“با خُدا دیوانہ باشد، با محمد ہوشیار!”

تحریر : شاہد ہاشمی، کراچی

السلام علیکم!
برادران!!
آج صبح سے وہاٹس ایپ کے مختلف گروپوں میں جاری مباحثہ دیکھ رہا ہوں۔ نتیجتاً کچھ میرے اندر کے رِندِ (نا) بادہ خوار کی حمیّت نے بھی جوش مارا، جیسے مرحوم اختر شیرانی نے گستاخِ نبئ پاک کے منہ پر بَھرا جام پھینک کر کہا تھا کہ
“با خُدا دیوانہ باشد، با محمد ہوشیار!”
سو یہ کچھ پیراگراف ملاحظہ کے لیے حاضر ہیں۔ کسی کو قائل کرنے کے لیے نہیں لکھے۔ بس حُبِّ آقا کے جذبہ و روایت کو آگ میں ڈالے جانے پر، براہیمی و ہاشمی خون کی لاج رکھنے کے لیے، ضبطِ تحریر میں لا رہا ہوں ۔۔۔ آتشِ نمرود بُجھانے کو جس طرح ننھی چڑیا، چونچ بھر پانی لائی تھی، تاکہ آخرت میں آقا کے سامنے اپنا عذر پیش کرسکے۔
پاکستان میں ایک گورنر کے قتل پر۔۔۔ ایک غریب سپاہی کو۔۔۔ ملنے والی سزائے موت پر۔۔۔ وقت “ضائع” کیے بغیر۔۔۔ پہلے سے کسی کو بھنک پڑے بغیر۔۔۔ بڑی رازداری سے۔۔۔ “29 فروری” کو۔۔۔جی ہاں 29 فروری کو۔۔۔۔۔ پھانسی دے دی گئی۔۔۔!!!
یوں قانون کا بول بالا ہوگیا۔۔۔
“میاں صاحبان آف جاتی امرا” کے عہدِ سلطانی میں، انصاف اور قانون کا سِکّہ رائج ہونے میں آخری رُکاوٹ بھی دُور ہوگئی۔۔۔۔۔ اِس حالت میں ۔۔۔
کہ جب میرٹ، فوری انصاف، امانت و دیانت، غریب پروری۔۔۔ حقوقِ انسانی کی روشنی پھیلی ہوئی ہے، اور ہر طرف روشن خیالی کی گونج ہے۔
پاکستان میں بس یہی ایک سزائے موت تھی جو رُکی ہوئی تھی۔ اِس سے پاکستان کے ماتھے پر کلنک کا جو ٹِیکا چِپکا رہ گیا تھا، وہ شریفوں نے دھودیا۔
اِس ملک میں سیکڑوں افراد، جُرمِ قتل پر سزائے موت نہیں، قید کی سزا پاتے ہیں۔۔۔ کوئی بات نہیں اگر ممتاز قادری کو پھانسی ہوگئی!
سیکڑوں قاتلوں کو سزائے موت بھی سُنائی جاچُکی ہے۔ دیارِ مغرب کی خفگی کا لحاظ کرکے، برسوں عمل نہیں ہوا۔ کوئی بات نہیں !
وڈیروں، جاگیرداروں، سرداروں، زرداروں اور “خود مختار اداروں” سے منسلک قاتلوں کو دار نہیں چڑھایا جاتا۔ یہ ضروری تو نہیں!
ریمنڈ ڈیوس جیسے عِفریت کو جس “شریعہ لاء” کی مدد اور کروڑوں روپے مہیا کرکے، اور جن حکومتی اور اقتداری اداروں کے در پردہ و خاموش تعاون سے رہا کرایا گیا، اُس قانون اور اُن قوتوں پر “عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مغلوب” غریب سپاہی کا کوئی حق نہیں!!
عزیزانِ گرامی، آپ لوگ “اہلِ مصر” کی طرح، اس مباحثہ اور مناظرہ میں لگے رہیے، کہ سلمان تاثیر نے اصلاً توہینِ آقائے دو جہاں کی تھی یا نہیں۔ ممتاز قادری کو کیا حق و اختیار کہ خود کو جس دانائی سُبُلَ، ختم الرُسُل، مولائے کُل کا غلام سمجھا، اُن کی ناموس پر مر مِٹا اور قانون ہاتھ میں لے لیا۔ (وہی قانون، جو صرف ضعیفوں پر لاگو ہوتا ہے۔۔۔ ضعیف چاہے فرد ہو یا دینِ اسلام! )
آپ ڈکٹیٹر ضیا کے دَور میں بننے والے قوانین کو اپنی “اصولی و جمہوری و قانونی” کسوٹی اور میزان پر، پرکھ کر، تول کر دیکھتے جائیے کہ اُن قوانین میں بڑا عدم توازن ہے، شدت پسندی ہے، “آزادئ رائے و اظہار” کے بتوں کی ناک پر بیٹھی مکھیاں ہیں، جِنہیں ہٹانا، اُڑانا، بھگانا، عین عدل و انصاف کے مطابق ہے۔
اپنے اِس یقین و عزم کو دُہراتے رہیے کہ مُلائیت اور شکست خوردہ ذہنیت نہیں، جدیدیت اور دنیا کے مقبولِ عام چلن کو لے کر ہی، آگے بڑھا جاسکتا ہے، ترقی کی جاسکتی ہے، اِس میں سے حصہ پایا جاسکتا ہے۔
بھائیو! عہدِ حاضر و موجود ہی نہیں، اگلے زمانے کو دیکھنے اور ملحوظ رکھنے کی بات میں، بحمدللہ، مَیں آپ سے پیچھے نہیں، آگے ہوں گا۔
مگر “اَگلے زمانوں” کو بھی، اسلام کی کسوٹی کے مطابق ہی، مکمل اکائی مان کر، اور صد فیصد “ریلی وینٹ” جان کر، دیکھنا اور سوچنا ضروری سمجھتا ہوں۔
میں نہ کسی “آرتھوڈوکس اسلام” سے واقف ہوں، نہ کسی “کیتھولک اسلام” سے، نہ کسی “پروٹیسٹنٹ اسلام” سے۔
دین کے بنیادی عقائد اور ایمانیات، اَساسی اَقدار، اُصولی اُمور، کلیدی اَخلاقیات، مقاصدِ شریعہ کو ۔۔۔۔۔۔ مستقل اور قیامت تک کے لیے دائمی مانتا ہوں۔ کسی دُنیوی قوت کے خوف سے اور کسی بڑے سے بڑے انعام کی توقع پر، اِس موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
ہاں، بقیہ اُمور، لائقِ نظرثانی بھی ہیں اور قابلِ تغیر بھی۔
رحمة للعٰلمین کی غلامی میں، عَفْوِ عام اور درگزر کرنے کا بھی حامی ہوں، اور حضرتِ عمرِ فاروق کی طرح غیر معمولی حالات میں، حدود کو مؤخر کرنے کو بھی جائز سمجھتا ہوں۔
مگر اسلام، اور صرف اسلام کے نام پر بنے اِس ملک کو۔۔۔۔ اپنی کُھلی آنکھوں سے، استعماری غلاموں، بے حمیت ضمیر فروشوں، بد عمل اور زرخرید “روشن خیالوں” اور کارپوریٹوکریسی کے کمیشن ایجنٹوں کے قبضے میں، جان سے پیارے پاکستان کو جاتا دیکھ کر خاموش اور بے عمل رہنے کو منافئ ایمان سمجھتا ہوں۔
“میاں صاحبان آف جاتی امرا” جیسے “سراپا اور مکمل” تاجروں کو سامنے رکھ کر۔۔۔۔۔ لبرل، سیکولر، اباحیت زدہ اور نئے “گریٹر ساؤتھ ایشیا” ( اَکھنڈ بھارت وَرش ) کا جو ایجنڈا آگے بڑھایا جارہا ہے، واللہ اُس کا صحیح اِدراک و احساس بھی ہمیں نہیں۔
پہلے پاکستان کے حصے بخرے کرکے یہ مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ کامیابی نہ ملی تو، اِس کے بخیے اُدھیڑنے اور خونم خون کرکے بے حال کردینے کی سعی کی گئی۔
اُس سے بھی کام نہ چلا تو، اِس ملک کا جغرافیہ برقرار رکھ کر، اِسے “ویلیو نیوٹرل” اور بے اَساس کرنے کی حکمتِ عملی پر اب کام چل رہا ہے۔ پھانسی، شرمین کی فلم، تحفظِ خواتین ایکٹ۔۔۔۔۔ علامہ اقبال کی مکمل “چُھٹّی”۔۔۔۔۔ یوں ہی تو نہیں!!
ہمارے ہاں، مذہبی اور دینی سیاسی قوتوں کے پر تراشے جاچکے۔ اُنہیں ہر معاملہ میں مخمصہ، گو مگو، بے یقینی اور انتشارِ فکر و نظر کی کیفیات میں مبتلا کیا جا چکا۔ اُن کی اسٹریٹ پاور کو رخصت ہوئے عرصہ ہوا۔ اُن کی پارلیمانی اور انتخابی “بیلنسنگ پاور” بے وزنی کی حالت میں ہے۔ اب یہ سب خَلا میں ہاتھ پیر چلاتی رہیں۔ نتیجہ معلوم!
اُدھر حال یہ ہے کہ ریاستی اداروں میں، فیصلہ سازی اور پالیسی سازی کے عمل میں، اِبلاغی اِداروں میں، نوجوانوں کی ذہن سازی کے مراکز (جامعات، بزنس اسکولز، لاء اسکولز) میں، اور عدالتی ایوانوں اور قانون دانی کے دائروں میں ۔۔۔۔۔۔۔ سابق اشتراکی کوچہ گَرد، اباحیت پسند، دائمی اَقدار سے نابلد، اسلام سے اِلرجِک، اور کچھ اقلیتی گروہوں، وغیرہ جیسے، “گھس بیٹھیئے” اور عیّار عناصر نے بڑا رُسوخ پالیا ہے۔
اُن کی حکمتِ عملی مسلم دنیا میں یہ ہے کہ ریاست کی چُھری اور اسلام پسندوں کو آمنے سامنے کردیا جائے۔ یہ حکمتِ عملی ہر جگہ کامیاب رہی ہے۔
“اسلام پسند اور مُحِبّانِ خدا و رسول” مجموعی طور پر، معاشرے کا غالب حصہ ہیں۔ مگر بھرپور اور زوردار انتظام ہے کہ اِس غلبہ کا وجود نظر نہ آنے پائے۔ اِن سب کو بے شمار خانوں میں بانٹ دیا جائے۔ روزمرّہ کے ایشوز اور احتجاجی “کسرتوں” میں تھکا دیا جائے۔ مُعاشرے کے ذہین طبقات کو اِن سے دُور، یا خوف زدہ، یا بے پروا کردیا جائے۔ اِنہیں وقتی، سطحی، ردّ عملی مائنڈ سیٹ اور مزاج کا خُوگر بنا دیا جائے۔
تاکہ یا تو اِن پر ریاستی وار کے در کُھل جائیں، یا یہ خود مایوسی اور تھکاوٹ کا شکار ہوکر، اُمورِ دنیا سے کنارہ کَش ہوجائیں۔
لہٰذا بھائیو!
29 فروری کے سانحے پر تو متحد رہو۔ دشمن کے گریٹر گیم کو سمجھو۔ “قانونی نِکات” اور بال کی کھال نکالنے کہاں پھنس رہے ہو؟
اس بحثابحثی اور باہم تلخ نوائی میں اُلجھائے جانے کی چال سمجھو۔
“قانون پسندی” کے درس کے پیچھے چُھپے مذموم مقاصد سے ہوشیار رہو۔
اب کہاں ہیں وہ لوگ، جو سَرے سے سزائے موت ہی کو غلط سمجھتے ہیں۔ آگے بڑھیے، ایک کمزور و ضعیف طبقہ کے سپاہی (ممتاز قادری) کو پھانسی دینے کے خلاف اُٹھنے والی آواز سے آواز ملائیے۔ آپ لوگوں کے دباؤ پر، توہینِ رسالت کے مجرموں میں سے کسی کو بھی آج تک، پھانسی نہیں دی گئی ہے۔ آپ پہلے بیٹھے رہے، لیکن حبِّ رسول کی شمع کے پروانے کو پھانسی لگ چُکی۔ اب تو زوردار لہجے میں بولیے۔
29 فروری، 2016 کے سانحے کی یاد، ہر سال مَنانے سے آپ کو بچانے کے لیے، مسلم لیگ کی حکومت نے یہ “زبردست۔ خدمتِ اَغیار” لیپ ایئر میں انجام دی ہے۔ 2020 تک، اِن کے داناؤں کا خیال ہے کہ قوم یہ سانحہ بھول چُکی ہوگی۔ کچھ نئے سانحوں سے گزر رہی ہوگی۔ کچھ نئے زخم لگائے جاچکے ہوں گے۔ 2020 میں کسے اِس لیپ ایئر والے زخم ستائیں گے؟
“مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہوگئیں!”
اُس وقت تک آپ پہلی صدی ہجری کےاہلِ مصر کی طرح، یہ بحث جاری رکھیے کہ حضرتِ عیسیٰ کا گدھا، اگر آج ہمارے سامنے آجائے تو ہمیں اُس کی تقدیس و تکریم کس طرح کرنی ہوگی۔ اُس وقت فاتحِ مصر لشکر، گھیرا ڈالے باہر بیٹھا تھا۔ والسلام!
ربنا تقبل منا۔ انک انت السمیعُ العلیم۔
و تُب علینا۔ انک انت التواب الرحیم !!!

2 تبصرے
  1. 2 March, 2016
    میرا فسر امان

    اچھا مؒمون پے
    میر افسر امان
    کراچی

    Reply
  2. 2 March, 2016
    میرا فسر امان

    ایک اچھا مضمون ہے
    میر افسر امان
    کراچی

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *