔ ۴۰، ۴۰ سال پرانے جھوٹے واقعات کو بنیاد بنا کر دی جانے والی پھانسیوں کا سلسلہ رکوانے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس ضمن میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بھی ذہن میں تازہ رکھنا ہوگی کہ :اتّقِ دعوۃ المظلوم فإنّہ لیس بینہ و بین اللہ حجاب (بخاری، جلد اول، حدیث: ۱۴۳۷) مظلوم کی بددُعا سے بچو کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا‘‘۔ یہ بھی یاد رہے کہ مظلوم کی بددُعا ظالم کے خلاف بھی ہوتی ہے اور اس کے سرپرستوں اور مددگاروں کے خلاف بھی۔
* پاکستان کی طرف سے سعودی عرب و ایران کے مابین رابطہ کاری کا آغاز فی الحال غیر مؤثر ہونے کے باوجود خوش آیند اور مثبت قدم ہے۔ ترکی، قطر اور ملایشیا سمیت دیگر مسلم ممالک کو شامل کرکے ان کوششوں کو مربوط و مؤثر بنانا ہوگا۔
* سعودی عرب کی جانب سے ۳۴ ممالک پر مشتمل اتحاد کا اعلان، فی الحال صرف ایک اعلان ہونے کے باوجود ایک اہم اور مثبت قدم ہے۔ اس اعلان کو حقیقت میں بھی بدلنا ہوگا اور اس کے بارے میں پیدا کیے جانے والے بعض تحفظات کا بھی مداوا کرنا ہوگا۔اس میں شریک ممالک غیرجانب داری اور اخلاص سے کوشش کریں تو یہ عالمِ اسلام کا ایک مؤثر عسکری پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔
* چند ہفتے قبل سعودی عرب سے آنے والی اس اطلاع سے بھی اُمت کے بڑے حصے کو تشویش ہوئی کہ وہاں تعلیمی اداروں کی لائبریریوں سے امام حسن البنا، سید ابوالاعلیٰ مودودی، سید قطب، محمد قطب، علامہ یوسف القرضاوی، عبد القادر عودہ، مالک بن نبی جیسے اعلیٰ پائے کے رہنماؤں کی کتب ہٹانے کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔ آج کے ابلاغیاتی دور میں اس طرح کے اعلانات تو ویسے ہی غیر مؤثر ہیں، ابلاغیاتی وسائل نے معلومات اور نظریات و افکار کی راہ سے تمام دیواریں ہٹا دی ہیں۔ نوٹس لینا ہوگا کہ کروڑوں دلوں کو سعودی عرب کے بارے میں مکدر کرنے کی یہ ’خدمت‘ کس نے اور کیوں انجام دی؟اگرچہ وزیر موصوف کو اس ذمہ داری سے ہٹا دیا گیا، لیکن اس ناقابل فہم اعلان سے جو نقصان پہنچنا تھا، وہ ابھی اپنی جگہ باقی ہے۔
* تمام مسلم حکومتوں اور عوام کو یہ حقیقت بھی ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہیے کہ عالم عرب سے آنے والی نوید بہار کسی حسنی مبارک، جنرل سیسی، کرنل قذافی، بشار الاسد، یمنی یا تیونسی صدر کے خلاف نہیں ڈکٹیٹر شپ اور ظلم پر مشتمل نظام کے خلاف تھی۔ یہ درست ہے کہ اس وقت اس بہار کو ایک عارضی خزاں نے آن لیا ہے لیکن یہ ایک ابدی سچائی ہے کہ مظلوم کے بارے میں کہی گئی اس حدیث قدسی کو بہرصورت حقیقت بن کر رہنا ہے کہ:وعزتی وجلالی لأنصرنک و لو بعد حین، ’’مجھے میری عزت اور جلال کی قسم! میں یقیناًتمھاری نصرت کروں گا خواہ وہ (میری حکمت کے مطابق) کچھ دیر کے بعد ہی کیوں نہ ہو‘‘۔
ہمارا ایمان ہے کہ اگر ہم خلوص کے ساتھ جدوجہد کرتے رہیں گے تو اللہ پاک ہمیں کامیابی سے ہم کنار فرمائیں گے۔

(بشکریہ ۔ ترجمان القرآن)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *